بند کریں
شاعری مضامینانٹرویوزگل نوخیز اختر کا خصوصی انٹرویو

انٹرویوز کے مزید مضامین

-
گل نوخیز اختر کا خصوصی انٹرویو
ہمارے ہاں لکھنے والا اپنی تخلیق کو اپنی اولاد کی طرح سمجھتاہے لیکن میرے خیال میں جب ہم کوئی لفظ لکھتے ہیں تو وہ ہماری نہیں بلکہ پبلک پراپرٹی بن جاتا ہے۔میں سمجھتا ہوں تخلیق ایک ایسا کیڑا ہے جو دماغ کو زنگ نہیں لگنے دیتا‘ یہ تخلیق کار کو سکون سے نہیں بیٹھنے دیتا ‘ یہ ہر وقت اس سے کچھ نہ کچھ اگلواتا رہتاہے‘ تاہم اچھا تخلیق کار وہی ہے جس کا کیڑا اُس کے دماغ تک ہی محدود رہے ۔
-1بچپن کیسا تھا؟
جواب۔ بہت برا…میں نے ایک جگہ اپنے بچپن کے بارے میں لکھا تھاکہ میرا بچپن مجھے اس لیے بھی اچھا نہیں لگتا کہ اُن دنوں مجھے ہر دومنٹ بعد کپڑے بدلنا پڑتے تھے‘ بچپن کی اس سے زیادہ بری بات کیا ہوسکتی ہے کہ جس لڑکی کو آپ پسند کرتے ہوں وہ آپ کو گود میں اٹھا کر پوچھے ”منے تمہارے بڑے بھائی کب گھر آئیں گے؟“۔ بچپن کی صرف ایک بات مجھے اچھی لگتی ہے کہ اُس وقت مجھے انجکشن بازو پرنہیں لگتا تھا۔
-2لکھنا کیوں شروع کیا؟
جواب۔ کیونکہ پڑھنا آگیا تھا‘پڑھتے پڑھتے احساس ہوا کہ کیا میں بھی کچھ ایسا لکھ سکتا ہوں جسے لوگ پڑھیں‘ قاری سے لکھاری بننا بہت آسان ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں جو لکھاری بن جاتا ہے وہ پھر قاری نہیں بن پاتا۔لوگ سمجھتے ہیں کہ جو لکھتا ہے وہ رائٹر ہے ‘حالانکہ اصل رائٹر وہ ہوتاہے جو پڑھتا زیادہ اور لکھتا کم ہے۔مجھے یہ شوق بچوں کی چھوٹی چھوٹی کہانیاں پڑھ کر پیدا ہوا تھا‘ 1986 میں پہلی تحریر اخبار میں چھپی تو دل و دماغ میں خوشی کا طوفان آگیا اورپھرمجھے پتا چل گیا کہ ہتھیار ‘ پیسے اورآواز بلند کیے بغیر بھی اپنی بات لوگوں تک پہنچائی جاسکتی ہے‘ میں نے ایک غریب گھر میں آنکھ کھولی تھی لہذا قلم کی بیساکھی نے مجھے آگے چلانے میں بڑا سہارا دیا۔
-3آپ کو کیسے لوگ پسند آتے ہیں؟
جواب۔ ہنسنے ہنسانے والے‘ بات بات پر بونگیاں مارنے والے‘ چھوٹی چھوٹی حرکتوں سے قہقہے کشید کرنے والے‘دُکھوں کا مذاق اڑانے والے‘اپنے آپ کو کم تر سمجھنے والے اور بدصورتی میں سے بھی خوبصورتی ڈھونڈ نکالنے والے۔
-4آپ عام آدمی کی زندگی سے بہت قریب لکھتے ہیں ان سب میں آپ خود کہاں ہیں؟لفظوں میں؟ تجربے میں؟
جواب۔ عام آدمی سے بڑا خاص آدمی کوئی نہیں ہوتا‘ عام آدمی زندگی کے ہر رنگ سے واقف ہوتاہے ‘ میں اب تک انتہائی عام زندگی گذار رہا ہوں کیونکہ خاص زندگی گذارنے جتنے پیسے نہیں ہیں میرے پاس ‘ ویسے دل بڑا کرتاہے کہ کافی سارے پیسے ہوں۔میرا خیا ل ہے ہم سب عام لوگ ہیں‘ سب کے مسائل ایک جیسے ہیں‘ سب کی دکھ تکالیف کی نوعیت ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہے اسی لیے ہمیں عام بات اپنی اپنی سی لگتی ہے۔جہاں تک میرے تجربے کی بات ہے تو میں نے داتا صاحب کے مزار پر بھی پناہ لی‘ چوبرجی پارک میں بھی سوتا رہا ہوں‘ پیدل بھی گھوما ہوں‘ موٹر سائیکل بھی چلائی‘ بسوں میں بھی کھڑے ہوکر سفر کیا اور اب گاڑی بھی انجوائے کرتاہوں۔ میرے لیے ہر لمحہ ایک نیا تجربہ ہے اور میں ہر ہر لمحے سے زندگی کشید کرنا چاہتا ہوں‘ اسی تجربے نے مجھے مختلف لوگوں کو سمجھنے کا موقع دیا۔مجھے زندہ رہنے کا بہت شوق ہے اسی لیے خواہشات کو سر پر سوار نہیں کرتا‘ پیسہ نہیں ملتا تو پوری محنت کرتاہوں‘ مل جائے تو ڈبل محنت سے خرچ کر دیتا ہوں‘ اسی لیے آج تک نہ میرے پاس ایک روپیہ جمع ہوا ہے اور نہ کبھی ایک روپے کی کمی آئی ہے۔ زندہ رہنے کا یہ ہنر میں نے استاد محترم عطاء الحق قاسمی صاحب سے سیکھا ہے۔
-5لکھنے والے کے لئے تخلیق کیا معنی رکھتی ہے؟
جواب۔ہمارے ہاں لکھنے والا اپنی تخلیق کو اپنی اولاد کی طرح سمجھتاہے لیکن میرے خیال میں جب ہم کوئی لفظ لکھتے ہیں تو وہ ہماری نہیں بلکہ پبلک پراپرٹی بن جاتا ہے۔میں سمجھتا ہوں تخلیق ایک ایسا کیڑا ہے جو دماغ کو زنگ نہیں لگنے دیتا‘ یہ تخلیق کار کو سکون سے نہیں بیٹھنے دیتا ‘ یہ ہر وقت اس سے کچھ نہ کچھ اگلواتا رہتاہے‘ تاہم اچھا تخلیق کار وہی ہے جس کا کیڑا اُس کے دماغ تک ہی محدود رہے ۔
-6گل نوخیز کون ہے؟اپنے بارے میں کچھ بتائیے۔
جواب۔گل نوخیز کچھ بھی نہیں‘ ایک آوارہ انسان جسے خوبصورت لڑکیاں بہت پسند ہیں‘ جسے موسیقی سے عشق ہے‘ جسے خوشبو سے پیار ہے‘جسے سگریٹ کا پہلا کش بھی آخری کش والا مزا دیتاہے۔جس کے اردگرد مزیدار اور بکواس دوستوں کا ہجوم ہے۔مجھے دوستوں میں رہنا پسندہے‘ دیواروں سے باتیں کرنے کی بجائے ”دیواروں کے اوپر سے باتیں کرنا“ زیادہ اچھا لگتاہے۔اپنے بارے میں تو بس اتنا ہی جانتا ہوں‘ کسی اور کے بارے میں البتہ بہت کچھ بتا سکتا ہوں۔
-7شوق سے کیا کھاتے ہیں؟
جواب۔ بھنڈیاں‘ دال ماش‘ انڈہ پیاز‘چکن‘ کچی ہری مرچ اور میٹھے میں برفی‘ کشتی کیک‘ مرونڈا اورسوہن حلوہ۔
-8آپ نے بہت سے انٹرنیشل ایوارڈز بھی جیتے ہیں ان کے بارے میں کچھ بتائیے اور شارٹ سٹوری کی فارم"مائم " کے بارے بھی ہمارے پڑھنے والوں کو بتائیں۔
جواب۔ میں نے کوئی انٹرنیشنل ایوارڈ نہیں جیتا‘ ہاں اتفاق سے میری لکھی ہوئی شارٹ فلمز کو انٹرنیشنل ایوارڈز ملے ہیں جن میں ”بے غیرت“ اور”ہیولہ“ شامل ہیں۔ ایک شارٹ فلم ”فرسٹ ہینڈ“ ماضی کے معروف اداکار ننھا مرحوم کے صاحبزادے نقی خاور صاحب نے امریکہ میں بنائی تھی‘ انتہائی اچھی پکچرائزیشن کی بدولت اِسے ایوارڈز بھی زیادہ ملے۔ ”مائم“ میری پسندیدہ تکنیک ہے‘ مائم سے مراد ایک ایسی کہانی ہے جس میں کوئی ڈائیلاگ نہیں ہوتا۔ اس کی بہترین مثال چارلی چپلن اور مسٹر بین کی فلمیں ہیں۔لیکن مائم محض مزاح کا نام نہیں‘ اس میں سنجیدہ بات بھی کی جاسکتی ہے‘ اتفاق سے میری جتنی بھی شارٹ فلمز ہیں ان کی اکثریت مائم پر مشتمل ہے۔ شارٹ فلم پانچ سے دس منٹ دورانئے کی ہوتی ہے اور اسی ٹائم میں کوئی بھرپور میسج دینا ہوتا ہے۔یہاں اپنے ذہین اور نوجوان ڈائریکٹر عبدالقدیر کا حوالہ ضرور دوں گا‘ اس نوجوان نے ماس کیمونیکیشن کرنے کے باوجود میری شارٹ فلمیں بہت اچھی بنائی ہیں۔
-9کوئی ایک ایسا واقعہ جس نے آپ کی زندگی پر بہت گہرا اثر چھوڑا ہو؟
جواب۔ہر واقعہ ہی میری زندگی پر گہرا اثر چھوڑتاہے اس لیے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ جس لڑکی سے مجھے جوانی میں شدید محبت تھی اس کی شادی کہیں اور ہوگئی لیکن حرام ہے جو اِس واقعے نے مجھ پر یا اُس پر کوئی اثر چھوڑا ہو۔ اب وہ اپنے گھر میں اور میں اپنے گھر میں خوش ہوں۔
-10زندگی سے کیا چاہتے ہیں؟
جواب ۔اپنا مکان…جس کے دروازے پر سفید رنگ کی پلیٹ پر سرخ رنگ میں ”نوخیزیاں“ لکھا ہو‘ اور میں یہ مکان اپنی بیوی کے نام کردوں۔ویسے تو میں کرائے کا مکان بھی اُس کے نام کرنے کو تیار ہوں لیکن پتا نہیں کیوں بیگم نہیں مانتی۔
11 ۔کوئی ایک ایسی جگہ جہاں آپ بہت سکون محسوس کرتے ہیں؟
جواب۔ایک تو نہیں دو جگہ ہیں…میرا دفتر اورمیرا گھر۔
-12بیان کی کونسی صنف آپ کے دل کے زیادہ قریب ہے،شاعری؟ ڈرامہ؟ یا بطور کالم نگاری؟
جواب۔ مجھے کالم نگاری میں اپنی بات کہنے میں زیادہ آسانی محسوس ہوتی ہے کیونکہ شاعری دو لائنوں میں پورا بیان مانگتی ہے‘ ڈرامہ پروڈیوسر کی مرضی کے مطابق لکھنا پڑتاہے …البتہ کالم میں مجھ پر کوئی پابندی نہیں‘ یہاں میں بہت کچھ بہت آسانی سے کہہ سکتا ہوں۔
-13ملکی حالات ایک آرٹسٹ پر کتنا اثر انداز ہوتے ہیں؟
جواب۔ بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں‘ سرکاری ٹی وی پر حکومت کے خلاف بات نہیں کی جاسکتی اور پرائیویٹ ٹی وی ریٹنگ مانگتے ہیں ۔ مالی طور پر ملکی حالات کا اثر یوں ہوتاہے کہ دھرنوں کے دوران ڈیڑھ ماہ تک میرے پروگرام آن ایئر نہیں گئے ‘ ظاہری بات ہے اس کے پیسے بھی نہیں ملے۔ اور یہ پیسے صرف مجھے ہی نہیں آؤٹ سورس پوری ٹیم کو نہیں ملے۔
-14کس طرح کی موسیقی سنتے ہیں؟
جواب۔ بیڈ روم میں مہدی حسن‘ آفس میں ” شیلا کی جوانی“ گاڑی چلاتے ہوئے نصیبو لعل اور دوستوں میں شطرنج کھیلتے ہوئے ”شکیرا“۔
-15محبت پر یقین رکھتے ہیں؟
جواب۔محبت آسانی پیدا کرنے کا نام ہے‘ جس سے آپ کو پیار ہوتاہے آپ اس کے لیے جگہ جگہ آسانی پیدا کرتے ہیں لہذا آسانی پیدا کرنے والی محبت پر یقین رکھتاہوں‘ لیکن جس محبت کی طرف آپ کا اشارہ ہے …اُس پر تو کچھ زیادہ ہی یقین رکھتاہوں۔
-16انسانی رویوں کو خوب جانتے ہیں،کون سے ایسے لوگ ہیں جو کسی کی بھی زندگی کا رخ بدل سکنے پر قادر ہوتے ہیں؟
جواب۔مجھے ایسے لوگ بالکل بھی پسند نہیں جو کسی کی زندگی کا رخ بدل دیں‘ میرے لیے کسی کو اپنا بنانے سے زیادہ کسی کا ہوجانا زیادہ خوبصورت فعل ہے۔ دنیا بھری پڑی ہے ایسے لوگوں سے جو دوسروں کی زندگیوں کا رخ بدلتے پھر رہے ہیں۔میرے اندر یہ صلاحیت نہیں ‘ مجھے تو آپ دال ماش کی دعوت دیں اور بعد میں برفی منگوا لیں…میں اپنی زندگی کا رخ آپ کی طرف کر لوں گا۔
-17اپنی تصانیف کے بارے میں کچھ بتائیں۔
جواب۔تصانیف بڑا بھاری بھرکم لفظ ہے‘ میں نے تو کچھ بونگیاں ماری ہیں جنہیں پبلشرز نے شائع کر دیا ہے۔ اِن میں ”نوخیزیاں‘ ڈونٹ وری‘ ٹائیں ٹائیں فش‘ طلسمہ‘ آنکھیں غزل ہیں آپ کی‘ رائٹرز ڈائریکٹری‘ سکرپٹ رائٹنگ‘ شرارتی‘چھارجی وغیرہ شامل ہیں۔
-18کسی بھی پراجیکٹ کی کامیابی پر کیسا محسوس کرتے ہیں؟
جواب۔ سچی بات ہے کہ کامیابی کبھی بھی میرے لیے خوشی کی علامت نہیں رہی‘پراجیکٹ کامیاب ہوجائیں تومیری ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے‘ میرے لیے خوشی کا لمحہ وہ ہوتاہے جب میرے سامنے والا بھی خوش ہو۔
-19کیادرویشی پر یقین رکھتے ہیں؟
جواب۔درویشی ایک کیفیت کا نام ہے جو کسی میں کسی بھی وقت پیدا ہوسکتی ہے…لیکن جس فل ٹائم درویشی کی طرف آپ کا اشارہ ہے اس کے لیے میری طرف سے انکار ہی سمجھیں۔
-20کیا میڈیا میں پیسہ کمانا آسان ہے؟
جواب۔ یہ ہوا ناں سوال…بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ میڈیا میں پیسہ کمانا بہت آسان ہے حالانکہ آپ پاکستان کے تمام چینلز کے اُن لوگوں کی ایک فہرست بنائیں جو ایک لاکھ سے زیادہ پیسے لیتے ہیں۔ میں شرط لگا کر کہہ سکتا ہوں کہ یہ فہرست دو یا تین ہزار بندوں سے زیادہ نہیں بنے گی۔ لہذا! یہ ذہن سے نکال دیں کہ میڈیا میں ہر بندہ پیسا کما سکتاہے‘ میڈیا ریٹنگ کا محتاج ہے‘ اگر آپ کسی چینل کو اچھی ریٹنگ دلا سکتے ہیں تو چینل بھی آپ کو اچھی تنخواہ دے گا۔ باالفاظ دیگر اگر آپ چینل کو 20 لاکھ کما کردے سکتے ہیں تو چینل آپ کو اس میں سے تین لاکھ ہنسی خوشی دے دے گا۔
-21اپنے پڑھنے والوں سے کیا کہنا چاہیں گے؟
جواب۔میں نے کیا کہنا ہے‘ یہ میری تحریریں پڑھ لیتے ہیں ان کی مہربانی ہے ورنہ یہ مجھ سے کہیں زیادہ اچھا لکھ سکتے ہیں اور میری تحریروں سے کہیں زیادہ اچھی تحریریں پڑھتے ہیں۔

(12) ووٹ وصول ہوئے

: مضامین سےمتعلقہ شعراء