Nahi Batana Kahan Kiya Hai Or Kiya Nahi Hai

نہیں بتانا کہاں کیا ہے اور کیا نہیں ہے

نہیں بتانا کہاں کیا ہے اور کیا نہیں ہے

تماشا دیکھتے رہنا ہے بولنا نہیں ہے

میں جانتا ہوں یہ گتھی سلجھنے والی نہیں

مجھے خبر ہے کہ اس ڈور کا سرا نہیں ہے

خدا خبر وہ یہ سچ کیسے جھیلتی ہوگی

کہ اس کے عشق میں اب کوئی مبتلا نہیں ہے

کہ جس کی یاد سے دل اب بھی بیٹھ جاتا ہے

مزہ تو یہ ہے کہ وہ کوئی سانحہ نہیں ہے

تو اس حساب سے آگے نہ بڑھ سکا افسوس

کہ اس میں فائدہ ہے ، اس میں فائدہ نہیں ہے

تو کیا میں اس لیے رکھوں خدائی پر ایمان

کہ اس جہان میں اچھائی کا صلہ نہیں ہے

تری خوشی بھی مرا مسئلہ نہیں ہے اب

ترا ملال بھی میرا معاملہ نہیں ہے

میں ایسی نفرت _ خالص میں مبتلا ہوں عدیل

ذرا بھی جس میں محبت کا شائبہ نہیں ہے

عدیل شاکر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(481) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Adeel Shakir, Nahi Batana Kahan Kiya Hai Or Kiya Nahi Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 49 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.7 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Adeel Shakir.