بند کریں
شاعری مضامینمضامینضیاءالمصطفیٰ ترک کی کتاب پر ایک تجزیہ "شہر پس _چراغ" سے گزرتے هوئے۔حماد نیازی

ضیا المصطفی تُرک مہروی

مضامین کے مزید مضامین

پچھلے مضامین -
ضیاءالمصطفیٰ ترک کی کتاب پر ایک تجزیہ "شہر پس _چراغ" سے گزرتے هوئے۔حماد نیازی
ضیاالصطفی ترک کی کتاب پر حماد نیازی کا مضمون ۔۔

کسی بھی معیاری آرٹ یا ادب کو دو بنیادی سطحوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک ادب کی سطح وہ ہوتی ہے کہ جس میں کسی مخصوص فضا کو باطنی سطح پر تخلیق  کیا جائے اور  پھر اس فضا کو  لسانی اور فکری  جہان کے ارتباط کے ساتھ بحال رکھتے ہوئے اس کا تخلیقی تجزیہ پیش کیا جائے۔  دوسری سطح میں  اس ادب کو رکھا جاتا ہے جو موجود ومیسر اور ظاہرکے مظاہر سے استفادہ کر کے  اس کا حسیاتی تجزیہ بیان کرے۔ ادب کی تاریخ میں یہ دونوں سطحیں ساتھ ساتھ سفر کرتی رہی ہیں۔ ان دونوں اقسام کے ادب سے جو تخلیقی اور حسیاتی تجزیہ  اظہاریے میں ڈھالا جاتا ہے، وہ معنی خیز اُس وقت بنتا ہے جب فن پارے میں معنوی تہہ داری موجود ہو۔  یہ معنویت سماجی معنویت اور انفرادی معنویت میں سے کس ذیل میں آتی ہے، یہ اُس سے آگے کا سوال ہے۔ شہر پسِ چراغ میں موجود  شاعری کو اگر ہم فن کے الہامی نظریے کے ذیل میں دیکھیں  تو شاید اس کتاب کی اہمیت اور مقام کا تعین کرنے میں آسانی ہو۔ ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ فنکار کا تخلیقی شعور  سماجی سطح سے نکل کر اُس سے آگے کائناتی سطح کو بھی چھُو رہا ہے یا نہیں۔ روزمرہ کے مظاہر سے غیر متعلق چیزوں، نظریات، اور مظاہر کو اگر اپنے موضوع کا حصہ بنایا گیا ہے تو  آیا وہ انفرادی سطح پر ہے یا اس کی پرداخت اور شناخت  اجتماعی سطح پر بیان ہو پا رہی ہے یا نہیں۔  ہمارے ہاں موجودہ شاعری میں جو منظرنامہ دیکھنے میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر موجود و میسر سے نکل کر اگر کوئی فن تخلیق ہو رہا ہے تو وہ انفرادی سطح تک محدود ہو جاتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ترقی پسند اوردیگر اصلاحی ادب کے مبلغان کو  ایسے فن کو بورژوہ اور ذہنی عیاشی قرار دینے میں آسانی نظر آتی ہے۔ میری رائے میں جب فنکار موجود سے معدومکی طرف نکلتا ہے تو اُسے اپنے موضوعات کوانفرادی سطح پر بیان کرنے کی بجائے وسیع کینوس پر اجتماعی سطح پر اپنے اظہاریے کا حصہ بنانا چاہئے۔ جب یہ اجتماعی سطح پر نظر آتا ہے تو حقیقت تک پہنچنے کی ایک راہ متعین ہوتی ہے اور اس تک پہنچنا علم کے بغیر ممکن نہیں۔ اور علم فطرت، مافوق الفطرت، شعور اور لاشعور ، مادہ وماوراءِ مادہ، ہر قسم کے حقائق کی جستجو کرتا ہے۔ شہر پسِ چراغ کا تجزیہ کریں تو اسلوبیاتی سطح پر اِس کتاب میں جس فکری نظام کی تشریح کرنے کی کوشش کی گئی ہے، وہ اپنے باطن میں اس تخلیقی تجربے سے جنم پذیر ہوتا ہے جو انفرادی سطح سے نکل کر اجتماعی یا سماجی سطح پر اپنا تجزیہ پیش کرتا ہے۔ ایک سمجھدار اور ذی شعور تخلیق کاربعض اوقات اس سے بھی آگے یعنی کائناتی سطح کو بھی مس کرنے کی علت و جستجو میں رہتا ہے۔  اور یہ جستجو اِس کتاب کے بھی بعض حصوں میں نظر آتی ہے۔ اس کتب کی قرات پر جو شاعری اولین سطح پر کھلتی ہے، وہ کافی نامانوس اور اجنبی محسوس ہوتی ہے۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم مخصوص شعری روایت کے ازحد دلدادہ ہوئے ہیں۔ اور ہمیں اس شعری فضا میں آنے کے لئے  اپنے مخصوص طبعی رجحانات سے روگردانی کرنا مشکل لگتا ہے۔ اس فضا میں تخلیق کیا جانے والا  ادب ان مظاہر کی تلاش میں نکلتا ہے جو ہماری مقامی آنکھ سے اوجھل ہیں۔ اور جن کو محسوس تو کیا جا سکتا ہے مگر حواسِ خمسہ کی حدود سے باہر نکل کر۔ اور یہ کام اس کتاب سے مانوس ہوئے بغیر ممکن نہیں۔ اس کتاب سے مانوس ہونے کے لئے لفظ کی تہذیب اور احساس کی لے کے مابین ارتباط سے آگاہی ہونا  بہت زیادہ ضروری محسوس ہوتا ہے۔ اور اگر ہم اِس سے آگاہی حاصل کر لیں تو یہی شاعری اور اس کا فکری اور شعوری نظام جو ہمیں غیر مانوس محسوس ہو رہا ہوتا ہے، وہ تخلیق کار، تخلیق اور قاری کو معنی کی اُس سطح پر اکٹھا کر دیتا ہے جسے ہم معیاری ادب کی اساس گردانتے ہیں۔ 

مگر اک شہر تھا نہ دیکھا ہوا 

مگر اِک داستاں تھی حیرت کی

فرش وسقف  آئینہ ہے 

بام و ستوں آئینہ ہے

چشم پر آئینہ خانے کا فسوں آئینہ ہے

 

یہ ڈوبتی ہوئی موجودگی کسی کی تو ہے

تو کیا عجب اگر اک بار ہو رہوں میں بھی

 

یہ باغ، کیسی پراسرار خامشی ہے یہاں

میں سو رہوں تو یہی پیڑ آدمی ہو جائیں

 

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مظاہر عدم کی تلاش کسی بھی تخلیق کار کے لئے بنیادی اہمیت اگر رکھتی ہےتو وہ کس چیز کے زیرِ اثر ہے۔دیکھا جائے تو ہم اسے رومانوی ۔۔۔ذہنی کیفیت کا نام دے سکتے ہیں۔ اور اس کیفیت میں جو عنصرتخلیق کار کو اِس  تلاش پر مائل  کرتا ہے، وہ تشکیک ہے۔ اس کتاب کا شاعر جس مخصوص فضا کو باطنی سطح پرتخلیق کرنے کی، تخلیق کی سطح پر لانے کے لئے سر گرداں دکھائی دیتا ہے ، وہ فضا واقعاتی سطح سے آگے جا کر امکانی سطح پر  ۔۔۔۔ جستجو کا تقاضا کرتی ہے۔ اور یہ جستجو اسے سائنس کی ایجادی منزل سے بہت دور لا کر اس کے نواح میں لا کھڑا کرتی ہے ۔ پراسرار مظاہر کو دیکھ کر ایک سطحی فنکار حیرت زدہ تو ہوتا ہے مگر جلد بوکھلاہٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور ندرت پیدا کرنے کے لئے اس روایت کے فن کی تخلیق کرتے وقت لا ابالی پن کا شکار ہو جاتا ہے۔ جب کہ سنجیدہ فنکار اپنے تخیل سے مظاہر کا تجزیہ صرف تحیر خیزی اور چونکانے کی حد تک کرنے کا قائل نہیں  ہوتا۔ اور تشکیک کی اس سطح سے بلند ہو کر اپنا  اظہار کرتا ہے جہاں پر صرف ناقابلِ تفہیم ابہام کو جگہ ملتی ہے۔ اس کے آگے تشکیک کا عنصر قاری کو الجھانے سے زیادہ  سلجھانے کے مقصد پر دلالت کرتا ہے۔ اور یہ چیز شہر پسِ چراغ کے شاعر کو ایک  سنجیدہ تخلیق کار کے طور پر سامنے لاتی ہے۔ 

 

دیکھتے دیکھتے ہی بعض اوقات

لمس کا لحن بدل جاتا ہے

 

دور تک بہتا ہوا ہر راستہ 

میری خاطر سربسر آواز تھا

 

کواڑ کھلنے سے پہلے ہی دن نکل آیا

بشارتیں ابھی سامان میں پڑی ہوئی تھیں

 

تو کیا میں اُٹھ کے چلا جاؤں ہونہی محفل سے

نہیں، نہیں، کوئی آواز دینے والا ہے

جو لوگ ہیں بھی، وہ معلوم میں نہیں آتے

یہاں تو کوئی بھی اپنے تئیں نہیں، کیا ہو

 

مگر یہ خواب اگر خواب ہیں تو کیسے ہیں

کہ جن کو دیدہ بےخواب سے علاقہ نہیں

 

ترے غیاب میں جو کچھ کیا حکایت نے

کہیں وہ گفتہ و نا گفتہ سے سوا ہی نہ ہو

پسِ دیوار جانے کیا ہے کہ دل

دھڑک اُٹھتا ہے دفعتا مجھ میں

 

کسی بھی معیاری ادب پارے کی قدو قامت کا فیصلہ کرنے میں اس ادب پارے کی زبان بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ زبان کے اجتہاد کے بغیر آپ کی زبان نئی لگے، یہ بہت  کٹھن کام ہوتا ہے اور اس کے لئے لغت نویس یا زبان دان ہونے سے زیادہ  عمیق حسیاتی شعور اور لفظ کا تہذیبی شعور ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اگر یہ موجود نہ ہو تو آپ  اس زبان سے وہ تخلیقی مقاصد حاصل نہیں کر پاتے جو کسی بھی اچھے تخلیق کار کی خواہش ہوتے ہیں۔ عدم میں الفاظ کی معنویت اور ان سے نمو پذیر ہوتے ہوئے امکانات ماوراءِ لغت بھی ہوتے ہیں لیکن حاصل شدہ امکانات کو ماوراءِ لغت معانی کی ذیل میں لانے کے لئے اور پھر ان کو اظہاریئے کا حصہ بنانے کے لئے یہ امر حد درجہ اہم ہوتا ہے کہ تخلیق کار پرانے اور مروج معنوں سے واقفیت رکھتا ہو۔ ایک ہی استعارہ یا ایک ہی لفظ کے علامتی اظہار کو موضوعاتی تنوع سے آشکار کرنا،  اور پھر اس سے فن پارے کی زبان میں منفرد رنگ و آہنگ پیدا کرنا ، حسیاتی شعور کے بغیر ممکن نہیں۔  شہر پسِ چراغ کی شاعری میں آئینہ ، لو .چراغ، لمس، غیاب، سکوت، باغ اور خواب جیسے الفاظ کے علامتی اظہار میں جوموضوعاتی تنوع نظر آتا،ہے،،وہ,شاعر کے  حسیاتی شعور کا بھرپورثبوت مہیا کرتا ہے۔ اور اس کتاب میں  ایک منفرد آہنگ کی تشکیل ہوتی نظر آتی ہے۔ پھر اسی آہنگ میں شاعر اس آہنگ کی طرف بھی قدم بڑھاتا نظر آتا ہے جو معاشرے کے ظاہری آہنگ سے ارتباط کی بجائے  اس کے باطنی آہنگ سے مل کر شاعر کی الگ باطنی فضا کی تخلیق میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اور یہ کوشش عصری ادب میں مفقود ہوتی نظر آتی ہے۔ 

ہر طرف نقش ہیں، بنتے ہوئے مٹتے ہوئے نقش

بات کرنا تو کجا، سانس نہ لوں، آئینہ ہے


پاس رکھنا ہے بزرگوں کے کہے کا مجھ کو

ورنہ یہ سامنے دیوار بھی جوں آئینہ ہے

 

بدل رہا تھا سبھی کچھ جگہ بدلتے ہوئے

چراغ تھا جسے دانستہ آئینہ کیا میں

 

چراغ اوندھے پڑے تھے زمین پر سارے

اور ان کے پاس ہی ان کی لویں پڑی ہوئی تھیں

 

بار بار آتا رہا ہے تیرا نام

آئینہ ہوتی ہوئی گفتار میں

 

لوگ منسوب جاننے لگے تھے

یہ تو میں خواب کو بحال کیا

 

آنکھیں مت پونچھئے اس عشرے میں

ان دنوں آئینے پھٹ جاتے ہیں 

 

کہتے ہیں لو بولتی بھی تھی کبھی 

اگلے وقتوں میں چراغ اک ساز تھا

 

شگفت کا وقت مختصر تھا

سکوت کے ساتھ گفتگو کی 

 

سکوت ٹوٹے نہیں آئینےتہی   ہو جائیں

یہ لحن ملتا ہے جب لفظ ملتوی ہو جائیں

 

تو نام لے جو مرا باغ سے گزرتے ہوئے

عجب نہیں کہ کوئی پیڑ ملنے آئے مجھے

 

غائب ہے نظر سے باغ مرا

ملنا  ہے کسے سراغ مرا

 

ہر شے نشان زد تھی کسی کے غیاب میں

دیکھا توشش جہاتِ کہن میں کوئی نہ تھا

 

ترے غیاب کو موجود میں بدلتے ہوئے

کبھی میں خود کو ترے نام سے بلاتا ہوا

 

بدن پہ تازہ نشاں بن رہے ہیں جیسے کوئی

مرے غیاب میں تحلیل کر رہا ہے مجھے

 

مجموعی طور پر اِس کتاب میں جو شعری رویہ نظر آتا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ شاعر  ایسا فنکار نہیں بننا چاہتا جسے آج تک کمرشلائزڈ  معاشرہ اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتا آیا ہے۔ ایسا معاشرہ جس میں تمام ماس میڈیا کے ذرائع،  ادب  جیسے سنجیدہ اور ارفع موضوع کو بھی چھچھوری سطحی قسم کی تفریحی منصوبہ بندی کی نذر کر رہے ہیں۔ اور جہاں تہذیبی بارگاہیں بھی معجونِ مرکب کا منظر پیش کر رہی ہیں ، وہاں ایسے فنکار جو اپنے شعور کو خالص آرٹ کی تخلیق پر نچھاور کر رہا ہو، کسی احسان سے کم نہیں۔ ادب کے سنجیدہ قاری کی حیثیت سے اس کتاب کی اہمیت سے انکار اور اسے نظر انداز کر دینا  قا ری کے مذاقِ شعری پر ایک بہت بڑا سوال چھوڑے گا۔

(1) ووٹ وصول ہوئے

: مضامین سےمتعلقہ شعراء