آشفتہ چنگیزی کی معاشرتی شاعری۔ معاشرتی نظمیں و غزلیں

سوال کرتی کئی آنکھیں منتظر ہیں یہاں

آشفتہ چنگیزی

سفر تو پہلے بھی کتنے کیے مگر اس بار

آشفتہ چنگیزی

سبھی کو اپنا سمجھتا ہوں کیا ہوا ہے مجھے

آشفتہ چنگیزی

دل دیتا ہے ہر پھر کے اسی در پہ صدائیں

آشفتہ چنگیزی

دریاؤں کی نذر ہوئے

آشفتہ چنگیزی

تو کبھی اس شہر سے ہو کر گزر

آشفتہ چنگیزی

تلاش جن کو ہمیشہ بزرگ کرتے رہے

آشفتہ چنگیزی

تجھ کو بھی کیوں یاد رکھا

آشفتہ چنگیزی

سارے دن کی تھکی،

آشفتہ چنگیزی

ٹھکانے یوں تو ہزاروں ترے جہان میں تھے

آشفتہ چنگیزی

تم نے لکھا ہے لکھو کیسا ہوں میں

آشفتہ چنگیزی

یہ بھی نہیں بیمار نہ تھے

آشفتہ چنگیزی

صدائیں قید کروں آہٹیں چرا لے جاؤں

آشفتہ چنگیزی

سلسلہ اب بھی خوابوں کا ٹوٹا نہیں

آشفتہ چنگیزی

تعبیر اس کی کیا ہے دھواں دیکھتا ہوں میں

آشفتہ چنگیزی

صدائیں قید کروں آہٹیں چرا لے جاؤں

آشفتہ چنگیزی

سلسلہ اب بھی خوابوں کا ٹوٹا نہیں

آشفتہ چنگیزی

تعبیر اس کی کیا ہے دھواں دیکھتا ہوں میں

آشفتہ چنگیزی

پناہیں ڈھونڈ کے کتنی ہی روز لاتا ہے

آشفتہ چنگیزی

رونے کو بہت روئے بہت آہ و فغاں کی

آشفتہ چنگیزی

سبھی کو اپنا سمجھتا ہوں کیا ہوا ہے مجھے

آشفتہ چنگیزی

کس کی تلاش ہے ہمیں کس کے اثر میں ہیں

آشفتہ چنگیزی

کسے بتاتے کہ منظر نگاہ میں کیا تھا

آشفتہ چنگیزی

جس کی نہ کوئی رات ہو ایسی سحر ملے

آشفتہ چنگیزی

Records 1 To 24 (Total 56 Records)