بند کریں
شاعری مضامینانتخاب ادبی فورم انحراف کی طرف سے عبدالباسط صائم کی شاعری سے انتخاب

انتخاب کے مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ادبی فورم انحراف کی طرف سے عبدالباسط صائم کی شاعری سے انتخاب
بہاولپور سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عبد الباسط صائم ( پی ایچ ڈی) جو اے بی صائم کے قلمی نام سے بھی لکھتے رہے ہیں ،پیشے کے اعتبار سے انجنئیر ہیں اور اس وقت جنوبی کوریا میں مقیم ہیں۔ انحراف انتظامیہ کا بھی حصہ ہیں اور فی البدیہہ مشاعرہ کے نمایاں ترین شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا اولیں شعری مجموعہ ایک عشرہ پہلے شائع ہوا تھا

بہاولپور سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عبد الباسط صائم ( پی ایچ ڈی) جو اے بی صائم کے قلمی نام سے بھی لکھتے رہے ہیں ،پیشے کے اعتبار سے انجنئیر ہیں اور اس وقت جنوبی کوریا میں مقیم ہیں۔ انحراف انتظامیہ کا بھی حصہ ہیں اور فی البدیہہ مشاعرہ کے نمایاں ترین شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا اولیں شعری مجموعہ ایک عشرہ پہلے شائع ہوا تھا جب وہ طالبِ علم تھے۔ اب ان کا دوسرا شعری مجموعہ زیر ترتیب و اشاعت ہے۔ ان کے شعر میں سماجی شعور اور عصری حسیت کی جھلک نمایاں ہے۔ ہم نے ان کے چند اشعار جمع کئے ہیں تاکہ احباب کو ان کے رنگ و آہنگ کا اندازہ ہو سکے۔ امید ہے آپ حوصلہ افزائی فرمائیں گے

اک عمر دل کی بات سمجھنے میں لگ گئی
اک عمر اور ہو تو کروں دل کی بات میں

ہاتھ پھیلاوں تو آجاتی ہیں چڑیاں صائم
میں نے بچپن میں درختوں کو دیا تھا پانی

مرے چراغ سے الجھی تھی ایک دن صائم
ہوا کے ہاتھ پہ اب تک نشان باقی ہے

آدھی پنسل توڑ کر بچے نے دے دی دوست کو
اور اس کے بعد اس نے ، جو لکھا پورا لکھا

تم جو آسیبِ محبت سے ڈراتے ہو مجھے
تم نے تعویذِ فقیری نہیں دیکھا میرا

خدا نے جنت الفردوس کی تزئین کیا کی ہے
میں اپنی ماں کے قدموں سے لپٹ کر دیکھ لیتا ہوں

رات اور چاند نے مل کر مجھ سے تیری ساری باتیں کیں
کتنے پیار سے ہم تینوں نے کتنی پیاری باتیں کیں

اک حقیقت سی بن آئی ہے کہانی میں سے
لعل نکلے ہیں اسی آنکھ کے پانی میں سے

خدا اور آدمی کے درمیاں تو جو ہوا، ہوا
کچھ اب یہاں کی سوچیئے ، وہاں تو جو ہوا، ہوا

کب تلک ہم کو وہ کرتے ہیں گوارا، دیکھئے
ڈوبتا ہے یا ابھرتا ہے ستارا، دیکھئے

مری کہانی کا عنوان جنگ تھا لیکن
مری کہانی میں اک فاختہ بچی باقی

غریبِ شہر کے بچوں کے نام تھے ان پر
امیرِ شہر نے کوڑے میں جتنے پھل پھینکے

لکھ دی میں نے عشق کہانی ، پڑھ کر رو، یا، رو کر پڑھ
یا پڑھ کر دیوانہ ہو جا ، یا دیوانہ ہو کر پڑھ

پھول کتابیں اور اک عینک
تیرے بعد ، یہی سب کچھ ہے

اس کے نام میں سارے سُر ہیں
باقی دنیا شور ہے بھائی
اردو کی اک بیٹی ، دلّی
اک بیٹا ، لاہور ہے بھائی

میں نہیں آیا محبت کی کہانی میں ، مگر
میرے لکھے ہوئے کردار کئی آئے گئے
مجھ سے ہوتی نہیں لفظوں کی تجارت ورنہ
زیست میں تجھ سے خریدار کئی آئے گئے

بیٹھے بیٹھے جب بھی ماں کی یاد آنے لگ گئی
خود کو بڑھیا کی کہانی خود سنا کر سو گئے

حرامی وہ نہیں فٹ پاتھ جن کو گود لیتا ہے
حرامی وہ ہیں جو بچے سڑک پر پھینک جاتے ہیں

دیکھ کر اپنی کہانی کو ، یقیں ہوتا ہے
کہ جو ہوتا ہے، حقیقت میں نہیں ہوتا ہے

شہر کی گلیوں میں بیگار کے دھکے کھا کر
باپ کے خون پسینے کا پتا چلتا ہے

گو ظاہراً قلم کو چلاتا تو میں ہی ہوں
پر سچ ہے یہ، کہ مجھ کو چلاتا ہے یہ قلم

صائم شہر کے فٹ پاتھوں پر جتنے بوڑھے لیٹے تھے
ان کو بے گھر کرنے والے، ان کے اپنے بیٹے تھے

خدا سے معرکہ لڑتے ہوئے شیطان ، سے پہلے
ہمیں لڑنا پڑے گا سر پھرے انسان سے پہلے

بے عشق ہو گر عقل تو انسان ادھورا
بے عقل ہو گر عشق تو ایمان ادھورا
ہو آنکھ نہ گر دل کی تو بے معنی ہے دنیا
ہودل نہ اگر آنکھ میں، وجدان ادھورا

اگر عمل ہو تو علم اک بے مثال دولت
نہ ہو تو سب علم رائیگاں ہے، عذابِ جاں ہے

(1) ووٹ وصول ہوئے

: مضامین سےمتعلقہ شعراء