بند کریں
شاعری مضامینانتخاب استاد قمر جلالوی کا تعارف اور انکی شاعری سے انتخاب (خالد محمود )

انتخاب کے مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
استاد قمر جلالوی کا تعارف اور انکی شاعری سے انتخاب (خالد محمود )
استاد قمر جلالوی کے کلام میں بیان کی برجستگی، اسلوب کی سلاست، ایک چبھتی ہوئی بات کہنے کا انداز اور اس کے ساتھ ساتھ ایک مخصوص قسم کی ڈرامائیت پائی جاتی ہے

استاد قمر جلالوی کا اصل نام سید محمد حسین تھا۔ آپ19، اگست1887ء کو علی گڑھ کے قصبے جلالی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے آباء و اجداد کا سلسلہ مشہور ایرانی شخصیت ’’سید نجیب علی ہمدانی‘‘ سے ملتا ہے۔ آپ کے علاقے میں سکول و کالج نہ ہونے کی وجہ سے عربی، فارسی اور اردو کی ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ آپ نے آٹھ سال کی عمر ہی میں موزوں اشعار کہنا شروع کر دئیے تھے۔ آواز میں غضب کا درد تھا۔ رفتہ رفتہ مشق سخن کے ساتھ ساتھ ان کی شہرت قصبہ جلالی کی حدود سے نکل کر علی گڑھ اور گرد و نواح میں پھیل گئی۔ صرف بائیس سال کی عمر میں آپ کو استاد کا درجہ حاصل ہو گیا تھا۔ جلالی اور علی گڑھ کے اکثر نوجوان اور جوان شعرأ انہیں اپنا کلام دکھانے لگے تھے لیکن وہ خود تشنگی سی محسوس کرتے تھے اور اسی لگن نے انہیں اس وقت کے مشہور استاد اور پختہ کار شاعر امیر مینائی سے وابستہ کر دیا۔ آپ کی شادی ۱۹۲۹ء میں محترمہ کنیزہ سیدہ سے ہوئی جن سے صرف ایک صاحبزادی کنیز فاطمہ ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد آپ ۱۱، ستمبر ۱۹۴۷ء کو پاکستان تشریف لے آئے۔
استاد قمر جلالوی کے کلام میں بیان کی برجستگی، اسلوب کی سلاست، ایک چبھتی ہوئی بات کہنے کا انداز اور اس کے ساتھ ساتھ ایک مخصوص قسم کی ڈرامائیت پائی جاتی ہے۔ وہ اپنے مخصوص ترنم اور سلاست کی وجہ سے مشاعرہ لوٹ لیا کرتے تھے۔ ان کے کلام میں دہلی اور لکھنو کی چاشنی، شوخی اور لطافت نظر آتی ہے۔ غزل کے علاوہ مرثیہ، سلام، منقبت اور رباعی میں ایک خاص مقام رکھتے تھے۔
ان کے شعری مجموعوں میں اوج قمر، رشک قمر، غم جاوداں، عقیدت جاوداں شامل ہیں۔ ان کی متعدد غزلیں مختلف گلوکاروں نے بہت خوبصورت انداز میں گائی ہیں۔ نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی ان کا کلام بہت شوق سے سنا جاتا ہے۔
حکومت پاکستان نے ۱۹۵۹ء میں ان کی ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے ڈیڑھ سو روپے ماہوار وظیفہ تاحیات مقرر کیا۔ استاد قمر جلالوی آخری عمر میں یرقان کے مرض میں مبتلا ہو گئے تھے اور اسی بیماری کی وجہ سے ۲۴، اکتوبر ۱۹۶۸ء کو کراچی میں انتقال فرمایا۔
ان کی لوح مزار پر ان کا یہ شعر کنندہ ہے:
ابھی باقی ہیں پتوں پر جلے تنکوں کی تحریریں
یہ وہ تاریخ ہے، بجلی گری تھی جب گلستاں پر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنُ سنُ کے مجھ سے وصف ترے اختیار کا
دل کانپتا ہے گردش ِ لیل و نہار کا

لاریب لاشریک شہنشاہِ کُل ہے تو!
سَر خم ہے ترے دَر پہ ہر اک تاجدار کا

محموُد تیری ذات محمّد(ص) تِرا رسول
رکھا ہے نام چھانٹ کے مختار ِ کار کا

ہوتا نہیں جو حکم تِرا صید کے لئے
صید چھوڑدیتا ہے پیچھا شکار کا

بنوا کے باغ ِ خُلد تِرے حکم کے بغیر
شدّاد منہ نہ دیکھنے پایا بہار کا

جاتی ہے تیرے کہنے سے گلزار سے خزاں
آتا ہے تیرے حکم سے موسم بہار کا

رزّاق تجھ کو مذہب و ملّت سے کیا غرض
خالق تو ہی ہے کافر و ایمان دار کا

کہنا پڑے گا لاکھ عبادت گزار ہو
بندہ گنہ گار ہے پرور دگار کا

منزل تو شے ہے دوسری لاکھوں گزر گئے
اب تک پتا چلا نہ تِری رھگزار کا

پایا جو پھل تو شاخ ِ ثمر دار جھک گئی
کہتی ہوئی کہ شکر ہے پروردگار کا

دے کر عروج اختر ِ قسمت کو اے قمر
مالک بنادیا مجھے شب کی بہار کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مریضِ محبت انھی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے
مگر ذکر شامِ الم جب بھی آیا چراغِ سحَر بجھ گیا جلتے جلتے

انھیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا "محبت نہ کرتے
تمھیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا؟ بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے"

مجھے اپنے دل کی تو پروا نہیں ہے مگر ڈر رہا ہوں کہ بچپن کی ضد ہے
کہیں پائے نازک میں موچ آ نہ جائے دلِ سخت جاں کو مسلتے مسلتے

بھلا کوئی وعدہ خلافی کی حد ہے، حساب اپنے دل میں لگا کر تو سوچو
قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ، ملاقات کا دن بدلتے بدلتے

ارادہ تھا ترکِ محبت کا لیکن فریبِ تبسّم میں پھر آ گئے ہم
ابھی کھا کے ٹھوکر سنبھلنے نہ پائے کہ پھر کھائی ٹھوکر سنبھلتے سنبھلتے

بس اب صبر کر رہروِ راہِ الفت کہ تیرے مقدر میں منزل نہیں ہے
اِدھر سامنے سر پہ شام آ رہی ہے اُدھر تھک گئے پاؤں بھی چلتے چلتے

وہ مہمان میرے ہوئے بھی تو کب تک، ہوئی شمع گُل اور نہ ڈوبے ستارے
قمرؔ اس قدر ان کو جلدی تھی گھر کی کہ گھر چل دیے چاندنی ڈھلتے ڈھلتے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم ، شب قصّہ مختصر نہ ہوئی
شمع گُل ہو گئی، سحر نہ ہوئی

روئِی شبنم، جَلا جو گھر میرا
پُھول کی کم، مگر ہنسی نہ ہوئی

حشر میں بھی وہ کیا مِلیں گے ہمیں
جب مُلاقات عُمر بھر نہ ہوئی

آئینہ دیکھ کے، یہ کیجے شُکر !
آپ کو، آپ کی نظر نہ ہوئی

سب تھے محفِل میں اُنکے محوِ جَمال
ایک کو، ایک کی خبر نہ ہوئی

سینکڑوں رات کے کئے وعدے
اُن کی رات آج تک قمر نہ ہوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بوسۂ خال کی قیمت مِری جاں ٹھہری ہے
چیز کتنی سی ہے اور کِتنی گراں ٹھہری ہے

چھیڑ کر پھر مجھے مصروف نہ کر نالوں میں
دو گھڑی کے لئے صیّاد زباں ٹھہری ہے

آہِ پُر سوز کو دیکھ اے دلِ کمبخت نہ روک
آگ نِکلی ہے لگا کر یہ جہاں ٹھہری ہے

صُبح سے جنبشِ ابرو و مژہ سے پیہم
نہ تِرے تیر رُکے ہیں نہ کماں ٹھہری ہے

دم نکلنے کو ہے ایسے میں وہ آجائیں قمر
صرف دم بھر کے لیے رُوح رواں ٹھہری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر اب تو لے بے مروت کسی کی
چلی جان تیری بدولت کسی کی

مجھے حشر میں پیش داور جو دیکھا
ذرا سی نکل آئی صورت کسی کی

خدا کے لئے یوں نہ ٹھکرا کے چلئے
کہ پامال ہوتی ہے تربت کسی کی

ذرا روٹھ جانے پہ اتنی خوشامد
قمرتم بگاڑو گے عادت کسی کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تربت کہاں لوحِ سرِ تربت بھی نہیں ہے
اب تو تمھیں پھولوں کی ضرورت بھی نہیں‌ہے

وعدہ تھا یہیں کا جہاں فرصت بھی نہیں ہے
اب آگے کوئی اور قیامت بھی نہیں ہے

اظہارِ محبّت پہ بُرا مان گئے وہ
اب قابلِ اظہار محبّت بھی نہیں ہے

کس سے تمھیں تشبیہہ دوں یہ سوچ رہا ہوں
ایسی تو جہاں میں کوئی صوُرت بھی نہیں ہے

تم میری عیادت کے لئے کیوں نہیں آتے
اب تو مجھے تم سے یہ شکایت بھی نہیں ہے

اچھا مجھے منظور قیامت کا بھی وعدہ
اچھا کوئی اب دور قیامت بھی نہیں ہے

باتیں یہ حسینوں کی سمجھتا ہے قمر خوب
نفرت وہ جسے کہتے ہیں نفرت بھی نہیں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چمن روئے ہنسے شبنم بیاباں پر نکھار آئے
اِک ایسا بھی نیا موسم مِرے پروردگار آئے

وہ سر کھولے ہماری لاش پر دیوانہ وار آئے
اِسی کو موت کہتے ہیں تو یارب باربار آئے

سرِ گورِ غریباں آؤ لیکن یہ گزارش ہے
وہاں منہ پھیر کر رونا جہاں میرا مزار آئے

بہا اے چشمِ تر ایسا بھی اِک آنسو ندامت کا
جسے دامن پہ لینے رحمتِ پروردگار آئے

قفس کے ہولئے ہم تو مگر اے اہلِ گلشن تم
ہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے

نہ جانے کیا سمجھ کر چُپ ہوں اے صیّاد میں ورنہ
وہ قیدی ہوں اگر چاہوں قفس میں بھی بہار آئے

قمر دِل کیا ہے میں تو اُن کی خاطر جان بھی دیدوں
مِری قسمت اگر اُن کو نہ پھر بھی اعتبار آئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے مرے دل کسی سے بھی شکوہ نہ کر اب بلندی پہ ترا ستارہ نہیں
غیر کا ذکر کیا غیر پھر غیر ہے جو ہمارا تھا وہ بھی ہمارا نہیں

اے مرے ہمنشیں چل کہیں اور چل اس چمن میں اب اپنا گزرا نہیں
بات ہوتی گلوں تک تو سہہ لیتے ہم اب تو کانٹوں پہ بھی حق ہمارا نہیں

دی صدا دار پر اور کبھی طور پر کس جگہ میں نے تم کو پکارا نہیں
ٹھوکریں یوں لگانے سے کیا فائدہ صاف کہدو کہ ملنا گورا نہیں

آج آئے ہو تم کل چلے جاؤ گے یہ محبت کو اپنی گورا نہیں
عمر بھر کا سہارا بنو تو بنو دو گھڑی کا سہارا سہارا نہیں

باغباں کو لہوکی ضرورت پڑی سب سے پہلے یہ گردن ہماری کٹی
پھر بھی کہتے ہیں ہم سے یہ اہلِ چمن یہ چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں

ظالموں اپنی قسمت پہ نازاں نہ ہو دور بدلے گا یہ وقت کی بات ہے
وہ یقینا سُنیں گا صدائیں مری کیا تمہارا خدا ہے ہمارا نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(0) ووٹ وصول ہوئے

: مضامین سےمتعلقہ شعراء