Bhool Jana Inhain Aasan Hai Aey Dil

بھول جانا انہیں آسان ہے اے دل

بھول جانا انہیں آسان ہے اے دل

تو نے پہلے بھی کئی بار قسم کھائی ہے

درد جب حد سے بڑھا ضبط کا یارا نہ رہا

ان کی ایک ایک ادا یاد مجھے آئی ہے

وہ تبسم میں نہاں طنز کے میٹھے نشتر

وہ تکلم میں تغافل کو چھپانے کی ادا

رک کے ہر لمحہ نئی طرح سے آغاز ستم

جیسے کچھ کھو کے کسی چیز کو پانے کی ادا

میری خاموشی پہ بے باک نگاہی ان کی

جذبۂ شوق کو کچھ اور بڑھانے کی ادا

وہ مسلسل مری باتوں پہ توجہ کی نظر

رخ پہ مچلی ہوئی زلفوں کو ہٹانے کی ادا

میرے اشعار کو سنتے ہی وہ آنکھوں میں غرور

مجھ کو ہر طرح سے دیوانہ بنانے کی ادا

بے خودی دیکھ کے میری وہی بیگانہ روی

پاس آ آ کے بہت دور وہ جانے کی ادا

رخصتی لمحوں میں ہونٹوں پہ دعاؤں کا گماں

در پہ رک کر مری خاطر سے وہ جانے کی ادا

آج رہ رہ کے تڑپتا ہوں نئی بات ہے کیا

دل نے کیوں ترک محبت کی قسم کھائی ہے

وہ ستم لاکھ کریں ان کا تو شیوہ ہے یہی

عشق کی ترک محبت میں بھی رسوائی ہے

اب تو جلتے ہوئے جینا ہی پڑے گا اے دل

''تو نے خود اپنے کئے کی یہ سزا پائی ہے''

باقر مہدی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(2066) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Baqar Mehdi, Bhool Jana Inhain Aasan Hai Aey Dil in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 51 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.3 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Baqar Mehdi.