Aisa Bhi Nahi Ke

ایسا بھی نہیں کہ

ایسا بھی نہیں کہ مجھے زندگی کے پیڑ کے پاس

بے آس اور بے سہارا چھوڑ دیا گیا ہو

میں نے ابھی ابھی گلہریوں کی آواز سنی ہے

گلہریاں میرے لئے

بہشت کے اخروٹ لا رہی ہیں

سوائے اس کے کہ آدم زاد کہیں دکھائی نہیں دیتا

مگر جنگل بول رہا ہے کہ اس کے بول میں

میری بچھڑی ہوئی آواز شامل ہے

میرے بال بچوں کا پیار شامل ہے

سوائے اس کے کہ جن لوگوں نے مجھے بے نام

جزیروں میں لے جانے کا وعدہ کیا تھا

وہ اب کہیں دکھائی نہیں دیے

تو اب میں کس سے کہوں

کہ کہنے سننے والا زندگی کا نظام تو باقی نہیں رہا

اوائے اس کے کہ مٹی کہہ رہی ہے

کہ وہ ان گنت پیڑ پودے تب اگائے گی

جب میں یہاں ہوں گا ہی نہیں

احمد ہمیش

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(283) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Ahmad Hamesh, Aisa Bhi Nahi Ke in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 42 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Ahmad Hamesh.