Aalam Jevan Khail Tamasha Danai Nadani Hai

عالمؔ جیون کھیل تماشہ دانائی نادانی ہے

عالمؔ جیون کھیل تماشہ دانائی نادانی ہے

تب تک زندہ رہتے ہیں ہم جب تک اک حیرانی ہے

آگ ہوا اور مٹی پانی مل کر کیسے رہتے ہیں

دیکھ کے خود کو حیراں ہوں میں جیسے خواب کہانی ہے

آوازوں کا جنگل بھی ہے سناٹوں کا صحرا بھی

ایک طرف آبادی مجھ میں ایک طرف ویرانی ہے

اس منظر کو آخر کیوں میں پہروں تکتا رہتا ہوں

اوپر ساکت چٹانیں ہیں تہ میں بہتا پانی ہے

میرے بچو اس خطے میں پیار کی گنگا بہتی تھی

دیکھو اس تصویر کو دیکھو یہ تصویر پرانی ہے

عالمؔ مجھ کو بیماری ہے نیند میں چلتے رہنے کی

راتوں میں بھی کب رکتا ہے مجھ میں جو سیلانی ہے

عالم خورشید

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(406) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Alam Khurshid, Aalam Jevan Khail Tamasha Danai Nadani Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 71 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Alam Khurshid.