Hum Apne Zakhaam Sabhi Ko Dikha Nahi Sakte

ہم اپنے زخم سبھی کو دکھا نہیں سکتے

ہم اپنے زخم سبھی کو دکھا نہیں سکتے

جو شکوہ تم سے ہے سب کو سنا نہیں سکتے

مرے خیال کی گہرائی کو ذرا سمجھو

کہ صرف لفظ تو مطلب بتا نہیں سکتے

ملال یہ ہے کہ ساقی تو بن گئے صاحب

شراب ہاتھ میں ہے اور پلا نہیں سکتے

عجب ہے پھول کی فطرت اسے مسل کر تم

مہکتے ہاتھوں کی خوشبو چھپا نہیں سکتے

لکھا گیا جو مقدر میں حرف آخر ہے

تم اپنی مرضی سے اس کو مٹا نہیں سکتے

ہزاروں حیلے بہانے تراش لو پھر بھی

تم اپنے چہرے کی خفت چھپا نہیں سکتے

اب ایک ہم ہیں کہ صدیاں گزار دیں عادلؔ

اور ایک وہ ہیں کہ لمحہ بتا نہیں سکتے

احمد عادل

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(792) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Ahmad Adil, Hum Apne Zakhaam Sabhi Ko Dikha Nahi Sakte in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 16 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.7 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Ahmad Adil.