Chamak Rahay Hain Daranti Ke Taiz Dandanay

چمک رہے ہیں درانتی کے تیز دندانے

چمک رہے ہیں درانتی کے تیز دندانے

خمیدہ ہل کی یہ الھڑ جوان نور نظر

سنہری فصل میں جس وقت غوطہ زن ہوگی

تو ایک گیت چھڑے گا مسلسل اور دراز

ندیمؔ ازل سے ہے تخلیق کا یہی انداز

ستارے بوئے گئے آفتاب کاٹے گئے

ہم آفتاب ضمیر جہاں میں بوئیں گے

تو ایک روز عظیم انقلاب کاٹیں گے

کوئی بتائے زمیں کے اجارہ داروں کو

بلا رہے ہیں جو گزری ہوئی بہاروں کو

کہ آج بھی تو اسی شان بے نیازی سے

چمک رہے ہیں درانتی کے تیز دندانے

سنہری فصل تک اس کی چمک نہیں موقوف

کہ اب نظام کہن بھی اسی کی زد میں ہے

خمیدہ ہل کی یہ الھڑ جوان نور نظر

جب اس نظام میں لہرا کے غوطہ زن ہوگی

تو ایک گیت چھڑے گا مسلسل اور دراز

ندیمؔ ازل سے ہے تخلیق کا یہی انداز

ستارے بوئے گئے آفتاب کاٹے گئے

احمد ندیم قاسمی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1016) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Ahmad Nadeem Qasmi, Chamak Rahay Hain Daranti Ke Taiz Dandanay in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 135 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 5 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Ahmad Nadeem Qasmi.