بند کریں
شاعری مضامینمضامینگفتگو کا معنویاتی تجزیہ

مضامین کے مزید مضامین

پچھلے مضامین -
گفتگو کا معنویاتی تجزیہ
الیاس بابر اعوان کی شاعری پر عمران شاہد بھنڈر صاحب کا خوبصورت مضمون

’’گفتگو‘‘ کا معنویاتی تجزیہ
عمران شاہد بھنڈر

چند روز قبل الیاس بابر اعوان کی نظموں پر مشتمل کتاب کا مسودہ موصول ہوا۔ ان کی شعری فکر کو دریافت کرنے کے لیے میں نے ان کی نظم بعنوان ’’گفتگو‘‘ کا انتخاب کیا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ سات مصرعوں پر مشتمل اس مختصر نظم میں معنوی اعتبار سے عصر حاضر کے ایک انتہائی متعلقہ،اورگہرے اور پیچیدہ فلسفیانہ قضیے کوپیش کیا گیا ہے ، جو ویسے تو ان کی مابعد الطبیعاتی طبع اور ’معنی‘ کی تعیین کی خواہش کے تحت ان کی تمام نظموں میں موجود ہے، مگر عہدِ مابعد جدید کی غالب اصطلاحات کے تحت ’گفتگو‘ کے تصور کی تفہیم اسے اس لسانی علمیات کے لیے بہت متعلقہ بنا دیتی ہے، جس کے تحت عصرِ مابعد جدید کی فکری و نظری، سماجی و سیاسی اور فنی و ثقافتی جہات کا تجزیہ پیش کیا جارہا ہے۔ مقصد شاعری کو تھیوری کا تابع کرنا نہیں اور نہ ہی تھیوری کو شاعری کے تابع لانا ہے،بلکہ تفہیم و تشریح کے عمل سے گزرتے ہوئے شاعر کے فکری مزاج سے ہم آہنگ ہونے کے علاوہ چند ایک تضادات کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے، جو شعری متن میں شاعر کی منشا کے برعکس در آتے ہیں۔ الیاس بابر اعوان کی دیگر نظموں میں معنی کی تعیین کے سلسلے میں موجود بے چینی و اضطراب بہت عیاں ہے، مگر جس طرح ’’نئے حکم نامے کی شرح، نوآبادیاتِ حیاتیات اور اذیت کے پھندے‘‘ وغیرہ جیسی نظموں میں عالمی سامراج کے غاصبانہ کردار، کمزور اقوام کی بے بسی اور اقدار کا انہدام، فکری درستی کے حوالے سے عدم تیقن اور متضاد سیاسی و سماجی عمل کا شعور توبہت نمایاں ہے،مگر ان تضادات کی تحلیل سے قبل ہی نظموں کا اختتام اور شاعر کی خاموشی فکری شعور کی تحدید کے قضیے کو اجاگر کرتی ہے۔ تاہم ان کی دھیمے آہنگ کی نظم ’گفتگو‘ فکری سطح پر قدرے محتاط انداز میں لکھی گئی ہے۔ اس میں تضاد کی تحلیل کا عمل بھی دکھائی دیتاہے اور نظم میں بظاہر وہ کسی سماجی مسئلے سے بھی نبرد آزما محسوس نہیں ہوتے، مگر ذرا گہرائی میں دیکھنے سے واضح ہوتا ہے کہ اسی نظم میں ’موجود ‘ تصورات کو ان کی شعری فکر کی بنیاد میں کارفرما دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری یہ ہے کہ اس نظم میں موجود تصورات اور غیر تصورات(جیسا کہ عدم تعیین) کو دریافت کیا جائے تاکہ ان کی شعری فکر کو کلیت میں دیکھتے ہوئے اس بنیاد تک رسائی حاصل کی جاسکے کہ جو ان کے شعری شعور میں کارفرما ہے۔
ہمارے درمیاں ہزار لفظ آگئے
 تو یک بیک ٹھہر گیا
سماعت و کلام کا یہ سلسلہ
چہار سمت خامشی ٹھہر گئی
اِسے نہ موت جانیے
یہ خامشی!
یہ خامشی تو گفتگو کا ربط ہے
 ’ گفتگو‘ ایک ایسی نظم ہے ، جو پہلی نظر میں جتنی سادہ دکھائی دیتی ہے،، بنظرِغور مطالعہ کرنے سے اتنی ہی پیچیدہ ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس تجزیے کا مقصد اس نظم کے ظاہر سے اس کے جوہر تک پہنچ کر اس کی پیچیدگی کو عیاں کرنا ہے۔ظاہری طور پر یہ کہ اس نظم میں شاعر نے خود تصورات اور معنی کی نوعیت کو کیسے متشکل کیا، اور جوہر یہ کہ شعری متن میں ازخودتعقلات کی کیا ترتیب بنتی ہے اور یہ معنی کی نوعیت پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے! نظم ایک مرکزی مگر انتہائی اہم خیال کے گرد گردش کرتی ہے کہ ’گفتگو‘ دراصل تکلم اور خا’موشی‘ کی وحدت کا استعارہ ہے ، اور تکلم اور خاموشی کے باہمی ربط سے ہی’ گفتگو‘ کا بامعنی تصور تشکیل پاسکتا ہے۔واضح رہے کہ گفتگو، جس میں ’دوسرا‘ شامل ہوتا ہے، ہمیشہ بامعنی ہوتی ہے، جبکہ خود کلامی معنویت سے عاری ہوتی ہے۔ وجہ اس کی یہ کہ اس میں ’دوسرا‘ شامل نہیں ہوتا۔گفتگو، تکلم اور خاموشی کی وحدت کا استعارا اس لیے ہے کہ تکلم کے اندر خاموشی کا تصور موجود ہوتا ہے، جس پر میں آگے چل کر جدلیاتی نقطۂ نظر سے روشنی ڈالوں گا۔ استعارے کو وحدت میں لانا بہت مشکل مرحلہ ہے، کیونکہ استعارے کا عمومی اطلاق یا اظہار وحدت کی لاتشکیل پر منتج ہوتا ہے، مگر اس لاتشکیل کو پہلے ہی سے تصور کرنا ضروری نہیں۔ بامعنی گفتگو کے لیے وحدت کے تصور کا عمل میں آنا ضروری ہے۔ویسے تو گفتگو میں تکلم اور خاموشی کی وحدت کا خیال بالکل عام اور سادہ سا محسوس ہوتا ہے، مگر لسانی ساختیات کی تشکیل و ارتقا اور بعد ازاں اس پر لاتشکیلی نظریے کی تنقید سے تکلم اور خاموشی پر مبنی تصورات کے ساتھ جڑی ہوئی ثقافتی، سماجی اور سیاسی اقدار اور تصورات کی شکست و ریخت کا سلسلہ بھی ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے، جس سے نظم کا بظاہر سادہ دکھائی دینے والا خیال بہت اہمیت اختیار کرلیتاہے۔
’گفتگو‘ محض دو افراد کے درمیان الفاظ کی بے معنی تکرار نہیں ہے، یہ معنی کی تشکیل اور اس کے التوا سے عبارت ہے۔’التوا‘ کا تصور یہاں لاتشکیل پر نہیں، جدلیات پر استوار ہے، کیونکہ اسی صورت میں تکلم اور خاموشی کی ’وحدت‘ قائم رہتی ہے اور وجود کا مثبت اظہار ہوتا ہے۔ نظم میں ایک مخصوص ثقافتی اور سماجی پسِ منظر کے باعث ’ معنی ‘ کی احتیاج کو محسوس کرایا گیاہے۔ اس سے شاعر کی غالب آئیڈیالوجی اور ان کی شاعری کاعمومی فکری رجحان بھی سامنے آتا ہے۔نظم میں تصورات جس طرح تشکیل پاتے ہیں، اس سے ان کی آئیڈیالوجی کی تحدید کی تفہیم میں بھی مدد ملتی ہے۔ ہر نوع کی اقدار کی درجہ بندی اور معنی کی تشکیل ’’گفتگو‘‘ کی لازمی صفت ہے اور گفتگو’موجودگی‘ کی علامت ہے ، جبکہ ’موجودگی‘ کسی بھی صورت معنویت سے مبرا نہیں ہوسکتی ۔معنی کو پس منظر یا التوا میں رکھنے کے لیے لازمی ہے کہ ’موجودگی‘ جن تصورات پر قائم ہے، ان کے درمیان تضادات کو دکھایا جائے، تضادات صرف لاتشکیل کی خصوصیت نہیں ہیں، ان کا باکمال اظہار جدلیات میں ہوتا ہے۔ جہاں اثبات کا لمحہ یا معنی کی تشکیل اثبات اور نفی کے وحدتی تصور پر قائم ہوتی ہے مگر یہ نظم کا غالب فکری رجحان نہیں ہے، اس کے باجود شعری متن کی حرکت کی تفہیم جدلیاتی انداز میں بہتر طور پر ہوسکتی ہے۔ ’’گفتگو‘‘ زندگی کی علامت ہے، اور زندگی معنویت سے عبارت ہے۔’موجودگی‘ یعنی زندگی کی بنیاد پر نوعِ انسانی کی تمام فکری تاریخ ’معنی‘ سے ہم آہنگ ہونے کی تاریخ ہے۔ اور یہی خیال اس نظم میں پنہاں ہے۔
نظم کے پہلے مصرعے ’’ہمارے درمیاں ہزاروں لفظ آگئے‘‘ کی نوعیت استعاراتی ہے، جس کے تحت باہمی تکلم یعنی ’گفتگو‘ کا تصور تشکیل دیا گیا ہے ۔جونہی ہم دوسرا مصرعہ پڑھتے ہیں تو ایک تضاد کی جانب بڑھتے ہیں، ویسے تو یہ تضاد پہلے ہی مصرعے میں موجود ہے، مگر دوسرے مصرعے ’’تو یک بیک ٹھہر گیا‘‘ میں اس تضاد کو واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔پہلے مصرعے میں تضاد ’خاموش‘ ہے، جبکہ دوسرے مصرعے میں ’خاموشی‘ تکلم کے تضاد کے طور پر سامنے آتی ہے۔تضاد یہ کہ دوسرے مصرعے میں خاموشی کا تصور تکلم کے تخالف کے طور پر سامنے آتا ہے۔ پہلے مصرعے سے یہ کہیں بھی عیاں نہیں ہوتا کہ ’گفتگو‘ کو بروئے کار لانے کے لیے تکلم کا آغاز کس نے کیا تھا؟یقیناََ ایک خاموش تھا،اس لیے پہلے ہی مصرعے میں خاموشی کی عدم تعیین کا پہلو نمایاں ہے۔پہلے مصرعے سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ دونوں کے مابین گفتگو جاری تھی۔ دونوں کے گفتگو میں شامل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ایک خاموش ہو۔ ظاہر ہے کہ ایک خاموش ہوگا تو دوسرا کلام کرسکے گا۔ لہذا خاموشی کا یہ تضاد بھی پہلے ہی مصرعے میں موجود ہے۔ دوسرے مصرعے میں خاموشی کو ’دوسرے‘ سے منسوب کردیا گیا ہے، مگر خاموشی کے اس تصور کی تشکیل اپنے مخصوص پسِ منظر اور شاعر کی مابعد الطبیعاتی طبع کے تحت ہوئی ہے، یعنی خاموش خود شاعر نہیں ہوا بلکہ خاموشی کو ’’دوسرے سے ہی منسوب کیا گیا ہے۔ خاموشی اور تکلم کی جدلیات کی تفہیم سے یہ تضاد سامنے آتا ہے۔ تاہم نظم کے پہلے ہی مصرعے سے جنم لینے والی معنویت کودوسرے مصرعے میں خاموشی کے تصور سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔بظاہر پہلے مصرعے کی عدم تعیین کے بعد دوسرے مصرعے میں ’معنی‘ کا تعین ہوا ہے،خاموشی کو خود سے باہر دیکھنا اور تکلم کو خود میں دیکھنا مابعد الطبیعاتی رجحان ہے جبکہ معنی کا تعین پہلے مصرعے کی جدلیات سے بھی عیاں ہوجاتا ہے۔‘‘ نظم کی ساخت کے لیے دوسرے مصرعے کی ضرورت تو محسوس ہوتی ہے، مگر معنی کی نوعیت کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔شاعر کا معنی کو اس طریقے سے متعین کرنے کا یہ تصور نیا ہرگز نہیں ہے۔ الٰہیات، منطق اور علم الوجود ’پہلے‘ کی افضلیت کے تصور کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ازل سے انہی مفاہیم کی تشکیل کرتے رہے ہیں۔خود کو مکمل اور دوسرے کو عدم تکیل کی علامت سمجھا جاتا ہے، جبکہ دوسرے کی جانب ’حوالہ ‘ پہلے کی ’’تکمیل‘‘ کی شرط ہوتا ہے۔ یہ تصورات خیال پرستی کی آماجگاہ ہیں، جن کے تحت ’معنی‘ کو یا تو خارجیت یا مادیت سے منقطع کرکے پیش کیا جاتا ہے،یا پھر خارجیت کی اس انداز میں تخفیف کرکے معنی کی تشکیل کا تصور قائم کیا جاتا ہے کہ جس سے ’دوسرے‘ کا وجود خطرے میں پڑا رہتا ہے ، مقصو دصرف ’پہلے‘ کی فوقیت کو قائم رکھنا ہوتا ہے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس مابعد الطبیعاتی خیال ،جو کہ شاعر کی آئیڈیالوجی ہے، کی نفی ہوتی ہے یا نہیں؟
 پہلے مصرعے کی ساخت پر توجہ مرکوز کرنے سے یہ عیاں ہوا ہے کہ خاموشی کا تصور پہلے مصرعے کے اندر ہی موجود ہے۔ دوسرے مصرعے میں خاموشی کا مفہوم معنی کا التوا ہے، جسے شاعر نے ’دوسرے‘ سے منسوب کیا ہے ، اور تکلم اس ’التوا‘ کا نفی کرتا ہے۔ ’دوسرے‘ سے خاموشی کو منسوب کرنا تاکہ معنی کے التوا کو سامنے لایا جاسکے، محض اس لیے ہے کہ شاعر یعنی ’پہلا‘ معنی کی تعیین کا علمبردار کہلوانا چاہتا ہے۔پہلے ہی مصرعے میں ’معنی‘ کے غیر معین ہونے کا تصور اس انداز میں ابھرا ہے کہ دوسرے مصرعے میں شاعر کی خاموشی کو ’دوسرے‘ سے منسوب کرنے کی خواہش کے باوجود اس ’تضاد‘ کو مخفی نہیں رکھا جاسکتاجسے پہلے مصرعے میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ خاموشی چونکہ تکلم سے ’ربط‘ میں رہتی ہے، جیسا کہ نظم کے آخری مصرعے میں بھی کہا گیا ہے کہ ’’یہ خامشی تو گفتگو کا ربط ہے‘‘ اس لیے تکلم کے باقاعدہ آغاز سے پہلے کی خاموشی کے تصور کے بغیر تکلم کا کوئی بھی واضح مفہوم تشکیل نہیں دیا جاسکتا۔ لہذا خاموشی کو دو سطحوں پر دیکھا جاسکتا ہے: ایک تکلم کے بعد کی خاموشی تاکہ دوسرا کلام کرسکے، اور دوسری تکلم سے پہلے کی خاموشی کہ جو تکلم کو ممکن بناتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر شاعر اپنی خواہش کے تحت تکلم کا آغاز کرتا ہے تو اس تکلم سے پہلے کی خاموشی کے تصور کا اطلاق خود شاعر پر بھی ہوتا ہے۔ کیونکہ خاموشی جہاں تکلم کا اگلا مرحلہ ہے وہاں تکلم کے آغاز کی شرط بھی ہے، یعنی خاموشی جسے دوسرے کی ’صفت ‘کے طور پر پیش کیا گیا تھا، وہ ’پہلے‘ کے وجود کی معنویت کا تعین بھی کرتی ہے۔اس طرح شاعر، جو کہ پہلا ہے بھی اسی سطح پر آکھڑا ہوتا ہے، جس سطح پر وہ ’دوسرے‘ کو لانا چاہتا ہے۔
’دوسرے‘ سے خاموشی شاعرخود منسوب کرکے اس متعین معنی کی نفی کرتا ہے کہ جس کا خود شاعر خواہشمند ہے اور ’دوسرے‘ کی نفی کے تصور سے شاعر اپنا اثبات کرانا چاہتا ہے۔خاموشی جو کہ دوسرے کی علامت ہے، پہلے مصرعے میں وہی خاموشی پہلے کی علامت ہے۔ تاہم اثبات دونوں ہی صورتوں میں ہوتا ہے۔ اثبات پہلے ہی مصرعے میں خاموشی کی نفی کا تصور ہو یا دوسرے مصرعے میں ’دوسرے‘ کی خاموشی کی علامت ہو، تکلم کی تعیین کا عمل طے پاتا ہے، یہی وہ خیال ہے کہ جس سے ’لاتشکیل‘ کی ’نفی‘ ہوتی ہے۔ اثبات ، خاموشی کے تصور کے بغیر ممکن نہیں ہے، اور اس خاموشی کو دوسرے میں تلاش کرنے کی بجائے ’پہلے‘ میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ نظم میں شاعر نے خاموشی کو دوسرے سے منسوب کیا ہے جس سے یہ تصور ابھرتا ہے کہ شاعر کے وجود کا اثبات ’دوسرے‘ کے وجود کے بغیر ممکن نہیں ہے، مگر جب خاموشی کا تصور پہلے ہی کے اندر دکھا دیا جائے تو اس سے پہلے اور دوسرے کے ثنویت کے تصور کی نفی ہوتی ہے۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ’خاموشی‘ کا تصورتکلم کی شرط ہے ۔ شاعر ’دوسرے‘ کا حوالہ محض اس لیے دیتا ہے کہ خود گفتگو کا نمائندہ بن کر ’دوسرے‘ سے’ خاموشی‘ کومنسوب کرے اور بعد ازاں ’خاموشی‘ کو ’گفتگو‘ کا ربط محض اس لیے کہہ سکے کہ اپنے وجود کو ’’بحال‘‘ کرسکے۔ یہ تضاد مصنوعی نہیں حقیقی ہے جو پہلے ہی مصرعے میں موجود ہے، مگر اس کا احساس شاعر کو دوسرے مصرعے میں ہواہے۔ پہلے مصرعے کا یہ تضاد شاعر کی نظر سے اوجھل رہا ہے۔یہ تضاد شاعر کی منشا و مرضی کے برعکس شعری متن میں در آیا ہے۔نظم کا جدلیاتی مطالعہ اس تضاد کو عیاں کرتاہے۔
 دلچسپ نکتہ بہرحال یہ ہے کہ’گفتگو ‘ میں ’خاموشی‘ ایک مختلف سطح پر اظہار پاتی ہے۔ اپنی اظہاری ہیئت میں وہ شاعر کے وجود کو معنویت دینے کا وسیلہ بنتی ہے۔ اگر تو محض ثقافتی پس منظر کو دیکھیں تو ’خامشی‘ کو موت کی علامت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے،جس کی شاعر نے ’’اسے نہ موت جانیے‘‘ کہہ کر نفی کی ہے۔ ’گفتگو‘ کی اجتماعی ساخت میں ’خامشی‘ گفتگو سے الگ ہونے کا تصور نہیں، بلکہ یہ ’خامشی‘ گفتگو کے تصور میں متحرک رہ کر موت کی علامت کی بجائے زندگی کا استعارا بننے کا عمل ہے۔ یعنی خاموشی ایک ایسا لمحہ نہیں ہے جو عدم ارتباط کی علامت ہو کہ جو وجودی یا نظری خلیج میں اضافہ کرے اور جس سے ’معنی‘ کے انہدام کا خدشہ ہو، بلکہ یہ تو ’گفتگو‘ کی تکمیل کی صورت ہے۔ اور گفتگو ’زندگی‘ کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اس حوالے سے دیکھیں تو ’خاموشی‘ کو گفتگو سے ارتباط میں لانا ایک رجائی پہلو بھی ہے، مقصد جس کا گفتگو کے تسلسل کو قائم رکھنا ہے، تسلسل ، حرکت و تغیر کا عکاس ہے۔ لہذا ’گفتگو‘ کے لیے خاموشی کا محتاج ہونا، محض اس لیے کہ گفتگو جاری رہ سکے، نظم میں’ مثبت‘ معنوی رجحان کو عیاں کرتا ہے۔ یہاں یہ واضح رہے کہ مابعد جدیدتھیوری میں ’اثبات‘ ہمیشہ’ التوا‘ میں رہتا ہے، جبکہ نظم کے اظہاریہ پیرائے میں ’اثبات‘ کا قضیہ موجود ہے، جو لاتشکیل کا نہیں ،جدلیات کا مقولہ ہے۔
 الیاس بابر اعوان کی نظم گفتگو‘ میں باطنیت کی نفی کا ’مثبت ‘تصور ملتا ہے۔ یہ پہلو انہیں ان کے عہد سے جوڑتا ہے۔ وہ باطنیت جو خارجی حقیقت سے عدم ارتباط کی قائل ہو، اس میں معنی کا مکمل فقدان ہوتا ہے۔پہلے مصرعے کے بعد دوسرا مصرعہ کہ جس میں ’دوسرے ‘ کی خاموشی کو ظاہر کیا گیا ہے، وہ پہلے سے ’ربط‘ میں رہتا ہے۔گفتگو کے آخری مصرعے میں وہ کہتے ہیں کہ ’’یہ خامشی تو گفتگو کا ربط ہے۔‘‘دوسرے مصرعے میں یہ ’خاموشی‘ کیا تھی؟ یہ ’دوسرے‘ کی کیفیت یا صفت تھی، جسے گفتگو کے ربط کو برقرار رکھنے کے لیے نمایاں کیا گیا ہے۔ یہ مصرعہ محض اس نظم کے فکری تسلسل کے لیے ہی لازمی نہیں ہے، بلکہ ’ربط‘ کا یہ مقولہ ان کی نظموں کی اہم خصوصیت ہے۔ اسی ’ربط‘ کے تحت وہ خارجی دنیا سے ارتباط میں آتے ہیں۔ بامعنی بننے کے لیے خارج سطح پر ایک مخصوص نوعیت کے ’ربط‘ کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔جدلیاتی نقطۂ نظر سے ثنویت کی بنیاد پر قائم کی گئی داخلیت اور خارجیت کے تصورات کو مسترد کیا جاتا ہے۔ دونوں تصورات ایک دوسرے کی نفی کرتے ہیں اور اثبات بھی کراتے ہیں!مابعد جدیدیت خارجی حوالے کو مسترد کرتی ہے، جدلیات خارجی حوالے کو موضوعیت کے اندر نمایاں کرتی ہے،تاکہ داخل اور خارج کے مابین شگاف کو ختم کیا جائے۔یہی وہ تسلسل ہے جو جدلیات کی خوبی ہے۔ الیاس بابر اعوان کی اس نظم کا غالب رجحان تسلسل میں اپنے وجود کا اثبات کرانا ہے۔ ہم نے یہی دیکھا ہے کہ یہ اثبات عمل میں آتا ہے، لیکن اس اثبات کے تحت ’دوسرے‘ یا خارج کی اس اعتبار سے مکمل تخفیف نہیں ہوتی کہ شاعر کی موضوعیت اپنی ’فوق تجربی‘ جگہ پر واپس چلی جائے، بلکہ یہ باہمی ارتباط معنی کی تعیین کے بعد بھی اثبات اور نفی کی وحدت کو برقرار رکھتا ہے۔خارجی حوالہ ہر صورت میں موضوعیت کی تشکیل کی لازمی شرط ہوتا ہے۔
الیاس بابر اعوان جس تناظر میں لکھ رہے ہیں، اس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ ’معنی‘ پرقادر رہیں، جب ہم ’تناظر‘کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس تناظر کا مفہوم موضوعیت کی نفی کرتا ہے، تبھی تناظر کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ خارجی دنیا سے ’ربط‘ میں آنے کا مطلب تناظر کی اہمیت کو سمجھنا ہے۔ تناظر کا ’حوالہ‘ بامعنی بننے کے لیے لازمی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ان کی اس نظم کے علاوہ دیگر نظموں میں بھی صرف شاعری ہی کا نہیں، بامعنی شاعری کا تصور ملتا ہے۔ میں نے اس نظم میں ’پہلے‘ اور ’دوسرے‘ کے تصورات کو انفرادی حوالوں سے دیکھا ہے اور ان کے لیے لسانی اصطلاحات استعمال کی ہیں، جس سے الیاس بابر اعوان کی شعری فکر کی تفہیم ممکن ہوئی ہے۔اس نظم کی روشنی میں ’پہلے‘ اور ’دوسرے‘کے درمیان تعلق کو سمجھنے سے خارجی دنیا کے ساتھ ان کے فکری تعلق کی نوعیت کو بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ شاعر کے ’پہلے‘ ہونے کا مطلب اس کی موضوعیت کو تسلیم کرنا ہے، بالکل ایسے ہی ’دوسرے‘ کے وجود کو تسلیم کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ اس کی معروضیت کو تسلیم کیا جائے۔اپنے تجزیے میں ہم نے یہ دیکھا ہے کہ خاموشی تکلم کی ہر صورت میں اس کی لازمی شرط ہے، تاکہ معنویت کا قضیہ سامنے آسکے، اور یہ خاموشی ’دوسرے‘ کی خصوصیت ہے، دوسرے سے مراد خارجی دنیا کی معروضیت ہے۔ جیسے خاموشی تکلم کی شرط ہے، بالکل اسی طرح معروضیت، موضوعیت کی شرط ہے۔ تکلم کے بامعنی بننے کے لیے خاموشی لازمی ہے، اسی طرح موضوعیت کے بامعنی بننے کے لیے معروضیت سے ربط ضروری ہے۔ تکلم اور خاموشی اور موضوعیت اور معروضیت کی جدلیات ہی ہے جسے الیاس بابر اعوان کی نظم’گفتگو‘ سے بآسانی تجرید کیا جاسکتا ہے اور یہی خیال ان کی تمام نظموں میں پنہاں ہے۔ ’گفتگو‘کا آخری مصرعہ کہ جس میں گفتگو کو خاموشی سے ربط میں رکھنے کا نکتہ اٹھایا گیا ہے۔ ا س سے ’گفتگو‘ کی استعاراتی وحدت تشکیک کا شکار ہوتی ہے، گفتگو کی بجائے تکلم کو خاموشی کا ربط کہہ کر اس منطقی غلطی کا ازالہ کیا جاسکتا تھا۔

(8) ووٹ وصول ہوئے

: مضامین سےمتعلقہ شعراء