Yeh Shaam Bikhar Jaye Gi

یہ شام بکھر جائے گی

ہمیں معلوم ہے

یہ شام بکھر جائے گی

اور یہ رنگ.. کسی گوشہ بے نام میں کھو جائیں گے

یہ زمیں دیکھتی رہ جائے گی.. قدموں کے نشاں

اور یہ قافلہ....

ہستی کی گزرگاہوں سے

کسی انجان جزیرے کو نکل جائے گا

جس جگہ آج

تماشا ے طلب سے ہے جواں

محفل رنگ و مستی

کل یہاں ، ماتم یک شہر نگاراں ہو گا

آج جن رستوں پہ

موہوم تمنا کے کے درختوں کے تلے

ہم رکا کرتے ہیں,ہنستے ہیں

گزر جاتے ہیں

ان پہ ٹوٹے ہوے پتوں میں ہوا ٹھہرے گی

آج ..جس موڑ پہ ، ہم تم سے ملا کرتے ہیں

اس پہ کیا جانیے

کل کون رکے گا آ کر ...

آج اس شور میں شامل ہے

جن آوازوں کی دل دوز مہک

کل یہ مہکار اتر جاے گی, خوابوں میں کہیں ...

گھومتے گھومتے تھک جائیں گے

ہم --- فراموش زمانے کے ستاروں کی طرح

ارض موجود کی سرحد پہ

بکھر جائیں گے ....

اور کچھ دیر ، ہماری آواز

تم سنو گے تو ٹھہر جاؤ گے

دو گھڑی

رک کے گزر جاؤ گے ، چلتے چلتے

اور سہمے ہوے چوباروں میں

انہی رستوں ، انہی بازاروں میں

ہنسنے والوں کے

نئے قافلے آ جائیں گے !

ابراراحمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1499) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Abrar Ahmad, Yeh Shaam Bikhar Jaye Gi in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 93 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Abrar Ahmad.