Rang Rasiya

رنگ رسیا

تم درمیان میں آکے کیوں کھڑے ہو

میرے دائرے سے کیسے گزرو گے

تم اسے کاٹ نہیں سکتے

میں نے اپنے دائرے کو توڑ دیا ہے

اور چار سمت خود کو بکھیر دیا ہے

ایک سمت۔۔۔میں اپنے بدن کے رنگ

خود اپنے اندر اتار دیتی ہوں

دوسری سمت خلا کی بے رنگی میں

رنگ گھولتے گھولتے

بے رنگ ہو جاتی ہوں

تیسری سمت،بے دلی کا رنگ دیکھتی رہتی ہوں

اور تیز تیز قدموں سے آگے نکل جاتی ہوں

چوتھی سمت،دل کا رنگ ہتھیلی کی رگوں میں

ڈھونڈتی رہتی ہوں

تکثیریت کی خواہش

نہ کاسنی ہوتی ہے نہ خاکی

انگلیاں کاغذ میں چھپے رنگوں کو

الٹتی پلٹتی رہتی ہیں

اور اندھی کر دیتی ہیں رات کی آنکھ

چچوڑ دیتی ہیں دن کے بدن کی ہڈیاں

اور گھڑتی رہتی ہیں خواب کی خراد پر لفظ

لفظوں کو رنگوں سے آلودہ کرنے سے کیا ہو گا؟

میں تمھارا رنگ پہچانتی ہوں

تم نے مجھے نے نہیں دیکھا

میری تصویر دیکھی ہے

تم میرا رنگ کیسے جان سکتے ہو؟

عارفہ شہزاد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(829) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Arifa Shahzad, Rang Rasiya in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 63 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Arifa Shahzad.