1973 Ki Aik Nazam

1973 کی ایک نظم

یہاں تک ہم آ گئے ہیں

اور ہاں تمہارا پتہ انہیں لوگوں سے معلوم ہوا جو مر چکے تھے

جب ہم چلے تھے تو آدھی عمر بتانے کے پچھتاوے کے سامنے دن ڈوب رہا تھا

ایک گھوڑا کھڑا تھا

اور ہانپ رہا تھا

ایک منٹ ٹھہرو میں تھوڑی سی چائے پی لوں تو آگے بڑھوں

میرے ہاتھ میں یہ جو سفید کاغذ ہے اسے تمہاری حماقت نہیں چھین سکتی

اور نہ ہوا اڑا سکتی ہے

اگر تم تیرنا جانتے ہو تو زندگی بہت بری ہوتے ہوئے بھی بہت بری نہیں

تم بنا تھکے ہوئے بھی کئی سال تک تیر سکتے ہو

اگر تمہارے دل میں ایک یاد بھی باقی ہے

تو جگنوؤں سے بھرے ہوئے جنگل اس دنیا میں اب بھی ہیں

ایک جگنو کہیں سے پکڑ لو

اور اسے اپنی جیب میں رکھ لو

اور اندھیرے میں چلو

روشنی تمہاری جیب سے چھن چھن کے راستہ سمجھائے گی

مگر سنو

جب راستہ مل جائے تو جگنو کو چھوڑ دینا

آزاد کر دینا

احمد ہمیش

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(423) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Ahmad Hamesh, 1973 Ki Aik Nazam in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 42 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.2 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Ahmad Hamesh.