Hum Jaan K Un Ki Mehfil Main Agiyar Ki Batain Karte Hain

ہم جان کے ان کی محفل میں اغیار کی باتیں کرتے ہیں

ہم جان کے ان کی محفل میں اغیار کی باتیں کرتے ہیں

پھولوں کو ستانے کی خاطر ہم خار کی باتیں کرتے ہیں

کچھ لوگ گلابوں کی صورت کانٹوں سے گزارہ کرتے ہیں

محروم محبت ہو کر بھی وہ پیار کی باتیں کرتے ہیں

کلیوں کو چٹکتا دیکھ کے جو بجلی کو پکارا کرتے تھے

اب راکھ اڑا کر لوگ وہی گلزار کی باتیں کرتے ہیں

افسوس ہے ان انسانوں پر جو چند نوالوں کی خاطر

شاہوں کے قصیدے لکھتے ہیں سرکار کی باتیں کرتے ہیں

دیکھا ہے جب سے پھولوں نے اے جان تمہارے چہرے کو

آپس میں تمہارے ہونٹوں کی رخسار کی باتیں کرتے ہیں

جو ساری عمر فصیلوں میں سورج کی شعاعوں کو ترسے

وہ لوگ ہمیں سے کوچہ کی بازار کی باتیں کرتے ہیں

جو رات کو اپنے ساتھ لیے آئے تھے شہر کی گلیوں میں

اب نور کے تڑکے صبحوں کے آثار کی باتیں کرتے ہیں

وہ زندہ تھا تو کوئی بھی پرسان حال نہ تھا اس کا

اب کتنے شوق سے لوگ اسی بیمار کی باتیں کرتے ہیں

بشیر احمد شاد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1294) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Bashir Ahmad Shad, Hum Jaan K Un Ki Mehfil Main Agiyar Ki Batain Karte Hain in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 14 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Bashir Ahmad Shad.