Khara Tha Kab Say Zamee Peeth Par Uthaye Howay

کھڑا تھا کب سے زمیں پیٹھ پر اٹھائے ہوئے

کھڑا تھا کب سے زمیں پیٹھ پر اٹھائے ہوئے

آب آدمی ہے قیامت سے لو لگائے ہوئے

یہ دشت سے امڈ آیا ہے کس کا سیل جنوں

کہ حسن شہر کھڑا ہے نقاب اٹھائے ہوئے

یہ بھید تیرے سوا اے خدا کسے معلوم

عذاب ٹوٹ پڑے مجھ پہ کس کے لائے ہوئے

یہ سیل آب نہ تھا زلزلہ تھا پانی کا

بکھر بکھر گئے قریے مرے بسائے ہوئے

عجب تضاد میں کاٹا ہے زندگی کا سفر

لبوں پہ پیاس تھی بادل تھے سر پہ چھائے ہوئے

سحر ہوئی تو کوئی اپنے گھر میں رک نہ سکا

کسی کو یاد نہ آئے دیے جلائے ہوئے

خدا کی شان کہ منکر ہیں آدمیت کے

خود اپنی سکڑی ہوئی ذات کے ستائے ہوئے

جو آستین چڑھائیں بھی مسکرائیں بھی

وہ لوگ ہیں مرے برسوں کے آزمائے ہوئے

یہ انقلاب تو تعمیر کے مزاج میں ہے

گرائے جاتے ہیں ایواں بنے بنائے ہوئے

یہ اور بات مرے بس میں تھی نہ گونج اس کی

مجھے تو مدتیں گزریں یہ گیت گائے ہوئے

مری ہی گود میں کیوں کٹ کے گر پڑے ہیں ندیمؔ

ابھی دعا کے لیے تھے جو ہاتھ اٹھائے ہوئے

احمد ندیم قاسمی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(572) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Ahmad Nadeem Qasmi, Khara Tha Kab Say Zamee Peeth Par Uthaye Howay in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 135 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.2 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Ahmad Nadeem Qasmi.