بند کریں
شاعری مضامینانتخاب ذوالفقار عادل کی شاعری (ںوید صادق)

انتخاب کے مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ذوالفقار عادل کی شاعری (ںوید صادق)
شاعری پر تنقید کی بات کی جائے تو زمانی اعتبار سے ناقدین کے مختلف گروہ نظر آتے ہیں۔ ان گروہوں کے ہاں ایک مخصوص وقت سے ایک مخصوص وقت تک کی شاعری پر تنقید ملتی ہے۔ ولیؔ دکنی سے لے کر اب تک کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور کے شعرا پر لکھنے والے موجود رہے، اچھا برا، لکھا جاتا رہا، لیکن ہمارے آخری چوبیس سال تنقیدی معاملے میں انتہائی کسمپرسی کے سال ہیں

نوید صادق

گھور رہا ہوں تالے کو!!
...............................
شاعری پر تنقید کی بات کی جائے تو زمانی اعتبار سے ناقدین کے مختلف گروہ نظر آتے ہیں۔ ان گروہوں کے ہاں ایک مخصوص وقت سے ایک مخصوص وقت تک کی شاعری پر تنقید ملتی ہے۔ ولیؔ دکنی سے لے کر اب تک کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور کے شعرا پر لکھنے والے موجود رہے، اچھا برا، لکھا جاتا رہا، لیکن ہمارے آخری چوبیس سال تنقیدی معاملے میں انتہائی کسمپرسی کے سال ہیں۔1990ء کے بعد کی تنقیدی تحریریں اٹھا کر دیکھ لیں تو لگتا ہے 1990ء کے بعد شاعری ہوئی ہی نہیں۔ ہم یہاں باقی اصنافِ سخن کی بات نہیں کر رہے کہ فی الحال ہم صرف شاعری اور معاملاتِ شاعری پر گفتگو کرنا چاہ رہے ہیں۔ بات ہو رہی تھی 1990ء کے بعد کی تنقیدی تحریروں کی تو یوں ہے کہ 1990ء کے بعد جو تنقید نگار منظر پر آئے اور خوب جم کر تاحال کھیل رہے ہیں، انھوں نے بھی عافیت اسی میں جانی کہ صرف سکہ بند شعرا پر بات کی جائے یا معدودے چنداُن شعرا پر جو اُن کے حلقۂ اثر میں ہیں،اور صاف ظاہر ہے کہ ان سے پہلے کے ناقدین بھی لکھ کر دے گئے تھے کہ کون مستند ہے کون نہیں، لہٰذا یہ لوگ انھی کی توصیف و تنقیح میں لگے رہے۔ اس کی ایک مثال ’’پاکستان میں اردو ادب کے پچاس سال‘‘ ایک ایسے مجموعے کی ہے جس میں تنقیدی عمل کم اور ذاتی پسندو ناپسند کا عمل زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ ایک دل چسپ امر یہ ہے کہ 1997ء کو پاکستان کی عمر پچاس برس بنتی ہے لیکن ڈاکٹر نوازش علی کے ترتیب دیے ہوئے اس مجموعۂ مضامین میں اکثر و بیش تر مضامین 1990ء سے پہلے کی شاعری کو محیط ہیں۔شاید مرتب کو کہیں سے یہ ’’بھنک‘‘ پڑ گئی ہوگی کہ مذکورہ سال کے بعد کے آخری سات سال اردو شاعری کے لیے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے۔ اس لیے کہ انھیں اور اُن کے ہم عصروں اور ہم نوائوں کو ان شاعروں کا کلام اس بلندی پر نظر نہیں آتا جن کو ان نوجوانوں نے حیرت انگیز طور پر چھو لیا ہے اور بعض متوازن فکر نقادوں اور ادب کے بڑوں نے انھیں منصفانہ خراجِ عقیدت بھی پیش کر دیا ہے۔ یہ محض عقیدت ہی نہیں بل کہ تنقید و جائزہ کے معیاری اندازِ نظرسے وہ اعتراف ہے جو ڈاکٹر صاحب اوران کے ہم نوائوں کو ممکن ہے، ادبی تنقید کا معتبر اندازِ نظر نہ محسوس ہوا ہو…تویوں آخری سات سال کی شاعری کو یک سر فراموش کر دیا گیا۔ حیرت ہے کہ بقول احمد جاوید: ’’ پاکستانی ادب میں جو شدت اور چہل پہل 80ء کی دہائی کے وسط تک رہی تھی وہ اب کم کم نظر آتی ہے۔‘‘
’’کم کم نظر آتی ہے‘‘ کا معاملہ تو وہ بہتر جانتے ہیں ، ہمیں یہ جملہ پڑھ کر یہی اندازہ ہوتا ہے کہ موصوف کی تنقیدی ذہانت میںخاصی کمی واقع ہو چکی ہے یا ان کا مطالعہ خاص حدود و قیود کا پابند ہے۔
خیر یہ معاملہ تو احمدجاوید کا تھا، ہماری حیرت اس وقت فزوں ہوتی ہے جب یوسف حسن جیسے ’’مشّاق‘‘ نقاد بھی ادب کو پاکستانی جمہوریت کے غیرمتوازن رویوں سے تولتے نظر آتے ہیں اور پاکستانی ادب یا غزل کو جمہوریت کے تنزل کے ساتھ ہی مشکوک قرار دینے لگتے ہیں، بل کہ پورے ادب کو اضمحلال سے دوچار سمجھتے ہیں۔ جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے، اوراگر نہیں تو کیا یوسف حسن اوران کے ہم عصروں کا شعری ادب اس عرصے میں اضمحلال کا شکار رہا۔ ہم تو ایسا نہیں سمجھتے۔ تاہم اگر ایسا ہے تو یوسف حسن چندقدم آگے بڑھتے اوردیکھتے کہ اردو غزل نے کن بے پناہ امکانات کوسمیٹ رکھا ہے اور پاکستانی غزل پاکستانی سماج کی ’’تشکیلِ نو‘‘ میں کیا کردار ادا کر رہی ہے۔
آج 2014ء میں بھی جو تنقیدی کتب اشاعت پذیر ہیں، ان کا عالم بھی انیس بیس کے فرق کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہے۔ سب 80ء کی دہائی تک بات کرتے نظر آتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو وہی سہل پسندی ہے جس کا ذکر ہم اوپر دبے لفظوں میں کر چکے ہیں۔اس کی دوسری سب سے بڑی وجہ مدرسانہ تنقید ہے جس میں خود اپنی ایک رائے بنا کر آگے بڑھنے سے گریز اور دوسروں کی آرا کے سائے سائے چلنے کی روش عام ہے۔1990ء کے بعد کی شاعری خصوصاً نئے شعرا پر تنقید محض دیباچہ جات اور فلیپس وغیرہ کی شکل میں دستیاب ہے۔ لیکن کیا ہم دیباچہ نگاری کے اکثریتی عمل کو تنقید کے زمرے میں کھپا سکتے ہیں؟ یہ ایک الگ توجہ طلب سوال اور مسئلہ ہے۔
کہیں کچھ نظر نہیں آتا تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ٹھیرتا کہ 1990ء کے بعد ڈھنگ سے شاعری ہی نہیں ہوئی۔ ایک سے ایک تخلیق کار منظر نامے پر موجود رہا ہے۔یہ اور بات کہ یہ سارے بے چارے نرے شاعر نکلے یا اردو ادب کے استاد سو اس دہائی کے شعرا کو کوئی کام کا نقاد میسر نہیں آ سکا۔1990ء کے بعد سامنے آنے والے قابلِ ذکر شعراء کا ذکر کرتے ہوئے ہمارے فاضل نقادوں کو اس لیے شرمندگی محسوس ہوتی ہے کہ وہ ان سے بہ اعتبارِ عمر بہت چھوٹے ہیں مگر بہ نظرِ انصاف دیکھا جائے تو انھوں نے اردو غزل میں اپنا ایسا نقش جمایاہے کہ اسی نقش کے دل کش اثرات سے بڑی شاعری کا ظہور ممکن ہوگا۔ اس عہد کے بہت ہی نمایاں اور ہونہارشعرا میں نکھر کر جن شعرا کے کلام کا عکس پردۂ ذہن پر منتقل ہوتا ہے ان میں اخترعثمان،رحمٰن حفیظ، شاہین عباس، انعام ندیم، احمد فاروق اور ادریس بابر کے بعد ذوالفقار عادل کا نام بہت نمایاں ہے۔ اس لیے کہ ذوالفقار عادل 1990ء کے بعد سامنے آنے والے شعرا میں سے فنی و فکری ہر دو اعتبار سے منفرد ممتاز بھی ہے اور تخلیقی لحاظ سے اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں سے غزل اپنے مجموعی محاسن کے ساتھ قاری پر اپنا نقش جماتی ہے۔سو یہ کیسے ممکن ہے کہ آج کا کوئی بھی باشعور نقاد اس کے مقام و مرتبہ سے انکار کا مرتکب ہو۔
سب سے اہم بات جو ہم ذوالفقار عادل کی غزل کے باب میں کہنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ وہ دھیمی لے اور نرم لہجے کا شاعر ہے۔ دوم یہ کہ اُس نے علمی مطالعے سے زیادہ سماجی و تخلیقی نتائج پر منتج ہونے والے مشاہدات سے زیادہ سیکھا ہے۔ اور یہ خوبی ہی کسی شعر کو ’’یک شعرے دل آویزے‘‘ کی خوبی سے متصف کرتی ہے، پُراثر بناتی اور شعریت کے برگ و بار کوتازہ رکھتی ہے۔اگرچہ علمی مطالعہ بلند فکری کے لیے ضروری ہے مگر اکثر یوں ہوتا ہے کہ مطالعے کے زور پر کی گئی شاعری تخلیق کی اثریت کو کم تر کر دیتی ہے۔ ذاتی تجربہ و واردات ہی سے پُرتاثیر شعر کی نمود ممکن ہے۔یہاں کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ ذوالفقار عادل نے محض ذاتی واردات و مشاہدات ہی کواپناذریعہ اظہار بنایا ہے۔ مطالعہ اُس کے ہاں بھی اتنا ہی ضروری رہا ہے جتنا کہ ایک شاعر کے لیے ممکن ہو سکتا ہے۔
ذوالفقار عادل کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اسے پڑھ کرآپ اُداس نہیں ہو سکتے ، اور کیفیت کے لحاظ سے زیادہ خوش بھی تو نہیں ہوتے۔ ایک درمیان کی کیفیت ہے۔ایک ہلکا ہلکا درد ہے جسے اسلوب کی سادگی اور خوش بیانی سے ایک خوش کن کیفیت کے درجہ پر فائز کر دیا گیا ہے۔ اس کا اسلوب بیک وقت عقلی اور جذباتی سطحوں کو متاثر کرتا ہے۔
ذوالفقار عادل کی شاعری کابنیادی وصف مکالمہ ہے۔ مکالمہ اور پھر مکالمہ۔ جو زیادہ تر اپنے آپ سے چلتا ہے۔یعنی خود کلامی۔اس خود کلامی میں ایسے سوالات اٹھائے جاتے ہیں،جن کا جواب بھی اس مکالمے کے اندرموجود ہوتا ہے۔ جواب آمیز ایسے استفسارات جو ہمیں احساس دلاتے ہیں کہ اس کی سوچ اور طرزِ احساس کن سمتوں کی طرف مایل ہیں۔آخر سوال اٹھانے کی ضرورت کیوں پیش آئی، اس کا اندازہ بھی ان سوال و جواب پر مبنی اشعار سے لگانا ہو گا، کہ شاعر کے فی الوقت دستیاب کلام میں اس کے آغاز کی بابت کوئی اشارات نہیں ملتے، ہاں ان سوالات اور سوالیہ لہجہ کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ کچھ مخصوص آدرشوں کے ٹوٹنے کے بعد یہ سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔ بعض اوقات سوالات کی نوعیت محض کسی مشاہدہ کے نتیجہ میں سامنے آتی معلوم ہوتی ہے۔اور اس مشاہدہ میں شاعر خود ہی اس کا معنی خیز جواب بھی فراہم کر تادکھائی دیتا ہے۔ سوال میں جواب کی بذاتِ خود موجودگی شاعر کے ہاں غور و فکر اور بتدریج مشاہداتی عمل کی بصیرت افروز موجودگی کا پتہ دیتی ہے اور یہ بات محض چند اشعار تک محدود نہیں، ایک لامحدود دنیا ہے۔ کس کس کا انتخاب کیا جائے؟ تاہم چند شعر:
پھول کہاں سے آئے تھے اور کہاں چلے
گئے وقت نہ تھا کہ دیکھتا پودوں کی دیکھ بھال میں
_____
نہ جانے ایسا کیا لکھا تھا میں نے
نہ جانے ڈائری کیوں کھو گئی ہے
اتنا بتا کہ شہر میں کتنے سمجھ سکے تجھے
کتنوں کو تو سمجھ سکا، اب تو ذرا سمجھ مجھے
_____
پھول رکھے ہیں میز پر کس نے
اب یہ دفتر بھی دیکھنا ہے مجھے
_____
گفتگو سے نکل آتے ہیں ہزاروں رستے
ذرا دیوار کی سنیے، ذرا اپنی کہیے
_____
جانے کیا کیا ہے ترے میرے بیچ
ہاں یہ ممکن ہے کہ دیوار بھی ہو
دل، میاں! چپ ہی رہو، بہتر ہے
تم اکیلے بھی ہو، بے کار بھی ہو
_____
اک ایسے شہر میں ہیں جہاں کچھ نہیں بچا
لیکن اک ایسے شہر میں کیا کر رہے ہیں ہم
_____
جتنا اُٹھا سکے یہ بوجھ، اتنا اُٹھا، مرے عزیز!
جتنا سمجھ میں آ سکے، اُتنا بڑا سمجھ مجھے
_____
وہ مری پہلی دعا کا کیا ہوا
ہاتھ اُٹھاؤں کس لیے بارِ دگر
_____
دیکھ، ایسا بھی بے ہنر مت جان
خاک اُڑانے کا تجربہ ہے مجھے
_____
سو لینے دو، اپنا اپنا کام کرو، چپ ہو جاؤ
دروازو! کچھ وقت گزارو، دیوارو! چپ ہو جاؤ
ہمیں خود بھی نہیں معلوم شاید
ہم اِس الجھن میں کیسے پڑ گئے ہیں
_____
میں جہاں تھا، وہیں رہ گیا، معذرت!
اے زمیں! معذرت! اے خدا! معذرت!
کچھ بتاتے ہوئے، کچھ چھپاتے ہوئے
میں ہنسا۔۔۔ معذرت! رو دیا۔۔۔۔ معذرت!
میں کہ خود کو بچانے کی کوشش میں تھا
ایک دن میں نے خود سے کہا، معذرت
ہم ’’معذرت‘‘ کی ردیف والی اس غزل کو ذوالفقار عادل کی شاعری میں ایک اہم موڑ بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ غزل زندگی کے ایک محاذ پر شکست کے اعتراف کا انتہائی ایمان دارانہ اظہاریہ ہے۔ زمین سے معذرت، خدا سے معذرت، ہنسنے رونے پر معذرت، اپنے آپ کو بچا نہ سکنے پر اپنے آپ سے معذرت، اپنی آدرشوں سے معذرت۔ معذرتوں کا یہ پلندہ دراصل شاعر بل کہ یوں کہیے کہ انسان کی طرف سے معذرت ہے۔ شکست کا لازمی نتیجہ اول اول تو ایک گہری خاموشی ہی ہو سکتا ہے۔لیکن یہ خاموشی بھی آخر کتنے دن کی؟ کہ اندر ہی اندر کہیں کچھ ٹوٹ گیا ہوتا ہے، ایک ہل چل بپا ہوتی ہے۔
میں بھی کہیں نہیں رہا
مجھ میں کوئی رہا نہیں
_____
دل میں جو زہر ہے وہ زہر نہیں
مدتوں کا رُکا ہوا غم ہے
کھولیے، دل کی ڈائری عادلؔ!
دیکھیے، آج کون سا غم ہے
_____
ہاتھ میں کل جو ہاتھ تھا، نبض پہ آ گیا ہے آج
وقت کے عارضے میں ہوں، گزرا ہوا سمجھ مجھے
_____
لوگ مجھ سے خوف کھانے لگ گئے ہیں آج کل
یوں تری دیوار کے آگے کھڑا رہتا ہوں میں
چیونٹیاں رینگ رہی ہیں کہیں اندر عادلؔ
ہم ہیں دیوار کی مانند بظاہر خاموش
شدتِ احساس کی بھرپور صورت ہے۔ ردِ عمل سامنے آتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے شاعر کے ہاں اس سب پر ردِ عمل کس شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ شکوے گلے، رونا دھونا، چیخ پکار، زندگی اور دنیا سے بے زاری، باغیانہ روش، زندگی اور دنیا کی طرف نفرت آمیز رویہ، زندگی اور دنیا سے فرار یا پسپائی۔۔۔ جی نہیں ذوالفقار عادل کے ہاں ایسا کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آتا۔۔۔۔ لیکن ردِ عمل کی کچھ مزید صورتیں جیسے کہ میرؔ اور سوداؔ کے ہاں ہمیں علی الترتیب حزن اور شدید جھنجھلاہٹ کی شکل میں ملتی ہیں۔ خواجہ میر دردؔ کے ہاں ردِ عمل کی سب سے احسن صورت یعنی صلح و آشتی اور راضی بہ رضا نظر آتی ہے۔ درپیش صورتِ حال پر ردِ عمل کی صورت اور شدت کا انحصار بڑی حد تک شاعر کی شخصیت کے مرہونِ منت ہے۔ہم میرؔ، سوداؔ اور دردؔ کی شخصیات کے بارے میں صرف وہی کچھ جانتے ہیں جو ہم نے ان کے سلسلہ میں پڑھ رکھا ہے لیکن ذوالفقار عادل کو تو ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس کی شخصیت میں جو صلح و آشتی اور محبت بھری ہوئی ہے، وہی اُس کے اشعار میں بھی سامنے آتی ہے:
صاحب! تمھیں خبر ہی کہاں تھی کہ ہم بھی ہیں
ویسے تو اب بھی ہیں کوئی مر بھی نہیں گئے
_____
تم مجھے کچھ بھی سمجھ سکتے ہو
کچھ نہیں ہے تو غنیمت سمجھو
_____

دل سے گزر رہا ہے کوئی ماتمی جلوس
اور اس کے راستے کو کھلا کر رہے ہیں ہم
_____
کوئی کہیں سے آئے اور مجھ سے کہے کہ زندگی
تیری تلاش میں ہے دوست! بیٹھا ہے کس خیال میں
_____
ہم سے گریہ مکمل نہیں ہو سکا
ہم نے دیوار پر لکھ دیا، معذرت
شخصی ردِ عمل کی اس صورت میں انسان معاشرت سے دور اور فطرت کے نزدیک ہو جاتا ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر شاعر اشاروں کنایوں پر مبنی بیانیہ اظہار سے دو قدم آگے بڑھ کر اپنے اردگرد دیکھتا ہے، مظاہرِ فطرت پر دھیان دیتا ہے۔ یہ ایک طرح سے داخل سے خارج کی طرف اڑان ہوتی ہے۔ مظاہرِ فطرت کا یہ گہرا مشاہدہ لاشعور میں موجود تلخیوں کے ساتھ آمیز ہو کر جب شعر کی صورت دھارتا ہے تو استعارات جنم لیتے ہیں، علامات بنتی ہیں، محاکات تشکیل پاتے ہیں:
بارش ہوئی تو ہے مگر اتنی کہ یہ ظروف
خالی نہیں رہے ہیں تو بھر بھی نہیں گئے
_____
اک شہر کے بعد دوسرا شہر
خاموش رہوں کہ خوش رہوں میں
دنیا بھر کی شاعری میں استعارات و علامات کی اہمیت ہمیشہ سے رہی ہے۔ ہمارے ہاں اردو ادب میں بھی اس ضمن میں خاصا کام ہوا ہے۔علامات کی معاشرتی حیثیت بھی ہوتی ہے اور تاریخی بھی لیکن بہت سی علامات ایسی بھی ملتی ہیں جن کا نہ تو تاریخ سے کوئی معنوی ربط ہوتا ہے اور نہ ہی کسی مخصوص معاشرت سے۔ ناقدین ایسی علامات کو آفاقی علامات قرار دیتے ہیں۔ شہر، رات، دریا، صحرا، موسم، چاند، تارے، سورج وغیرہ علامات کے اسی قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ آفاقی علامات ہمیں ہر معاشرے، ہر عہد کے شعرا کے ہاں بہ آسانی دستیاب ہو جاتی ہیں۔یہ محض ان علامات کے استعمال کرنے والی شخصیت، ان کے طریقِ استعمال اور متعلقاتِ علامت ہی کے باعث ایک دوسرے سے مختلف ٹھیرتی ہیں۔ یہیں شاعر کا ایک اپنا اسلوب وضع ہوتا ہے۔ یوں تو شخصی یا نجی علامات کی بھی اپنی ایک الگ حیثیت ہوتی ہے لیکن قصہ کچھ یوں ہے کہ جو علامات سعدیؔ و حافظؔ کے ہاں شخصی یا نجی علامات ٹھیریں، وہی کثرتِ استعمال کے باعث میرؔ تک آتے آتے یا تو آفاقی علامات کا روپ دھار گئیں یا محض ’’اشارہ‘‘ کے درجہ پر فائز ہو کر رہ گئیں۔ علامات کا ایک ہی معانی میں بار بار استعمال ہونا اسی پر منتج ہوتا ہے۔تاہم زیرک شعرا کے ہاں جب بھی پہلے سے استعمال شدہ علامات اپنی جگہ بناتی ہیں تو تلازمات کے ذریعہ یا تو اپنے معانی تبدیل کر لیتی ہیں یا اپنے موجود معانی میں وسعت پیدا کرلیتی ہیں۔ ہمارے ہاں بڑے شعراء میرؔ ، دردؔ،مصحفیؔ، آتشؔ، غالبؔ، اقبالؔ، یگانہ،ؔ فراقؔ، ناصرؔ، احمد مشتاقؔ وغیرہم کے یہاں یہی رویہ ملتا ہے۔ہمیں ناموں کا یہ سلسلہ احمد مشتاقؔ پر روکنا پڑا کہ علامات کے معاملہ میں ہمارے ممدوح ذوالفقار عادل کا سلسلۂ نسب احمد مشتاق کے راستے غالبؔ و آتشؔ و مصحفیؔ و دردؔ سے جا ملتا ہے۔اپنے ان پیش رووں کے مانند ذوالفقار عادل کے ہاں بھی علامات کا استعمال مکمل فطری ہم آہنگی کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ اشعار دیکھیے:
میں یکہ بان ہوں اور جانتا ہوں
کہ کس گاڑی نے کتنی دیر کی ہے
_____
سبھی اپنی کہانی کہہ رہے ہیں
الاؤ جل رہا ہے خامشی سے
_____
پڑھنے کا وقت جا چکا
صفحے الٹتے جائیے
_____
یہ بارش اور یہ پامال سبزہ
نمو پاتی ہوئی اک رایگانی
_____
میز پہ رکھ دیا ہے سر
پھول کہاں سے لائیے
_____
اُس نے پھینکا ہے جھیل میں پتھر
اب وہ دیکھے ذرا نشیب و فراز
_____
اک تصویر مکمل کر کے اُن آنکھوں سے ڈرتا ہوں
فصلیں پک جانے پر جیسے دہشت اک چنگاری کی
گھٹتے بڑھتے سائے سے عادلؔ، لطف اٹھایا سارا دن
آنگن کی دیوار پہ بیٹھے، ہم نے خوب سواری کی
_____
ناٹک کے کرداروں میں کچھ سچے ہیں، کچھ جھوٹے ہیں
پردے کے پیچھے کوئی ان کو سمجھاتا رہتا ہے
ہر کردار کے پیچھے پیچھے چل دیتا ہے قصہ گو
یوں ہی بیٹھے بیٹھے اپنا کام بڑھاتا رہتا ہے
آوازوں کی بھیڑ میں اک خاموش مسافر دھیرے سے
نامانوس دھنوں میں کوئی ساز بجاتا رہتا ہے
’’دریا‘‘ فطرت اور وقت دونوں کی تخلیقی قوت کا مظہر ہے۔ یہ علامت ایک طرف زمین کی زرخیزی و شادابی کو ظاہر کرتی ہے تو دوسری جانب ہاتھ سے نکلے ہوئے وقت کا اظہاریہ ہے جس کے نتیجے میں زیاں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ’’دریا‘‘ کی علامت آسانی ، عظمت ، بہاؤ ، آوارگی و بے مقصدی ، بیک وقت طاقت و ضعف اور ہمیشگی کو ظاہر کرتی ہے۔’’دریاؤں‘‘ کے اتار چڑھاؤ انسانی شخصیت میں اونچ نیچ کو احسن انداز میں ظاہر کرتے ہیں۔
’’پانی‘‘ اور ’’ہوا‘‘ زندگی کے چار بنیادی عناصر میں سے ہیں۔’’پانی‘‘۔۔۔ زندگی، خوب صورتی، تعیش، دولت، صحت، شدت، تاریکی، سنگ دلی، کثیف اَشیا اور موت کی علامت بھی ہے۔ ’’پانی‘‘ سکون اور شدت دونوں کے لیے علامت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔’’ پانی‘‘ تغیر کی معنویت بھی رکھتا ہے اور اصالت و طہارت کی بھی۔’’ہوا‘‘ پانی میں لہریں پیدا کرتی ہے، ’’ہوا‘‘۔۔۔ سانس، زندگی، خبر رسانی یا ترسیل و ذرائع ابلاغ کی علامت ہے۔ ’’دریا‘‘، ’’پانی‘‘ اور ’’ہوا‘‘ وقت اور زمانہ کے معانی میں بھی بہ کثرت استعمال ہوتے ہیں:
یہ جو دریا کی خموشی ہے، اِسے
ڈوب جانے کی اجازت سمجھو
_____
دریا، دلدل، پربت، جنگل، اندر تک آ پہنچے ہیں
اِس بستی کے رہنے والے تنہائی سے ختم ہوئے
_____
دشت و دریا کی ابتدا سے ہیں
ہم وہی تین دن کے پیاسے ہیں
_____
جانے دریا میں کتنے دریا ہوں
کم سے کم کشتیاں گنا کیجے
_____
دریا کی بات مانیے
دریا کو بھول جائیے
_____
کس کشتی کی عمر ہے کتنی، ملاحوں سے پوچھنے دو
تم سے بھی پوچھیں گے اک دن، دریاؤ! چپ ہو جاؤ
_____
زمانوں سے رقصاں، ہوا اور ہم
جھروکے میں بیٹھا ہوا بادشہ
_____
خاموش کھڑا تھا راستے میں
نقشے سے مٹا دیا گیا ہوں
_____
دنیا داری کی بیماری دل والوں کو چاٹ گئی
وقت کا پہیہ گھوم رہا ہے، چرخہ کون گھمائے نی!
’’نیند‘‘ بہ یک وقت تھکاوٹ اور اس کے بعد سکون یا وقفۂ راحت کی علامت ہے۔ دن بھر معاملاتِ زمانہ میں خواری و زاری کے بعد رات ہی وہ سہولت کا دورانیہ ہے جس میں انسان اپنے آپ کو وقت دے سکتا ہے، اپنے لیے ہنس رو سکتا ہے،’’خواب‘‘ دیکھ سکتا ہے۔دوسری طرف خوابوں کی نفسیاتی تعبیر یہ ہے کہ یہ انسان کی پوری نہ ہو سکنے یادبی ہوئی خواہشوں کی علامت ہیں۔ ایسی صورت میں ’’خوابوں‘‘ کی ہول ناکی و ہیبت ناکی اپنی جگہ مسلم ہے۔
خوابوں کے بارے میں کارل ژونگ (Carl Jung) نے انفرادی لاشعور کے ساتھ ساتھ اجتماعی لاشعورکا نظریہ پیش کیا۔ جدید ماہرینِ نفسیات خوابوں کو زندگی میں بہتری پیدا کرنے اور خود ساختہ تباہی سے محفوظ رہنے کے لیے مفید اشارات سے تعبیر کرتے ہیں۔ڈائریکٹر ا دارہ انتشارِ خوابیدگی، ویلسلے اسپتال، بوسٹن ارنسٹ ہاف مین (Earnest Hoffman) کہتے ہیں کہ خوابوں کا ایک احتمالی عمل ماضی کے واقعات و تجربات کے شعوری یا لاشعوری ریکارڈ کے نظام میںنئے مواد کے انجذاب سے جذباتی ہیجان کم کر نے کے ساتھ ساتھ آیندہ درپیش ذہنی تناؤ اور برہمی پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے:
رات لے جاتی ہے اک اور زمانے میں ہمیں
دن کسی اور زمانے کے لیے آتا ہے
جانے کس وقت نیند آئی ہمیں
جانے کس وقت ہم تمھارے ہوئے
_____
یہ کس نے ہاتھ پیشانی پہ رکھا
ہماری نیند پوری ہو گئی ہے
_____
خوابوں کو وقت دیجیے
نیند میں مسکرائیے
_____
میں روز ایک زمانے کی سیر کرتا ہوں
یہ راستا مرے بستر سے ہو کے جاتا ہے
_____
ناؤ تھی، یا وقت تھا یا خواب تھا
یاد کچھ پڑتا نہیں ہے ٹھیک سے
_____
خواب اتنے ہیں کہ بیٹھے بیٹھے
حالتِ در بہ دری ہو جیسے
_____
فرش پہ رکھ کر خوابوں، چہروں اور لکیروں کو
ہم کچھ دیر، اجازت ہو تو، خالی ہاتھ رہیں
_____
پھر بستر سے اٹھنے کی بھی مہلت کب ملتی ہے عادلؔ
نیند میں آتی ہیں آوازیں، خواب میں لشکر آ جاتے ہیں
زندگی اور ادب میں ’’پھول‘‘ طرزِ ادا، دل نشیں شکل و صورت، بہترین طرزِ معاشرت،احسن اخلاق و عادات، حیاتِ نَو، جوانی، محبت، معصومیت کے لیے علامت کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ مغربی شاعری میں پھولوں کی مختلف اقسام کے نام مختلف اظہاریوں کے لیے استعمال ہوتے آئے ہیں لیکن ہمارے ہاں ’’پھول‘‘ زیادہ تر اچھی اور مثبت قدروں کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ بعض اوقات ہمارے شعرا پھولوں کے رنگوں کا ذکر شامل کرکے بات کو زیادہ بااثر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ذوالفقار عادل کے ہاں ’’پھول‘‘ احسن قدروں، خیر، اور تعلقِ خاطر کا اظہاریہ بن کر جگہ پاتے ہیں:
وابستہ میز پوش کے پھولوں کی زندگی
مہمان سے ہے، میز سے ہے، میزباں سے ہے
_____
باغ میں اجنبی قدموں کے نشاں دیکھے ہیں
یاں کوئی پھول چرانے کے لیے آتا ہے
_____
پھول رکھے ہیں میز پر کس نے
اب یہ دفتر بھی دیکھنا ہے مجھے
_____
ہوئی آغاز پھولوں کی کہانی
وہ پہلا دل، وہ پہلی خوش گمانی
_____
میز پہ روز صبح دم، تازہ گلاب دیکھ کر
لگتا نہیں کہ ہو کوئی مجھ سا مرے عیال میں
_____
یہ پھول مرے لیے کھلے ہیں
ثابت ہی اگر نہ کر سکوں میں
_____
یہ میز، یہ کتاب، یہ دیوار اور میں
کھڑکی میں زرد پھولوں کا انبار اور میں
’’گھر‘‘ ایک مقدس جگہ کی علامت ہے۔’’گھر‘‘ تہذیب کا مرکز ہے۔ ۔ کارل ژونگ (Carl Jung)کے مطابق جو ہمارے اندر برپا ہو رہا ہوتا ہے وہی گھر میں واقع ہوتا ہے۔فرائیڈ گھر کو عورت سے منسوب کرتا ہے جس میں جنسی عوامل بھی در آتے ہیں۔’’گھر‘‘ جائے پناہ اور حفاظت کے لیے مستعمل ہے۔وسیع تر تناظر میں ’’گھر‘‘ کی علامت کائنات کو ظاہر کرتی ہے۔ ’’ گھر‘‘ کی چھت جنت کو محیط ہے۔’’گھر‘‘ دانش کا مخزن ہے۔ اس کے علاوہ ’’گھر‘‘ انسانی جسم اور وطن کو بھی ظاہر کرتا ہے:
دیواروں کو، دروازے کو، آنگن کو
گھر آنے کی عادت زندہ رکھتی ہے
_____
کام اتنے ہیں بیابانوں کے، ویرانوں کے
شام ہو جاتی ہے اور گھر نہیں دیکھا جاتا
_____
گھر میں خالی جگہ زیادہ ہے
اس میں سبزہ اُگا لیا کیجے
_____
جانے کب کرنی پڑ جائے پھر سے اک تقسیم
گھر میں کچھ دیواریں، کچھ دستاویزات رہیں
_____
ہمیں کچھ کام ایسے پڑ گئے ہیں
دیے گھر کے بجھانے پڑ گئے ہیں
_____
یہ گھر والوں کی سوچوں کا اثر ہے
کہ دیواروں میں رخنے پڑ گئے ہیں
_____
گھر کی چھت پر اداس بیٹھا ہوں
میں پرندوں کے پاس بیٹھا ہوں
’’درخت‘‘ ادب میں استعمال ہونے والی قدیم ترین علامتوں میں سے ایک ہے۔’’درخت‘‘ کائنات کے انتظام، اس کی استقامت و استحکام، نشو و نما، تخلیق، تجدید اور ترقی کے عوامل کو ظاہر کرتا ہے۔نامختتم زندگی بل کہ بقائے دوام کی علامت ہے۔اسے کائنات کے مرکز کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔درخت کی جڑیں زمین میں پیوست ہوتی ہیں، شاخیں آسمان کی طرف اٹھتی ہیں۔ زمین میں اپنی جڑیں مضبوط رکھنے کے ساتھ اوپر اٹھنے کے لیے اس سے بہتر علامت شاید ہی کوئی ہو۔ یہ تین دنیاؤں جہنم، زمین اور آسمان کے درمیان ایک مضبوط رشتے کو بھی دکھاتا ہے:
پیڑوں سے بات چیت ذرا کر رہے ہیں ہم
نادیدہ دوستوں کا پتہ کر رہے ہیں ہم
_____
نہ مجھ سے کشتیاں بنتی ہیں اور نہ گھر عادلؔ
یہ سوچتا ہوا اشجار سے نکل آیا
_____
جھک کے ملتے ہیں سب شجر عادلؔ
ایک درویش کی دعا ہے مجھے
_____
پیڑ پرانا ہو جاتا ہے نئے پرندے آنے سے
بات ادھوری ہی رہتی ہے، کچھ بھی کہو، چپ ہو جاؤ
ہم نے ذوالفقار عادل کے زیرِ نظر مجموعہ کا ایک ہلکا پھلکا جائزہ پیش کیا ہے۔ اس کے ہاں چند بہ کثرت استعمال ہونے والی علامات و استعارات کو دیکھا۔ اس حوالہ سے محض اشارات پر اکتفا کیا گیاکہ ایک ایک شعر میں علامات کے استعمال پر بحث مقالہ کی مزید طوالت کا باعث ہو سکتی ہے۔یہ مقالہ ذوالفقار عادل کے قاری کو ایک راستا فراہم کر سکتا ہے۔ باقی شعر کی جملہ کیفیات سے حظ اٹھانا قاری کا حق بنتا ہے۔ اس مجموعۂ کلام کی اشاعت قدرے تاخیر سے ہو رہی ہے لیکن اس کے تیور دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ابھی شاعر کے لاشعور کے نہاں خانوں میں بہت کچھ ہے جس کا مناسب وقت پر مناسب کیفیات و مشاہدات کے ساتھ آمیز ہو کر سامنے آنے کا انتظار جتنا ہمیں ہے اتنا خود شاعر کو بھی ہے۔ اس کا لاشعور اس کے لیے ایک ایسی الماری کا درجہ اختیار کر چکا ہے جس کی چابی اس کے خیال میں اسی الماری کے اندر ہے، دیکھیے یہ خزانہ کب باہر آئے :
اپنے آپ کو گالی دے کر، گھور رہا ہوں تالے کو
الماری میں بھول گیا ہوں پھر چابی الماری کی

(2) ووٹ وصول ہوئے

: مضامین سےمتعلقہ شعراء