بند کریں
شاعری مضامینانتخاب ادب نامہ کی طرف سے عزیز فِصل کی شاعری سے انتخاب

انتخاب کے مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ادب نامہ کی طرف سے عزیز فِصل کی شاعری سے انتخاب
غم و غصے اور پریشانیوں سے بھرے اس معاشرے میں کچھ شخصیات ایسی بھی ہیں جو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے لوگوں کے افسردہ چہروں پر اپنی چلبلی باتوں سے ہنسی لے آتے ہیں شرارت اور چلبلے پن سے بھرپور مسکراتی ، گدگداتی شاعری کرنے والوں میں ایک اہم نام جناب ڈاکٹر عزیز فیصل کا بھی ہے.
غصے اور پریشانیوں سے بھرے اس معاشرے میں کچھ شخصیات ایسی بھی ہیں جو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے لوگوں کے افسردہ چہروں پر اپنی چلبلی باتوں سے ہنسی لے آتے ہیں ۔ شرارت اور چلبلے پن سے بھرپور مسکراتی ، گدگداتی شاعری کرنے والوں میں ایک اہم نام جناب ڈاکٹر عزیز فیصل کا بھی ہے. تعلیم پی ایچ ڈی ایجولیشن ،آبائی شہر کندیاں ضلع میانوالی، اسلام آباد کے ایک سکول میں گریڈ 19 میں پرنسپل، نعت نگار بهی ہیں۔ اسلام آباد میں مقیم ہے اور اسلام آباد کے حلقے ارباب ذوق سے منسلک ہونے کے ساتھ ساتھ ملک میں ہونے والے بیشتر مشاعروں اور نشستوں میں مسکراہٹ کا سامان مہیا کرتے ہیں۔
ان کی گدگداتی شاعری سے انتخاب آپ احباب کی نظر

کر دیا قیس نے لیلیٰ سے تقاضا ، ھٰذا
نام اب کر دو مرے خود ہی پلازا ، ھٰذا
خواب میں آ کے چڑیلیں اسے سمجھاتی ہیں
مت مَلو اتنا بھی رخسار پہ غازا، ھٰذا
اس نے پوچھا کہ مجھے گفٹ میں کیا دو گے تم؟
تھام کر دل کومیں کہنے لگا،ھٰذا ھٰذا
صاحب خانہ سے کہنے لگا باذوق ڈکیت
قبل از ڈاکہ غزل دیکھئےتازہ، ھٰذا

فیس بک پر جو تمھارے لیے گلنار تھی میں تھا
وہ جو الہڑ سی بڑی شوخ سی مٹیار تھی میں تھا
تم کو یہ جان کر ممکن ہے پریشانی ہو
وہ جو معقول سے رشتے کی طلبگار تھی میں تھا
کورٹ میرج کے فضائل جو بتاتے تھے وہ تم تھے
گھر سے جو بھاگ کے جانے پہ بھی تیار تھی میں تھا

وہ میرے شانوں پہ یوں رنج ہجر ڈال گئی
کماد جیسے ٹرالی پہ لادے جاتے ہیں

کودے ہیں اس کے صحن میں دو چار شیر دل
ہم فیس بک کی وال سے آگے نہیں گئے
وہ ساڑهی، جیولری کے تحائف پہ تهی بضد
ہم سو روپے کی شال سے آگے نہیں گئے

گلے کے واسطے جیسے مضر ہوتی ہے کهٹی شے
خرابی کان میں لاتی ہے ایسے ہی غزل ماٹهی
نہ یہ قانون کام آیا تها رانجهے کے ذرا سا بهی
اسی کو بهینس ملتی ہے ،ہو جس کے ہاته میں لاٹهی

مرے خوابوں میں آتی ہے مسلسل
یہ لڑکی کتنی لوفر ہو گئی ہے

میں نے سنایا اس کو جو اردو میں حال دل
کہنے لگی غلط ہیں تمهارے تلفظات

میں نے لکھا کہ کیا مرا حلیہ خراب ہے؟
اس نے لکھا نہیں نہیں ،املا خراب ہے
واضح ضرور ہو گا یہ سی ٹی سکین سے
مرغی کے پیٹ میں ہے جو انڈا، خراب ہے

فیس بک کے مخصوص ٹیگ باز
--------------------------------
کئی مرد شاعروں کا
ہے یہ شغل فیس بک پر
کہ غزل نئی کو فوراً، ہوا سینڈ کرنا لازم
سبھی ٹین ایجروں سے کئی ینگ آنٹیوں تک
سو بہت خلوص دل سے
یہی کام کر گزرنا
کبھی اِ س کو ٹیگ کرنا، کبھی اُس کو ٹیگ کرنا

وه حسب شہر کر لیتا ہے مسلک میں بهی تبدیلی
کراچی میں جو سنی ہے،وہ پنڈی میں وہابی ہے
پیاض اپنی وہ لے جائیں سخن کی ورکشاپوں میں
وه جن کی شاعری کے رنگ، پسٹن میں خرابی ہے
اکٹها کر نه دیں جاناں ہمیں حالات ہی اک دن
تمهارے پاس تالا ہے، ہمارے پاس جابی ہے

کچھ اس لئے بھی اسے ٹوٹ کر نہیں چاہا
کہ اس کوٹوٹی ہوئی چیز سے الرجی ہے
غزل وہ تیسویں مجھ کو سنا کے کہنے لگی
مزید عرض کروں جان من ؟، اگر ، جی ہے

وہ نان سینس ہے اتنا ،مجھے پتہ نہیں تھا
کہ قل پہ اس سے لطیفہ کبھی سنا نہیں تھا
جو بند کرنا تھا دریا کو تم نے کوزے میں
تو ایک عام سا لوٹا خریدنا نہیں تھا
نکال بیٹھا تھا دندان ساز بھولے سے
وہ داڑھ جس میں ذرا سا بھی مسئلہ نہیں تھا
کھلا یہ بعد میں مجھ پر وہ کھیر تھی دراصل
جسے پلاو پہ ڈالا تھا، رائتہ نہیں تھا
جناب شیخ گئے تھے جہاں پہ مٹکے سمیت
وہ اک سٹال تھا لسی کا، میکدا نہیں تھا

ہے کامیابی مرداں میں ہاتھ عورت کا
مگر تُو ایک ہی عورت پہ انحصار نہ کر

عشق میں یہ تفرقہ بازی بہت معیوب ہے
پیار کو "شیعہ، وہابی اور سنی" مت سمجھ

وه بالوں میں کلر لگوا چکا ہے
یہ دهوکہ پانچ سو میں کها چکا ہے
تهکا ہارا نکل کر گهر سے اپنے
وه پهر آفس میں سونے جا چکا ہے
وه افطاری سے پہلے چکهتے چکهتے
کهجوریں اور پکوڑے کها چکا ہے

دو خط بنام زوجہ و جاناں لکھے مگر
دونوں خطوں کا اس سے لفافہ بدل گیا

ایسے بندوں کو جانتا ہوں میں
جن کا واحد علاج مالش ہے

مورخ لکھ نہ دیں سقراط مجھ کو
میں لسی کا پیالہ پی رہا ہوں

میں ایک بوری میں لایا ہوں بهر کے مونگ پهلی
کسی کے ساته دسمبر کی رات کاٹنی ہے

کیبل پہ ایک شیف سے جلدی میں سیکھ کر
لائی وہ شملہ مرچ کا حلوہ مرے لیئے
بیگم سے کہہ رہا تها یہ کوئی خلا نورد
بیٹهی ہوئی ہے چاند پہ "گڑیا "مرے لئے

دے رہے ہیں اس لیئے جنگل میں دھرنا جانور
ایک چوہے کو رہائش کے لیئے بل چاہیئے
یہ دیا میسج ٹوئیٹر پر فسادی شخص نے
اس کو "جلتی" کے لیئے فی الفور آئل چاہیئے
ایسی خواہش کو سمجھتا ہوں میں بالکل نیچرل
ڈاکٹر کو شہر کا ہر مردو زن اِل چاہیئے

کتنی مزاحیہ ہے یہ بوتل کے جن کی بات
آقا!!! اب انقلاب ہے دو چار دن کی بات

وہ تیس سال سے ہے فقط بیس سال کی
چہرے پہ آ چکی ہے بزرگی جمال کی
دس بارہ غزلیات جورکھتا ہے جیب میں
بزم سخن میں ہے وہ نشانی وبال کی

بیگماتی بونسروں کو بے اثر اس نے کیا
ایک ہیلمٹ اوڑه کر محفوظ سر اس نے کیا
معدہ مہمان گردوں سے لپٹ کر رو پڑا
پیش دسترخوان پر جب ماحضر اس نے کیا
دو ارب لوگوں کارنج و درد رکھنے کے لیئے
ایکڑوں پر مشتمل اپنا جگراس نے کیا
یہ تو اس موذی کے بائیں ہاتھ کا ہی کھیل ہے
خیر کو اپنِ صلاحیت سے شر اس نے کیا
میرے جذبوں کی دھنک کو اس کی دیمک لگ گئی
میں بڑا رنگین تھا، پر ڈس کلر اس نے کیا
بار برداری میں الجھا ہے وہ شوہر رات دن
اچھے خاصے آدمی کو جابور اس نے کیا

مزاحیہ نثری نظم...امید

مجهے یقین ہے
کہ تم کون مینهدی سے
جب میرے عدو کا نام
اپنی خوبصورت کلائی پر لکهو گی
تو
میرا خیال آتے ہی
آخر ایک دن
اس منحوس کے نام پر
خود ہی
بڑا سا کانٹا لگا دو گی
اور دوسری کلائی پر
میرا نام لکه کر
اسے دیر تک چومتی رہو گی
میں اس لمحے کے انتظار میں
متبادل کلائیوں کی جانب سے موصولہ
ہزاروں دل پذیر آفریں
مسلسل مسترد کئے جا رہا ہوں
کیونکہ
دنیا امید پر قائم ہے

(0) ووٹ وصول ہوئے

: مضامین سےمتعلقہ شعراء