مشہور شاعر آشفتہ چنگیزی کی دو لائنوں کی شاعری شاعری

سوال کرتی کئی آنکھیں منتظر ہیں یہاں

آشفتہ چنگیزی

سفر تو پہلے بھی کتنے کیے مگر اس بار

آشفتہ چنگیزی

سبھی کو اپنا سمجھتا ہوں کیا ہوا ہے مجھے

آشفتہ چنگیزی

دل دیتا ہے ہر پھر کے اسی در پہ صدائیں

آشفتہ چنگیزی

دریاؤں کی نذر ہوئے

آشفتہ چنگیزی

خواب جتنے دیکھنے ہیں آج سارے دیکھ لیں

آشفتہ چنگیزی

جو ہر قدم پہ مرے ساتھ ساتھ رہتا تھا

آشفتہ چنگیزی

تیزی سے بیتتے ہوئے لمحوں کے ساتھ ساتھ

آشفتہ چنگیزی

تیری خبر مل جاتی تھی

آشفتہ چنگیزی

تو کبھی اس شہر سے ہو کر گزر

آشفتہ چنگیزی

تلاش جن کو ہمیشہ بزرگ کرتے رہے

آشفتہ چنگیزی

تجھے بھلانے کی کوشش میں پھر رہے تھے کہ ہم

آشفتہ چنگیزی

تجھ کو بھی کیوں یاد رکھا

آشفتہ چنگیزی

تجھ سے بچھڑنا کوئی نیا حادثہ نہیں

آشفتہ چنگیزی

پہلے ہی کیا کم تماشے تھے یہاں

آشفتہ چنگیزی

برا مت مان اتنا حوصلہ اچھا نہیں لگتا

آشفتہ چنگیزی

بدن بھیگیں گے برساتیں رہیں گی

آشفتہ چنگیزی

ایک منظر میں لپٹے بدن کے سوا

آشفتہ چنگیزی

اونچی اڑان کے لیے پر تولتے تھے ہم

آشفتہ چنگیزی

آنکھ کھلتے ہی بستیاں تاراج

آشفتہ چنگیزی

آشفتہؔ اب اس شخص سے کیا خاک نباہیں

آشفتہ چنگیزی