بند کریں
شاعری مضامینانتخاب افتخار نسیم کی شاعری اور شخصیت

انتخاب کے مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
افتخار نسیم کی شاعری اور شخصیت
اپنی منفرد شاعری اور تحریر کی وجہ سے افتخار نسیم دنیا ئے اردو ادب کی ایک جانی پہچانی شخصیت تھے۔ وہ اڑتیس سال سے شکاگو میں مقیم رہے، اور انگریزی میں بھی اپنے مضامین اور شاعری کی وجہ سے مقامی حلقوں میں بھی یکساں مقبول تھے۔ افتخار نسیم، جو افتی کے نام سے بھی مشہور تھے، کئی مقامی اردو اخبارات اور رسائل کے علاوہ بین الاقوامی اردو رسائل میں باقائدگی سے لکھا کرتے تھے۔

آج مشہور و معروف شاعر ، براڈ کاسٹر اور صحافی افتخار نسیم افتی کی برسی ھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی منفرد شاعری اور تحریر کی وجہ سے افتخار نسیم دنیا ئے اردو ادب کی ایک جانی پہچانی شخصیت تھے۔ وہ اڑتیس سال سے شکاگو میں مقیم رہے، اور انگریزی میں بھی اپنے مضامین اور شاعری کی وجہ سے مقامی حلقوں میں بھی یکساں مقبول تھے۔ افتخار نسیم، جو افتی کے نام سے بھی مشہور تھے، کئی مقامی اردو اخبارات اور رسائل کے علاوہ بین الاقوامی اردو رسائل میں باقائدگی سے لکھا کرتے تھے۔

افتخار نسیم کا تعلق فیصل آباد، پاکستان کے ایک پڑھے لکھے اور ادبی خاندان سے تھا۔ انکے والد، خلیق احمد خلیق، پاکستان کے ایک نمایاں صحافی تھے، جبکہ انکی ایک بہن، اعجاز نسرین، شکاگو میں ایک معروف شاعرہ ہیں۔ انکے بھائی انجم خلیق اورخرم خلیق اردو صحافت میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

افتخار نسیم تعلیم کے لیے امریکہ آئے تھے، لیکن اپنا ذریعہ معاش قیمتی گاڑیوں کی خرید و فروخت کو بنایا اور اپنا اوڑھنا بچھونا ادب اور شاعری کو ! افتخار نسیم امریکہ میں چند ایک اعلانیہ مسلمان اور پاکستانی ہم جنس پرستوں میں شامل تھے۔ انکی کتاب نرمان میں بھی ہم جنس پرستی کے موضوع پر تفصیل سے لکھا گیا ہے۔ اپنے پسندیدہ شہر شکاگو کے ایک لگژری اپارٹمنٹ میں افتخار نسیم افتی کو اردو کے مشہور شعراء اور ادیب کی میزبانی کا اعزاز حاصل رہا۔ اسکے علاوہ بالی وڈ اور پاکستانی فلم اور ٹی وی سے تعلق رکھنے والی کئی نمایاں شخصیات نے بھی افتی کے اپارٹمنٹ پہ قیام کیا۔

افتخار نسیم متنازعہ ہونے کے باوجود انتہائی ہردل عزیز شخصیت تھے اور انکے دوست اور چاہنے والے دنیا کے ہر حصے میں موجود ہیں جہاں جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے۔

افتخار نسیم سے اختلاف رکھنے والے بھی اس کی انسان دوستی ، مہمان نوازی اور کھرے پن کے معترف ہیں ۔وہ ہمہ وقت ایک فنکار دکھائی دیتا تھا ، صبح دم جاگ کر اپنے لیے کافی کا ایک کپ تےار کرکے ٹےبل پر رکھ لیتا اور پھر لکھنے پڑھنے میں مشغول ہو جاتا اس کے کالم کئی اخبارات میں شائع ہوتے تھے۔ عموماً صبح آنکھ کھلتے ہی وہ دنیا بھر کے دوستوں سے فون پربات کر تا تھا۔ اس کا رابطہ ہر عمر کے شاعروں اور ادیبو ں سے رہتا تھا ۔ افتی ایک سچا مسلمان پاکستانی تھا آپ اسکی تحریریں پڑھ کر دیکھ لیں وہ اپنی ہر تحریر میں کٹر پاکستانی دکھائی دیتا ہے وہ یاروں کا یا ر اور دشمنوں کا بھی دوست تھا
فیس بک پر انہوں نے مرنے سے ایک برس پہلے سینکڑوں تصاویر پوسٹ کی تھیں شاید اسے علم تھا کہ وہ جانے والا ہے،
وہ 22 جولائی 2011ء کو امریکہ میں وفات پا گۓ تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتابیں
نرمان
غزال
آبدوز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا
آسماں پہ چاند پورا تھا مگر آدھا لگا
جس گھڑی آیا پلٹ کر اک مرا بچھڑا ہوا
عام سے کپڑوں میں تھا وہ پھر بھی شہزادہ لگا
ہر گھڑی تیار ہے دل جان دینے کے لۓ
اس نے پوچھا بھی نہیں یہ پھر بھی آمادہ لگا
کارواں ہے یا سراب زندگی ہے کیا ہے یہ
ایک منزل کا نشاں اک اور ہی جادہ لگا
روشنی ایسی عجب تھی رنگ بھومی کی نسیمؔ
ہو گۓ کردار مدغم کرشن بھی رادھا لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترا ہے کام کماں میں اسے لگانے تک
یہ تیر خود ہی چلا جاۓ گا نشانے تک
میں شیشہ کیوں نہ بنا آدمی ہوا کیونکر
مجھے تو عمر لگی ٹوٹ پھوٹ جانے تک
گۓ ہوؤں نے پلٹ کر صدا نہ دی مجھ کو
میں کتنی بار گیا غار کے دھانے تک
تجھے تو اپنے پروں پر ہی اعتبار نہیں
تو کیسے آۓ گا اڑ کر میرے زمانے تک
کیا تھا فیصلہ بنیاد آشیاں کا نسیمؔ
ہوائیں تنکے اڑا لائیں آشیانے تک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جلا وطن ہوں مرا گھر پکارتا ہے مجھے
اداس نام کھلا درد پکارتا ہے مجھے
کسی کی چاپ مسلسل سنائی دیتی ہے
سفر میں کوئی برابر پکارتا ہے مجھے
صدف ہوں لہریں در جسم کھٹکٹاتی ہیں
کنار آب وہ گوہر پکارتا ہے مجھے
ہر ایک موڑ مرے پاؤں سے لپٹتا ہے
ہر ایک میل کا پتھر پکارتا ہے مجھے
پھنسا ہوا ہے مرے ہاتھ کی لکیروں میں
مرا ہماۓ مقدر پکارتا ہے مجھے
نہ جانے کیا تھا کہ میں دوریوں میں کھو آیا
وہ اپنے پاس بلا کر پکارتا ہے مجھے
چلی ہے شام شفق رنگ بادباں لے کر
دبیز شب کا سمندر پکارتا ہے مجھے
پروں کا بوجھ جھٹک کر میں اڑ گیا ہوں نسیمؔ
زمین پر مرا پیکر پکارتا ہے مجھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو باہر اکیلے گھومنا اچھا نہیں
چھوڑ آؤ اس کو گھر تک راستا اچھا نہیں
غیر ہو کوئی تو اس سے کھل کر باتیں کیجیۓ
دوستوں کا دوستوں سے ہی گلہ اچھا نہیں
اتفاقاۤ مل گیا ہے تو پوچھ لو موسم کا حال
کیوں نہیں ملتا وہ اس سے پوچھنا اچھا نہیں
چوم کر جس کو خدا کے ہاتھ سونپا تھا
اس کے بارے میں ہمیشہ سوچنا اچھا نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سراۓ چھوڑ کے وہ پھر کبھی واپس نہیں آیا
چلا گیا جو مسافر کبھی نہیں آیا
ہر اک شے مرے گھر اسی کے ذوق کی ہے
جو میرے گھر میں بظاہر کبھی نہیں آیا
یہ کون مجھ کو ادھورا بنا کے چھوڑ گیا
پلٹ کر میرا مصور کبھی نہیں آیا
مکاں ہوں جس میں کوئی بھی مکیں نہیں رہتا
شجر ہوں جس پہ کوئی طائر کبھی نہیں آیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سورج نۓ برس کا مجھے جیسے ڈس گیا
تجھ سے ملے ہوۓ مجھے یہ بھی برس گیا
بہتی رہی ندی مرے گھر کے قریب
پانی کو دیکھنے کے لۓ میں ترس گیا
ملنے کی خواہشیں سبھی دم توڑ گئیں
دل میں کچھ ایسے خوف بچھڑنے کا بس گیا
دیوار و در جھلستے رہے تیز دھوپ میں
بادل تمام شہر سے باہر برس گیا
تلووں میں نرم گھاس بھی چبھنے لگی نسیمؔ
صحرا کچھ اس طرح میرے پیروں میں بس گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ ہو کے قرب ہی پھر مرگ ربط بن جاۓ
وہ اب ملے تو ذرا اس سے فاصلہ رکھنا
اتار پھینک دے خوش فہمیوں کے سارے غلاف
جو شخص بھول گیا اس کو یاد کیا رکھنا
ابھی نہ علم ہو اس کو لہو کی لذت کا
یہ راز اس سے بہت دیر تک چھپا رکھنا
کبھی نہ لانا مسائل گھروں کے دفتر میں
یہ دونوں پہلو ہمیشہ جدا جدا رکھنا
اڑا دیا ہے جسے چوم کر ہوا میں نسیمؔ
اسے ہمیشہ حفاظت میں اے خدا رکھنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسی کا نام لیا جو غزل کہی میں نے
تمام عمر نبھائی ہے دوستی میں نے

چراغ ہوں میں اگربجھ گیا تو کیا غم ہے
کہ جتنی دیر جلا روشنی تو کی میں نے

میں شیر دیکھ کر پنجرے میں خوش نہیں ہوتا
کہاں گنوا دی ہے بچپن کی سادگی میں نے

اب اِتنا شور ہے کچھ بھی سمجھ نہیں آتا
وہ دن بھی تھےکہ ستاروں سے بات کی میں نے

میں اِس سے روز گزرتا ہوں اجنبی کی طرح
خود اپنے گھر میں بنا لی ہے اک گلی میں نے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوشی گیلانی جی کی تحریر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افتخار نسیم ۔ ایک انوکھا سچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب جانِ حزیں پہلی ہجرت کے تجربے سے گزر رہی تھی۔ ہجرت کا ایک تجربہ اپنے اندر کی متضاد تجربات کا عجیب سا تسلسل رکھتا ہے۔ جب ہم کسی نئی سرزمین پر قدم رکھتے ہیں تو یقین و بے یقینی، شناسائی و نا شناسائی، رنگ و بے رنگی ہاتھ میں ہاتھ ڈالے یوں استقبال کرتے ہیں کہ جسم و جان پر عہدِ اختیار میں بھی بے اختیاری کے سائے سے ٹھہر جاتے ہیں۔ دھوپ میں بارش کی سی کیفیت بے درودیواراسیری میں لئےرکھتی اور انسان جانے کس تذبذب کے عالم میں بھیگتی

ٓ آنکھوں سے مسکرانے لگتا ہے۔ لیکن ایسا بھی تبھی ممکن ہوتا ہے جب انسان شعوری سطح پر ان تجربات کے رنگ ڈھنگ جان لینے کی جراٌت و بصیرت سے نوازا گیا ہو اُس نیلی چھتری والے کی طرف سے۔ ۔۔ ورنہ تو عمر گزر جاتی ہے اورآگہی کا در وا نہیں ہوتا، ذات سے کائنات تک رائیگانی کی برف گرتی رہتی ہے اور حسّیات گردونواح سے ایک بے معنی تعارف کے مرحلے سے آگے نہیں بڑھتیں اور لمحۂ موجود سے کبھی کوئی رشتہ نہیں بن پاتا۔
مگر اگست 1995 میں جب اِفتی نسیم نے اپنے مافوق ا لزمیں حلیے یعنی موٹی موٹی زنجیروںسے لدی سیاہ جیکٹ، گلے میں مالا، کلائی میں موٹے سے کڑے اور سر پر سیاہ ڈاربی ہیٹ کے ساتھ گھر کے دروازے کے اندر قدم رکھا تو میں، انتہائی مسرت کے باوجود کھڑی کی کھڑی رہ گی اور پھر میری حیرانی کا لطف لیتے ہوئےجب افتی نے بڑی شدید حیرت سے داہنے ہاتھ کی انگلی اپنے نچلے ہونٹ پر رکھ کر اِک خاص انداز کی مترنم چیخ مار تے ہوےٌ کہا’’ ۔۔۔۔نوشی گیلانی؟؟؟ ایہہ تُوں ایں؟؟؟‘‘ ، تو میں جہاں بے ہوش ہوتے ہوتے بچی وہاں میرے گرد برسوں کی بڑی محنت سے بنایا ہوا احتیاط و تکلف کاحصار اچانک ٹوٹ گیا۔ اور جیسے روایتی تعارف کی ضرورت ہی نہ رہی اور ایک رشتہ سا بن گیا۔ ۔۔ فطری ، براہِ راست اور سچا!
افتی جو میرا ددوست بھی ہے، بھائی بھی اور سہیلی بھی! کسیی سہولت ہے آج کے دورِ مصلحت آمیز میں ۔۔۔کہ اسکے پاس کوئی ایسا بھی ہو جس سے وہ پورا سچ بول سکے، پوری بات کر سکے اوروہ بھی مجھ ایسی شاعر عورت ! جو شاعری کے حوالے سے حادثاتی طور پر مروجہ نام آوری کی سزاوار بھی ہو کہ نام آوری یکتا کرتی ہویا نہیں تنہا ضرور کر دیتی ہے اور اس حقیقت کا ادراک تب ہوتا ہے جب عمر کا آدھا خزانہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ کسی اور کا تجربہ کچھ بھی رہا ہومجھے افتی کے ساتھ احترام و طمطراق سے پورا سچ کہہ دینے کی سہولت پہلی ہی ملاقات میں میسر آ گئی۔ کتنے ہی ماہ و سال گزرگئے، افتی اور میں موقع بے موقع ، ملک بہ ملک، شہر بہ شہر ذات سےکائنات تک جشنِ ملامت برپا کرتے آرہے ہیں۔ ستائشِ دنیا کے بالعموم اور ستائشِ باہمی کے بالخصوص خیمے لگاتے چلے آرہے ہیں۔ ۔۔ اِس عمل کی مسیحائی کا کمال ہے۔ سو افتی میرے بھائی میری سہیلی! تمہاری خیر ہو! میری زندگی تک تو زندہ ہی رہنا! !!
افتی اور میں دونوں ہی بلا ارادہ بس خوبیِ قسمت سے لڑکپن میں ہی شہرت کے سلسلہِ من و تُو کا حصہ بنگئے۔ یوں بتدریج ذات سے باہر کی آوازوں کا شور اتنا بڑھ گیا کہ جیسے شعور سے لا شعور تک سنہرے ستاروں والی سیاہ اوڑھنی ڈال دی گئی ہو ۔ جسکا لمس کبھی تو مست الست کرتا اور کبھی حوصلے پست. ہم دونوں نے اپنے اپنے خاندانی پس منظر اور اپنی اپنی بستیوں کے تناظر میں رہتے ہوےٌ ، ریاضتِ روزوشب کا آغاز کیابھرپور فخرو انبساظ کے ساتھ ساتھ تخلیقی و معاشرتی ذمہ داریاں ذہنی دباؤ کی حد تک بڑھتی گئیں . اور نو عمری کے اصل تقاضے وجود کے کسی کونے میں چھُپ کر بیٹھ گئے۔ میں نے گُڑیاں کھیلنے کی عمر امرتا پریتم کی رسیدی ٹکٹ، احمد راہی کی ترنجن، احمد ندیم قاسمی کی جلال و جمال کو پڑھتے اور گھر کی چھت پر چاند کی نرم روشنی میں چھُپ چھُپ کر نظمیں لکھتے گزار دی۔ اور افتی نے اپنے معروف والد کے ہمراہ اِن جید ہستیوں کی میزبانی کرتے، انکے مباحث کے اسرار و رموز پر غور کرتے اور چپکے چپکے غزل کہتے گزار دی۔۔۔ بھلا دہائی بھی دیتے تو کس بات کی؟ ستائش و دشنام، دشنام و ستایش۔۔۔ اللہ اللہ !
سان فرانسسکو میں جب جب ملاقات کا موقع ملتا رہا ، افتی اور میں وہاں کے مقبول کیفے Star Bucksمیں گھنٹوں بیٹھا کۓ۔ یہ کیفے امریکہ کے دوسرے موالیوں کی طرح ہمارے لئےبھی لائبریری کے ساتھ ساتھ ا یک طر ح کاConfession Box بھی رہا ہے۔ کڑوی کافی کے طویل القامت کپ پیتے ہوےٌ کتنی ہی باتیں ہوا کیں،بے شمار یادوں کو تازہ کیا گیا، کیسی کیسی حیرتوں پر حیراںہوےٌ، کیسے کیسے معجزوں پہ خوش گماںہوےٌ، کیا کیا نہ قصے دہراےٌ گےٌ، اعترافات و اعتراضات کے انبار لگاےٌ گےٌ۔ ۔۔ اتفاقِ راےٌ کم کم اور اختلافات بے حدوحساب۔ ہم نے مل کر اپنے خوابوں کی عدم تکمیل پر قہقہے لگا لگا کر زنجیر زنی کی، فتوحات کے اعلان نامے جاری کرتے ہوےٌ باربار اپنے آپ کو ناز سے دیکھا۔ بعض اوقات تو جوشِ بیاں میں ہماری آوازیں اتنی اونچی ہو جاتیں کہ کیفے میں بیٹھے لوگ پلٹ پلٹ کر دیکھنے لگتے۔ میں تو معذرت کیلےٌ مسکرا کر ہاتھ ہلا دیتی مگر افتی باقاعدہ اپنے گہرے سنہری بُت پر منڈھے ہوےٌ فر کے لمبے کوٹ کو ساڑھی کے پلّو کی طرح درست کرتا، گردن اور بازؤوں میںآویزاں جھلمل پتھر جڑے زیورات کی نمائش کرتے ہوےٌ اپنے سیاہ ہیٹ کو سر سے ذرا سا اوپر اٹھاتا اور زوردار قہقہہ لگاتا۔۔۔ یہی اسکی معذرت تھی۔
میں نے محسوس کیا کہ وہ معذرت کرتے ہوےٌ بھی کبھی سر کو خم نہیں کرتا۔ اول اول افتی کے اس انداز پر شبہ سا ہوا کہ کہیں اسے اپنے ہو نے کا احساس خودپرستی کی حد تک تو نہیں؟ کہیں وہ اپنی میں کا اسیر تو نہیں؟ ۔۔۔ پر نہیں! کہ وہ جب اپنے نام سے وابستہ تہمتیں ، گزرے ہوےٌ دکھ کی راتیں، ڈھلتی عمر کے خوف شمار کرتا ہے۔اورجب محبتوںکی بازیافت پر بھی بے سروسامانی کا نوحہ کرتا ہے اور کرتا چلا جاتا ہے اور پھر کہیں کسی مقام پر اچانک رک کر کہتا ہے۔ ۔۔۔’’رہے نام اللہ کا‘‘ ، تو بس پھر اللہ کا نام ہی رہ جاتا ہے۔ لگتا ہے افتی کے ذوقِ محبت کی طرح اسکا طرزِ عبادت بھی جداگانہ ہے۔
افتی اور میں سمندر کے ساتھ ساتھ پیدل چلتے ہوےٌ کتنی ہی بار شام کی دبیز دھندکی چھاؤں میں بے تحاشا اداس ہوےٌ۔۔۔ وہ اک سڑک پر پیلے مکان کی یاد میں نڈھال ہوتا رہتا اور میں تتلیوں کے پروں پر لکھے خطوط دھندلے ہو جانے پر آزردہ ، اپنی اپنی ماوٌں کے غم اک دوجے سے کہے جاتے، فاختاؤں کے جوڑے دیکھ کر مانگی جانے والی دعاؤں کے تذکرے ہوتے، چوُڑی توڑ کر نکالی جانی والی فال اور کسی انہونی کے ڈرسے پڑھے جانے والے نوافل پر ہنستے ہنستے بے حال ہو جاتے۔گفتگو کے کتنے ہی گرداب کھینچے جاتے۔۔۔ گڑیا کی شادی پر انتظامی کمالات کے مظاہرے، پنجاب کی شادیوں میںگاےٌ جانے والے گیتوں کی دلسوزی، سریندر کور کی بولیاں اور مٹی کے دکھ سکھ، نصرت فتح علی کی قوالیوں میں سُر کے معجزے، ملکہِ ترنم نُور جہاں سے افتی کی والہانگی، میں بابا جی بلہے شاہ جی کی کافیوں میں حال دھمال کی کیفیت کو تصوف کا حرفِ آخرقرار دیتی اور افتی حضرت شاہ حسین کی رمزِ عشق کو۔۔۔۔ فلسفہِ خودی سے لے کر فلسفہِ خیروشر تک کونسا موضوع تھا جو ہماری Folk Wisdom سے محفوظ رہ سکا.
افتی ایک منفرد انسان ہے اسکا وجود ایسی مٹی سے ڈھالا گیا ہے جس میں عورت کی حساسیت اور خود سپردگی اور مرد کا حوصلہ اور سرکشی کچھ یوں گھُل مل گئے ہیں کہ انہیں جدا کر کے دیکھنا بہت مشکل ہے، یکجا کر کے دیکھنا اور بھی مشکل۔۔۔ ورثہ میں ملے کتنے ہی نظریات میں ردوبدل کرنا پڑتا ہے، آزمودہ روایات کو پسِ پشت ڈالنا پڑتا ہے، مگر یہ سب کشمکش بے معنی ہو جاتی ہے جب افتی کسی سرپھرے یقین کے ساتھ کہتا ہے You have to love me توپھر کہاں کے نظریات اور کونسی روایات!
یہی حال میرے خداےٌ مجازی سعید خان کا بھی ہے۔وہ بھی افتی کی محبت میںاس حد تک مبتلا ہو چکے ہیں کہ سڈنی کے مصروف ترین راستوں پرگاڑی چلاتے سٹیرنگ سے تقریباٌ دونوں ہاتھ اٹھاتے ہیں اور یہاں وہاں فون تلاش کرنے لگتے ہیں، یہ کہتے ہوےٌ ’’ ۔ ۔۔۔ دیکھوذرا رستوں کے کنارے کنارےJacaranda کے کاسنی پھول کتنے بھلے لگ رہے ہیںچلو افتی کو بتاتے ہیں‘‘ ۔ یا جب کبھی ہماری طبعِ شاعرانہ پر یاسیت کا حملہ ہوتا ہے تو جھٹ افتی کا نمبر ملایا جاتا ہے ۔ جیسے افتی نہ ہوا کوئی طبیب ہو گیا ! اب تو افتی سے محبت میرے اور سعید کے درمیان ایک قدرِ مشترک بن چکی ہے۔۔۔۔ مولاہی کرم کریں.
افتخار نسیم کا اپنا ایک انوکھا سچ ہے اور اپنی ایک انوکھی جنگ۔۔۔ چند دہائیاں پہلے جب فنِ شعروسخن اس پر منکشف ہوا تو احمد ندیم قاسمی صاحب کی زیرِ ادارت جاری ہونے والے تاریخی جریدے فنون نے اُس کی تخلیقات کو اپنے دامن میںشفقت سے سمیٹ لیا۔ اسکی غزل کا دلربا لہجہ قارئین کی خصوصی توجہ کا باعث بنا اور پھر اپنے پہلے شعری مجموعے ’’۔۔ غزال‘‘ کی اشاعت سے ہی افتخار نسیم نے جمالِ فکروفن سے اردو شاعری کے منظر نامے پر نمایاں مقام حاصل کر لیا۔
بارشوں کے بعد ست رنگی دھنک آجاےٌ گی کھُل کے رو لو گے تو چہرے پر چمک آجاےٌ گی
آج بھی مجھ کو یہ لگتا ہے کہ اگلے موڑ پر جس پہ اک پیلا مکاں تھا وہ سڑک آجاےٌ گی
کچھ نہیں سمجھے گا کوئی لاکھ تم کوشش کرو جب دلوں کے درمیاں دیوارِ شک آجاےٌ گی
پھر وہ زمانہ آیا کہ افتخار نسیم عشق و رزق کے قافلوں کے ہمراہ امریکہ آگیا۔ یہاں ایک نئی دنیا کی دریافت کا عمل شروع ہو گیا۔ کیٌ مقامات پر تاریکی نے اندر کی روشنی کو شکست د ی توکیٌ موڑ آےٌ جہاں بصیرت نے روشنی کے کرشمے دیکھے۔ وہ ہجرت کی اس مسافت میں جب سفر کے گیت گاتا تو کبھی اسکی لے میں پُر جوش مسافر کی سی وارفتگی ہوتی اور کبھی اسکی آواز میں عزاداروں جیسا سوزو شکستگی۔ کتنی ہی مرتبہ روح پارہ پارہ ہویٌ، کیٌ جگہ پاؤں پھسلا مگر بظاہراس کفر کے مجسمے نے دعا کی ڈورمضبو طی سے تھامے رکھی۔ بقول حضرت میاں محمد بخش؛
میں انہاں تےِلکن رستہ ، کِیویں کراں سنبھالا
دِھکے دیون والے بوہتے تُوں ہتھ پکڑن والا
افتی نے امریکہ میں قیام کے دوران تخلیقی سطح پر بھی فکرو بیاں کے کیٌ تجربے کئے ناول ، افسانہ، انگریزی نظم او ر دیگر اصناف کو بڑی خوبی سے برتا۔ اگرچہ اردو غزل، جو افتی کا خاصہ ہے اسکی مہم جُو فطرت کی وجہ سے کسی حد تک نظر انداز ہوئی۔ افتی کے اہم کاموں میںعالمی امن کے قیام اور انسانی حقوق کی بحالی کی مسلسل جدوجہد میںاپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہے۔ اسکی یہ لگن اسے شہر شہر کوچہ کوچہ لئے پھرتی ہے۔ اور وہ اپنے اس مشن کو سب سے مقدم سمجھتا ہے اور اس حوالے سے وہ ایک معتبر حیثیت بنا چکا ہے۔ سماجی اور سیاسی موضوعات پر اسکے لیکچرز نوجوان نسل میں بے حد مقبول ہیں۔ معروف تعلیمی اور حکومتی ادارے اسے متعدد بارPeace Awards سے نواز چکے ہیں اور یہ سلسلہ دیگر ممالک تک بھی پھیل گیاہے۔
گزشتہ برسوںمیں افتی سے کتنی ہی ملاقاتیں رہیں لیکن 2007 میں آسٹریلیا میں اردو کانفرنس میں شرکت کیلئے جب افتی اور میں آسٹریلیا روانہ ہوےٌ تو تسلسل کے ساتھ تقریباٌ دس روز تک ، اسکی شخصیت کے رکھ رکھاؤ، مزاج کی وحشت اور ہر لمحہ شرارت کے بے شمار چھوٹے بڑے مظاہرے دیکھنے میںآےٌ۔جیسا کہ حضرت علی کرم ا للہ وجہہ فرماتے ہیں’’ اگر کسی کہ پہچاننا ہو تو اسکے ساتھ سفر کرو‘‘ ۔ ایک اور موقع پرتاکید کرتے ہیں کہ اگر کسی کو جاننا ہے تو اسے عزت دے کر دیکھو۔ ۔۔ سو میں نے افتی کے ساتھ سفر بھی کیا ، دل سے اسکی عزت بھی کی لیکن مجھے کبھی مایوسی نہیں ہوئی۔ افتی ہمیشہ اصل زر کو سود کے ساتھ واپس کرتا رہا ہے۔

اور یہ جو آج میں اور سعید خان پردیس میں ایک پیاراسا گھر بساےٌ بیٹھے ہیں تو اس میں اللہ کی رضا کے بعد میرے بھائی عرفی کے چاؤ اور افتی کی دباؤ کا بھی گہرا عمل دخل ہے۔ جب کبھی فضاےٌ دل قدرے سازگار دیکھی تو افتی نے سعید خان کے وہ وہ فضائل بیان کےٌ کہ فیصلہ سہل ہوتا گیا۔ شادی کے اگلے روز جب میں ہزارہ کے روایتی ا نداز میں سجی سجائی دلہن بنی، بھاری آنچل چہرے پر گراےٌ بیچ سسرال کے بیٹھی تھی کہ سعید نے یہ کہتے فون میرے ہاتھ میں لا تھمایا ’۔’ شکاگو سے افتی کی کال ہے‘‘۔ افتی نے خوشی سے چلاتے ہوےٌ مبارکباد دی اور ساتھ ہی ایک یادگار دعو یٰ کیا ، ۔ ’’ نوشی یاد رکھنا میرے انکار کے بعد ہی سعید سے تمہاری شادی ممکن ہو سکی‘‘ ۔
اور پھر بہ اصرار پروین شاکر کا شعر ذرا تبدیلی کے ساتھ بطور تحفہِ عروسی یوں پیش کیا؛
کمالِ ضبط کو میں خود بھی آزماؤں گا
میں اپنے ہاتھ سے اسکا دلھا سجاؤں گا

اندازہ کیجئےکہ نو بیاہتا نوشی گیلانی کا کیا حال ہوا ہو گا۔

یہ ہے افتی اور اسکی افتی خیزیاں!!!۔

(1) ووٹ وصول ہوئے