Dil Shakista Hareef Shabab Ho Nah Saka

دل شکستہ حریف شباب ہو نہ سکا

دل شکستہ حریف شباب ہو نہ سکا

یہ جام ظرف نواز شراب ہو نہ سکا

کچھ ایسے رحم کے قابل تھے ابتدا ہی سے ہم

کہ ان سے بھی ستم بے حساب ہو نہ سکا

نظر نہ آیا کبھی شب کو ان کا جلوۂ رخ

یہ آفتاب کبھی ماہتاب ہو نہ سکا

نگاہ فیض سے محروم برتری معلوم

ستارہ چمکا مگر آفتاب ہو نہ سکا

ہے جام خالی تو پھیکی ہے چاندنی کیسی

یہ سیل نور ستم ہے شراب ہو نہ سکا

یہ مے چھلک کے بھی اس حسن کو پہنچ نہ سکی

یہ پھول گھل کے بھی اس کا شباب ہو نہ سکا

کسی کی شوخ نوائی کا ہوش تھا کس کو

میں ناتواں تو حریف خطاب ہو نہ سکا

ہوں تیرے وصل سے مایوس اس قدر گویا

کبھی جہاں میں کوئی کامیاب ہو نہ سکا

وہ پوچھتے ہیں ترے دل کی آرزو کیا ہے

یہ خواب ہائے کبھی میرا خواب ہو نہ سکا

تلاش معنیٔ ہستی میں فلسفہ نہ خرد

یہ راز آج تلک بے حجاب ہو نہ سکا

شراب عشق میں ایسی کشش سی تھی اخترؔ

کہ لاکھ ضبط کیا اجتناب ہو نہ سکا

اختر شیرانی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1440) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Akhtar Sheerani, Dil Shakista Hareef Shabab Ho Nah Saka in Urdu. This famous Urdu Shayari is a , and the type of this Nazam is Urdu Poetry. Also there are 82 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 5 out of 5 stars. Read the poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Akhtar Sheerani.