Our Phir Dono Fanoos Senay Ke Bujh Jayain Gay

اور پھر دونوں فانوس سینے کے بجھ جائیں گے

اور پھر دونوں فانوس سینے کے بجھ جائیں گے

اوڑھ لے گی دھواں

دودھ کی دھار کی طرح اجلی نظر

ناخن پا سے زلفوں کے بادل تلک

جگمگاتی ہوئی کھال سے

خواہشوں کے پراسرار محمل تلک

ایک تحریر لکھے گی دیمک

فنا

ہر طرف بے حسی

تیرگی تیرگی

ہاں مگر صرف رخسار و لب

صرف رخسار و لب راکھ میں دابی چنگاریوں کی طرح

جگمگائیں گے

ان پر مرے اور ترے گرم بوسوں کی تحریر ہے

زندگی

اور پھر

وقت کی لمحہ لمحہ ابھرتی ہوئی سخت دیوار گر جائے گی

اور اپنے بدن

اور معمولی ناموں میں تحلیل ہو جائیں گے

نور کا پیڑ بن جائیں گے

آنے والے نئے موسموں کی ہوا

ہو کے شاخوں سے گزرے گی اور

آسمانی صداؤں میں گایا ہوا

ایک لا فانی و بیکراں گیت گونجے گا

اور گونجتا ہی رہے گا سدا

اور گونجتا ہی رہے گا سدا

بشر نواز

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1226) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Bashar Nawaz, Our Phir Dono Fanoos Senay Ke Bujh Jayain Gay in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 36 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.9 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Bashar Nawaz.