Aalmoon Ko Ban Bass Dene Wale

عالموں کو بن باس دینے والے

سورج سے سائے کی توقع بادل سے سنہری دھوپ کی

کانٹوں سے مہکتے پھول کی خوشبو صحرا سے ہریالی کی

کیسے بھولے آپ ہیں صاحب کیسی توقع رکھتے ہیں

کیچڑ میں جب آپ چلیں گے پاؤں تو گندے ہوں گے ہی

جھوٹوں کی صحبت میں رہ کر سچ کیسے کہہ پائیں گے

مرے ہوئے انساں کے لحم سے کیوں رغبت رکھتے ہیں آپ

اب بھی تھوڑا وقت بہت ہے قلب ماہیت کر لیں

اہل ہوس کے سامنے جھک کے

بونوں کی ثنا میں بے خود ہیں

اپنے جی کا سودا کر کے لوگوں کی ملامت سہتے ہیں

بہت ہوا بس بند کریں اب اپنی ضمیر فروشی کو

دنیا والے سوچتے ہوں گے عالم کیوں ایسے ہیں اب

لیکن ان کو کون بتائے

آپ نے زر اور جسم کی خاطر

جاہل کو توقیر ہے بخشی عالم کو بن باس دیا ہے

اور عالم تجھ کذب صفت کو محو حیرت تاک رہا ہے

علم جو شہر علم کے باہر اب بھی گریہ کرتا ہے

اپنی اور تیری حالت پر غم کے آنسو روتا ہے

کاش کہ ہو توفیق ذرا سی

تھوڑا پشیماں ہو لیں آپ

توبہ کی منزل سے پہلے

اپنی صورت دیکھیں آپ

ابوبکر عباد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(701) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Abu Bakr Abbad, Aalmoon Ko Ban Bass Dene Wale in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 19 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.2 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Abu Bakr Abbad.