Khush Buhat Ate Hain Mujh Ko Raaste Dashwar Se

خوش بہت آتے ہیں مجھ کو راستے دشوار سے

خوش بہت آتے ہیں مجھ کو راستے دشوار سے

سر پھرا ہوں میں نہیں ڈرتا کسی دیوار سے

منزلوں کو پل میں پیچھے چھوڑتا جاتا ہوں میں

راستے بھی خوف کھاتے ہیں مری رفتار سے

خامشی سے صورتیں مٹ جائیں گی منظر سے کیا

کچھ نہیں کہنا کسی کو آئنہ بردار سے

خشک آنکھوں سے میں تکتا ہوں کنارے کی طرف

مجھ کو سیرابی بلاتی ہے سمندر پار سے

کیا مرا گھر بھی نہیں حق میں کہ میں تنہا رہوں

اتنی وحشت ہو رہی ہے کیوں در و دیوار سے

آسمانوں پر پڑاؤ ڈالنا تو ہے مجھے

گفتگو ہوتی رہے گی ثابت و سیار سے

تم بھی اب کچھ اور سوچو اس محبت کے سوا

میں بھی اب اکتا گیا ہوں ایک ہی آزار سے

میں شریفوں سے شرافت میں بھی آگے ہی رہا

میں نے چالاکی بھی سیکھی پائے کے عیار سے

رات بھر اس شہر میں وہ سانحے ہوتے ہیں زیبؔ

دل دہل اٹھتا ہے میرا صبح کے اخبار سے

اورنگزیب

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(535) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Aurang Zeb, Khush Buhat Ate Hain Mujh Ko Raaste Dashwar Se in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 25 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Aurang Zeb.