Tha Aik Saya Sa Pechay Pechay Jo Mur Ke Dekha To Kuch Nahi Tha

تھا ایک سایہ سا پیچھے پیچھے جو مڑ کے دیکھا تو کچھ نہیں تھا

تھا ایک سایہ سا پیچھے پیچھے جو مڑ کے دیکھا تو کچھ نہیں تھا

اب اپنی صورت کو دیکھتا ہوں کبھی جو صد پیکر آفریں تھا

وہ پھر بھی جاں سے عزیز تر تھا طبیعتیں گو جدا جدا تھیں

اگرچہ ہم زاد بھی نہیں تھا وہ میرا ہم شکل بھی نہیں تھا

میں رک سکوں گا ٹھہر سکوں گا تھکن سفر کی مٹا سکوں گا

کہیں تو کوئی شجر ملے گا تمام رستے یہی یقیں تھا

کئی چٹانیں گداز جسموں میں اپنی گرمی سے ڈھل گئی تھیں

بتوں کے قصے میں تیشہ کاروں کا تذکرہ بھی کہیں کہیں تھا

نہ جانے کیا دھند درمیاں تھی کہ کوہ کن کی نظر نہ پہنچی

جہاں سے پھوٹا تھا چشمۂ ماہ شب کا پتھر بھی تو وہیں تھا

میں اپنی آواز کے تعاقب میں ماورائے نظر بھی پہنچا

مگر پلٹ کر نہ اس نے پوچھا کہ میں خلا کے بہت قریں تھا

وہی مناظر لٹے لٹے سے وہی شکستہ مکان اخترؔ

میں روزمرہ کے راستے سے جو گھر میں پہنچا بہت حزیں تھا

اختر ہوشیارپوری

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(500) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Akhtar Hoshiarpuri, Tha Aik Saya Sa Pechay Pechay Jo Mur Ke Dekha To Kuch Nahi Tha in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 45 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.6 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Akhtar Hoshiarpuri.