Hawas Ne Mujh Se Pocha Tha Tumhara Kiya Irada Hai

ہوس نے مجھ سے پوچھا تھا تمہارا کیا ارادہ ہے

ہوس نے مجھ سے پوچھا تھا تمہارا کیا ارادہ ہے

بدن کار محبت میں برائے استفادہ ہے

کبھی پہنا نہیں اس نے مرے اشکوں کا پیراہن

اداسی میری آنکھوں میں ازل سے بے لبادہ ہے

بھڑک کر شعلہ‌ٔ وحشت لہو میں بجھ گیا ہوگا

ذرا سی آگ تھی لیکن دھواں کتنا زیادہ ہے

اگر تم غور سے دیکھو رخ مہتاب کم پڑ جائے

فلک پر اک ستارے کی جبیں اتنی کشادہ ہے

مجھے مسکن سمجھتے ہیں عجب آسیب ہیں غم کے

میں اک دو سے نمٹ بھی لوں یہ پورا خانوادہ ہے

اسے دھندے سے مطلب ہے وہ دیمک بیچنے والا

اسے وہ خاک سمجھے گا یہ خوابوں کا برادہ ہے

ہم اس سے چاہ کر بھی بچ نہیں سکتے کسی صورت

نبھانا پڑتا ہے اس کو محبت ایک وعدہ ہے

مجھے شطرنج کے خانوں میں چلنا تو سکھائے گا

میں فرضی بن چکا کب کا تو اب تک اک پیادہ ہے

نہ جانے کاتب تقدیر نے کیا لکھ دیا اس پر

مری تقدیر کا صفحہ نہ سیدھا ہے نہ سادہ ہے

میں اس حالت میں زیبؔ آخر کہاں چلتے ہوئے جاؤں

نہ مجھ میں حوصلہ باقی نہ منزل ہے نہ جادہ ہے

اورنگزیب

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(505) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Aurang Zeb, Hawas Ne Mujh Se Pocha Tha Tumhara Kiya Irada Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 25 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Aurang Zeb.