Rang Tu Mojood Ki Tasveer Ho Sakte Nahi

رنگ تو موجود کی تصویر ہو سکتے نہیں

رنگ تو موجود کی تصویر ہو سکتے نہیں

وہ جو منظر خواب ہیں تعبیر ہو سکتے نہیں

کیوں مجھے اشعار کہنے کا ہنر اس نے دیا

مجھ سے میرے دکھ اگر تحریر ہو سکتے نہیں

آنکھ میں منظر تو آ سکتے ہیں صورت اوڑھ کر

آئنے تو عکس سے زنجیر ہو سکتے نہیں

میں ہی اپنے درد و غم لکھوں گا اپنے ہاتھ سے

یہ جنازے آپ سے تحریر ہو سکتے نہیں

صرف ہو جائیں گے ہم اس کی محبت میں یوں ہی

صرف ہو جائیں گے ہم تسخیر ہو سکتے نہیں

اس زمیں کی ٹوہ میں رہنا حماقت ہے میاں

جس زمیں پہ شعر بھی تعمیر ہو سکتے نہیں

گفتگو یہ کہہ رہی ہے بات میں ہلکے ہو تم

سو مریدی میں رہو تم پیر ہو سکتے نہیں

نیند تو بیکار میں ان کوسنوں کی زد میں ہے

خواب ہی ایسے ہیں جو تعبیر ہو سکتے نہیں

اس کو سہل ممتنع میں بات آئے گی سمجھ

زیبؔ ایسے شعر تو تفسیر ہو سکتے نہیں

اورنگزیب

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(537) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Aurang Zeb, Rang Tu Mojood Ki Tasveer Ho Sakte Nahi in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 25 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.3 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Aurang Zeb.