Marey Hisar Se Bahar Bula Raha Hai Mujhe

مرے حصار سے باہر بلا رہا ہے مجھے

مرے حصار سے باہر بلا رہا ہے مجھے

کوئی حسین سا منظر بلا رہا ہے مجھے

جہاں مقیم تھا میں ایک اجنبی کی طرح

وہی مکان اب اکثر بلا رہا ہے مجھے

جو تھک کے بیٹھ گیا ہوں میں بیچ رستے میں

تو اب وہ میل کا پتھر بلا رہا ہے مجھے

ہوا ہے تشنہ لبی سے معاہدہ میرا

عبث ہی روز سمندر بلا رہا ہے مجھے

بجھا دئے ہیں اسی نے کئی چراغ مرے

جو ایک شمع جلا کر بلا رہا ہے مجھے

وہ جانتا ہے میں اس کے ستم کا خوگر ہوں

سو بار بار ستم گر بلا رہا ہے مجھے

بلا رہا ہے تو کھل کر کبھی بلائے وہ

بس اک اشارے سے اکثر بلا رہا ہے مجھے

دیار غیر میں رہتا ہوں میں مگر عالمؔ

ہر ایک لمحہ مرا گھر بلا رہا ہے مجھے

عالم خورشید

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(474) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Alam Khurshid, Marey Hisar Se Bahar Bula Raha Hai Mujhe in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 71 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.3 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Alam Khurshid.