Yeh Aitmad Mujhe Subh O Shaam Kafi Hai

یہ اعتماد مجھے صبح و شام کافی ہے

یہ اعتماد مجھے صبح و شام کافی ہے

کسی نظر میں مرا احترام کافی ہے

فراق رات بھی کٹ جائے گی کسی صورت

کسی کی یاد میں گزری ہے شام ، کافی ہے

عجب نہیں کہ کسی روز مجھ سے آن ملے

دیارِ خواب میں جس کا خرام کافی ہے

اب اُس کا قرب میسر ہو لازمی تو نہیں

ہے اس کے چاہنے والوں میں نام، کافی ہے

برائے لذتِ کام و دہن زمانے میں

بنامِ عشق فقط ایک جام کافی ہے

اب اور ظلم گوارا نہیں کسی صورت

جو ہو چکا ہے یہاں قتلِ عام، کافی ہے

یہ اور بات کہ ماتھے پہ اک شکن بھی نہیں

درونِ ذات مگر انہدام کافی ہے

کوئی چلے تو کہاں تک قدم ملا کے چلے

میاں یہ وقت ہے اور تیز گام کافی ہے

مری بساط سے بڑھ کر ملا مجھے ارشد

دیا ہے جو بھی خدا نے مقام کافی ہے

ارشد شاہین

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(635) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Arshad Shaheen, Yeh Aitmad Mujhe Subh O Shaam Kafi Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 33 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.6 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Arshad Shaheen.