Beeswin Sadi Ka Insaan

بیسویں صدی کا انسان

مجھے سمیٹو

میں ریزہ ریزہ بکھر رہا ہوں

نہ جانے میں بڑھ رہا ہوں

یا اپنے ہی غبار سفر میں ہر پل اتر رہا ہوں

نہ جانے میں جی رہا ہوں

یا اپنے ہی تراشے ہوئے نئے راستوں کی تنہائیوں میں ہر لحظہ مر رہا ہوں

میں ایک پتھر سہی مگر ہر سوال کا بازگشت بن کر جواب دوں گا

مجھے پکارو مجھے صدا دو

میں ایک صحرا سہی مگر مجھ پہ گھر کے برسو

مجھے مہکنے کا ولولہ دو

میں اک سمندر سہی مگر، آفتاب کی طرح مجھ پہ چمکو

مجھے بلندی کی سمت اڑنے کا حوصلہ دو

مجھے نہ توڑو کہ میں گل تر سہی

مگر اوس کے بجائے لہو میں تر ہوں

مجھے نہ مارو

میں زندگی کے جمال اور گہماگہمیوں کا پیامبر ہوں

مجھے بچاؤ کہ میں زمیں ہوں

کروڑوں کروڑوں کی کائنات بسیط میں صرف میں ہی ہوں

جو خدا کا گھر ہوں

احمد ندیم قاسمی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(235) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Ahmad Nadeem Qasmi, Beeswin Sadi Ka Insaan in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 135 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 5 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Ahmad Nadeem Qasmi.