Aaj Shab E Meeraj Ho Gi Issi Liye Tazeen Hai

آج شب معراج ہوگی اس لیے تزئین ہے

آج شب معراج ہوگی اس لیے تزئین ہے

وہ قدم اٹھے ہیں جن کو آسماں قالین ہے

ماں نے پڑھ کر پھونک دی تھی مجھ پہ بچپن میں کبھی

میرے دل پر نقش اب تک سورۂ یٰسین ہے

اشک کے بوسے کی لذت کیا بتاؤں میں تمہیں

کیا بتاؤں میں تمہیں یہ کس قدر نمکین ہے

اس کو درویشی سمجھنے والوں پر حیران ہوں

ہاتھ میں کاسہ اٹھانا عشق میں توہین ہے

علم کی خواہش تمہیں منزل تلک لے جائے گی

جانے والے تو بنو اگلے قدم پر چین ہے

اور بھی یاروں سے کہنا وقت پہ سب آ ملیں

میرے گھر کے صحن میں اک خواب کی تدفین ہے

سوچنا اس باب میں بے کار جائے گا ترا

یہ محبت ہے میاں اس کا الگ آئین ہے

اس کے لب پر اک دعا ہے صرف میری موت کی

میرے لب پر کچھ نہیں کچھ بھی نہیں آمین ہے

اب محبت کی طرف میں لوٹنے والا نہیں

دل یہ تو نے ٹھیک سمجھا ایسا ہی کچھ سین ہے

اڑ رہا ہے زیبؔ کی تحریر کے آہنگ میں

یہ پرندہ حضرت اقبالؔ کا شاہین ہے

اورنگزیب

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(785) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Aurang Zeb, Aaj Shab E Meeraj Ho Gi Issi Liye Tazeen Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social, Friendship, Islamic, Hope Urdu Poetry. Also there are 25 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Social, Friendship, Islamic, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Aurang Zeb.