بند کریں
شاعری مضامینمضامینکئی زمانوں کا شاعر ۔۔۔ افضل خان

مضامین کے مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کئی زمانوں کا شاعر ۔۔۔ افضل خان
تحریر :نیاز حسین لکھویرا

کئی زمانوں کا شاعر ۔۔۔۔ افضل خان
( تحریر ۔۔ نیاز حسین لکھویرا )
    مجھے بہالپور پر فخر ہے۔ روہی میرے لیے وجہِ افتخار ہے۔ خواجہ غلام فرید میرے لیے فکری تحرک کا بے پناہ سرمایہ ہیں۔ ظہور نظر شاعری میں جمالیاتی ادراک کااستعارہ ہیں ۔ سید آلِ احمد تخیل کی گہرائی کے تشخص ‘ انفرادی خال و خد سے تراشے ہوئے حروف اور سب سے ہٹ کر ایک عجیب شانِ بے نیازی کے حُسن میں ڈھلی ہوئی شناخت کی علامت ہیں ۔ اور افضل خان پر اس لیے ناز ہے کہ میرے سامنے ادب کی تیسری نسل ریگ زار میں بارش اور روئیدگی کی نوید سنا رہی ہے۔
    مجھے وضاحت کرنے دیجئے ۔ پہلی نسل وہ تھی جس میں شہاب دہلوی ‘ علی احمد رفعت ‘ حیا ت میر ٹھی ‘ انیس قمر ‘ خلیق ملتانی ‘ عابد صدیق ‘ مرزا نعیم اختر ‘ مجید تمنا ‘ عزیز وطنی ‘ سہیل اختر ‘ تابش الوری ‘ عزیز اکرم ‘ نصر اللہ ناصر ‘ نقوی احمد پوری ‘ عیش شاہجہان پوری ‘ ریاض رحمانی ‘ جانباز جتوئی ‘ فیض محمد دلچسپ ‘ سفیر لاشاری ‘ محی الدین شان ‘ عبد الحق شوق ‘ پیکر واسطی ‘ انعام اسعدی ‘ آسی خان پوری ‘ عبدالعزیز اختر ‘ ظہور نظر اور سید آل احمد شامل ہیں ۔
دوسری نسل وہ ہے جس میں منور جمیل ‘ نواز کاوش ‘ منظور شاد ‘ طاہر محمود ‘ سرور ناز ‘ شہزاد سلیم ‘ نوشی گیلانی ‘ خورشید ناظر ‘ قیوم سرکش اور آپ کا یہ نیاز مند شامل ہے ۔
    تیسری نسل اس وقت ہمارے رو برو سینہ تانے ‘ ہمارے کندھے سے کندھا ملا کر شاعری کے حسن کو دو چند کر رہی ہے ۔ اور اس نسل میں افضل خان ‘ اظہر فراغ ‘ احتشام ‘ سعید سلطان ‘ ذیشان اطہر ‘ عاطف نصیر ‘ شگفتہ الطاف اور صالحہ ظفر کے نام بہت نمایاں ہیں۔ مجھے آپ سے یہ معذرت ضرور کرنی ہے کہ اگر کوئی نام بھول گیا ہوں تو اس کا سبب بد دیانتی بالکل نہیں ہے ۔
    میں نے افضل خان کو ” اک عمر کی مہلت “ کے حوالے سے جانا اور پہچانا ہے ۔ افضل خان کی شاعری میں بہاول پور کی مستحکم ادبی روایت کو آگے بڑھانے کا عزم صمیم اور جاندار شاعری کے ورثہ کو اپنا رہنما بنا کر شعری روایت کو زندہ جاوید اور امر کرنے کا ہنر ملتاہے ۔ افضل خان باغی نہیں ہے مگر اُس کی اپنی ڈکشن ہے ، اپنی سوچ ہے ، اپنا تخیل ہے ، اپنی اوریجنلٹی ہے ۔ اس کی شاعری روایت پر استوار ہو کر عظمتوں کے نئے افق چھو رہی ہے ۔ افضل خان کی شاعری میں کتنے زمانے ضوریز ہو رہے ہیں ۔ وہ کہیں کہیں یاس یگانہ چنگیزی کے لہجے میں احساس تفاخر سے دو چار ہے
اپنے نام کے پیمانے سے ناپ نہیں اپنے قد کو
لوگ تو اس میدان میں افضل ہوتے ہوتے ہوتے ہیں
    اور کہیں وہ منیر نیازی کے فلسفہ شعر کو کھوجتا ہوا معلوم سے نامعلوم کے سفر پر گامزن ہے ۔
پائے گا کون بھلا تیرے سوا راز ترا
جب کہ معلوم نہیں نقطہ ءِ آغاز ترا

نکل پڑا تھا جنوں کے بہاؤ میں گھر سے
اور اب یہ سوچ رہا ہوں کدھر چلا جائے

خود بڑھ کے دیکھ آؤں کہ گھر لوٹ جاؤں میں
رستے میں یہ کھلا ہے کہ بازار بند ہے
    افضل خان ، اقبال کے زمانے کی مسافتیں بھی طے کر رہا ہے ۔ عشق اور عقل کی گتھی ہے کہ سلجھ ہی نہیں رہی
دل کے جذبات الگ ، عقل کی اوقات الگ
عشق کی راہ مگر یوں ہے نہ یوں ہے ، یوں ہے
    عشق کا سب سے کٹھن مرحلہ کربلا کی صورت میں ہمارے ادب کو جگمگا رہا ہے ۔ کربلا ایک ایسا مکمل استعارہ ہے جس کے بغیر ادب ادھورا اور اس کی تشریح ومعانی بے خواب جھروکوں کی طرح اجاڑاور ویران نظر آتے ہیں ۔ افضل خان نے کربل کا زمانہ بھی دیکھا ہے ۔

میں پہلے کوفہ گیا اس کے بعد مصر گیا
ادھر برائے شہادت اُ دھر برائے فروخت

اب اس لڑائی میں ممکن ہے سر چلاجائے
جسے بھی جان ہو پیاری وہ گھر چلا جائے
    ٓٓافضل خان کئی زمانوں کا شاعر ہے اور اس میں اس کا اپنا زمانہ بھی شامل ہے ۔

دالان میں سبزہ ہے نہ تالاب میں پانی
کیوں کوئی پرندہ مری دیوار پہ اترے

غزل کو کم نگاہوں کی پہنچ سے دوررکھتا ہوں
مجھے بنجر دماغوں میں شجر کاری نہیں کرنی

ختم ہوئی آخر بے خوابی دریا میں
ڈوب گئی ہے اک مرغابی دریا میں

شجر سے میرا تعلق ہے شام ہونے تک
سرک رہا ہوں مسلسل سرکتی چھاؤں کے ساتھ

بچھڑ نے کا ارادہ ہے تو مجھ سے مشورہ کر لو
محبت میں کوئی بھی فیصلہ ذاتی نہیں ہو تا

ہرایک چشم ِ دیدہ ور یہاں خرید لی گئی
جو کور چشم تھا اسے تھما دیا گیا دیا

تجھ کو راس آئے گا میر ا پسِ پردہ ہو نا
میرے مرنے سے پڑے گی ترے کردار میں جان

    جتنے بھی زمانے ہیں ان میں سب سے زیادہ جاندار اور توانا وہ زمانہ ہے جو افضل خان نے بسر کیا ہے ،صرف اور صرف اپنے لیے۔ اس کی شاعری بہت سی جہتوں کی نوید دے رہی ہے اور ان میں ایک جہت بڑی شاعری کی ہے ۔

(1) ووٹ وصول ہوئے

: مضامین سےمتعلقہ شعراء