Lazzat Aagahi

لذت آگہی

میں عجیب لذت آگہی سے دو چار ہوں

یہی آگہی مرا لطف ہے مرا کرب ہے

کہ میں جانتا ہوں

میں جانتا ہوں کہ دل میں جتنی صداقتیں ہیں

وہ تیر ہیں

جو چلیں تو نغمہ سنائی دے

جو ہدف پہ جا کے لگیں تو کچھ بھی نہ بچ سکے

کہ صداقتوں کی نفی ہماری حیات ہے

مرے دل میں ایسی حقیقتوں نے پناہ لی ہے

کہ جن پہ ایک نگاہ ڈالنا

سورجوں کو بطون جاں میں اتارنا ہے

میں جانتا ہوں

کہ حاکموں کا جو حکم ہے

وہ دراصل عدل کا خوف ہے

وہ سزائیں دیتے ہیں

اور نہیں جانتے

کہ جتنی سزائیں ہیں

وہ ستم گری کی ردائیں ہیں

مجھے علم ہے

یہی علم میرا سرور ہے یہ علم میرا عذاب ہے

یہی علم مرا نشہ ہے

اور مجھے علم ہے

کہ جو زہر ہے وہ نشے کا دوسرا نام ہے

میں عجیب لذت آگہی سے دو چار ہوں

احمد ندیم قاسمی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(406) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ شاعری

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Ahmad Nadeem Qasmi, Lazzat Aagahi in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 135 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.6 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Ahmad Nadeem Qasmi.