Aadhi Mout Ka Janam

آدھی موت کا جنم

اپنے ادھورے وجود کے ساتھ

میں نے اپنی آدھی قبر ماں کی کوکھ میں بنائی

اور آدھی باپ کے دل میں

میں اپنی دونوں قبروں میں

تھوڑا تھوڑا جی رہا ہوں

تھوڑا تھوڑا مر رہا ہوں

مسیحا نے اپنے نسخے میں

میری تحلیل کی تجویز لکھی ہے

بابا نے میرے دوبارہ جنم کا مشورہ مانگا

اور ماں نے میرے بے نام کتبے کو آنسوؤں سے صاف کیا

تب

میرے ادھورے اور پورے جنم کا فیصلہ مجھ پر چھوڑ دیا گیا

دو قبروں میں بنے وجود کا تخمینہ لگاتے ہوئے

سوچتا ہوں

کیا کروں؟

مرنے کے لیے جی اٹھوں؟

یا جینے کے لیے ملتوی ہو جاؤں؟

پیارے رشتو!

میں ایک طرف دعاؤں کے کفن میں لپٹا پڑا ہوں

اور دوسری طرف

میرے سرہانے سورج مکھی کا پھول دھرا ہے

انجم سلیمی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(225) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Anjum Saleemi, Aadhi Mout Ka Janam in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 101 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Anjum Saleemi.