Din Guzartaa Hai Kahan Raat Kahan Hoti Hai

دن گزرتا ہے کہاں رات کہاں ہوتی ہے

دن گزرتا ہے کہاں رات کہاں ہوتی ہے

درد کے ماروں سے اب بات کہاں ہوتی ہے

ایک سے چہرے تو ہوتے ہیں کئی دنیا میں

ایک سی صورت حالات کہاں ہوتی ہے

زندگی کے وہ کسی موڑ پہ گاہے گاہے

مل تو جاتے ہیں ملاقات کہاں ہوتی ہے

آسمانوں سے کوئی بوند نہیں برسے گی

جلتے صحراؤں میں برسات کہاں ہوتی ہے

یوں تو اوروں کی بہت باتیں سنائیں ان کو

اپنی جو بات ہے وہ بات کہاں ہوتی ہے

جیسی آغاز محبت میں ہوا کرتی ہے

ویسی پھر شدت جذبات کہاں ہوتی ہے

پیار کی آگ بنا دیتی ہے کندن جن کو

ان کے ذہنوں میں بھلا ذات کہاں ہوتی ہے

احمد راہی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(750) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Ahmed Rahi, Din Guzartaa Hai Kahan Raat Kahan Hoti Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 43 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.9 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Ahmed Rahi.