Dhoop Ho Gaye Saye Jaal Gaye Shajar Jaise

دھوپ ہو گئے سائے جل گئے شجر جیسے

دھوپ ہو گئے سائے جل گئے شجر جیسے

جم گئی ہے دھرتی پر اب کے دوپہر جیسے

زیست کے خرابے میں اک سیاہ گھر دل کا

اور دل میں یاد اس کی روشنی کا در جیسے

کیسے کیسے ہنگامے گھیرے رکھتے تھے دن رات

لگ گئی نگاہوں کو اپنی ہی نظر جیسے

یا تو آنے سے پہلے گھر کا پوچھتے احوال

آ گئے تو اب کیجے ہو گزر بسر جیسے

ایسے تکتا رہتا ہوں اس گلی کے لوگوں کو

لینے آئے گا کوئی میری بھی خبر جیسے

مدتوں میں گزرا تھا اس کے شہر سے لیکن

سب مکان لگتے تھے مجھ کو اس کے گھر جیسے

نقش گاہ ہستی میں دیکھی اپنی بھی تصویر

ایک کاغذ سادہ آنسوؤں سے تر جیسے

چاہتی ہے اب وحشت دور تک بیابانی

کاٹنے کو آتے ہیں گھر کے بام و در جیسے

مجھ سے کیا سہے جاتے ان کی بزم کے آداب

اشک مانگتے تھے وہ اشک بھی گہر جیسے

میں بھی کتنا سادہ ہوں رہ گزر پہ بیٹھا ہوں

روک لے گا وہ پاؤں مجھ کو دیکھ کر جیسے

میری خواہشیں انجمؔ جیسے ناچتی پریاں

میرا سارا مستقبل خواب کا نگر جیسے

انوار انجم

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(427) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Anwar Anjum, Dhoop Ho Gaye Saye Jaal Gaye Shajar Jaise in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 26 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Anwar Anjum.