Zinda Aadmi Se Kalam

زندہ آدمی سے کلام

زندہ آدمی سے کلام

-------------------

کبھی وقت کی سانس میں

ہونٹ الجھا کے دیکھے ہیں تم نے -------؟

کہ اس بد گماں موسموں کے مغنی کی تانیں

نہاں خانہ دل میں

گہری خموشی کی ہیبت گراتی چلی جا رہی ہیں

ازل سے ابد تک بپھرتے ہوئے

سیل بے مائیگی میں ، کبھی

دل اکھڑتے ہوئے ، شہر گرتے ہوئے

دیکھ پائے ہو تم ؟؟

کبھی بھیگے بھیگے سے دیوار و در میں

کہ بچپن کی گلیوں ، مکانوں میں

بارش کی آواز سے دل دہلتے ہوئے ..

کسی مشترک خوف کی آہٹوں سے

دھڑکتے ہوے بام و در اور زینے

مسلسل ، ہوا اور بارش کی آواز چلتی ہوئی

کبھی --- مونھ اندھیرے کی تقدیس میں

دور سے آتی گاڑی کی سیٹی کو سنتے ہوئے

تم نے سوچا ہے ان کے لیے

جن کے قدموں میں --- منزل

مسلسل عذاب اور خوابوں سے تعبیر تک دور ہے

کبھی شام کی سنسناتی ہوا میں

ٹھٹھرتی خموشی کی سہمی صدا سن کے

دروازہ کھولا ہے ان کے لیے

جن کے ہاتھوں کی لرزش میں دستک نہیں

مجھے پوچھنا ہے -------

کہ کھلتے ہوے پھول ، چلتی ہوا

اور گزرے مہ و سال کی دستکوں پر

نہ ہو سکنے والوں پہ آنسو بہائے ہیں تم نے

کہ میں

رات کی ایک ہچکی میں ٹھہری ہوئی سانس ہوں

اور تمہاری گھنی نیند کے بازووں سے

پھسلتا ہوا لمس ہوں

ابراراحمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(457) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Abrar Ahmad, Zinda Aadmi Se Kalam in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 93 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Abrar Ahmad.