مشہور شاعر بہزاد لکھنوی کی شاعری ۔ نظمیں اور غزلیں

یوں تو جو چاہے یہاں صاحب محفل ہو جائے

بہزاد لکھنوی

ہے خرد مندی یہی باہوش دیوانہ رہے

بہزاد لکھنوی

مسرور بھی ہوں خوش بھی ہوں لیکن خوشی نہیں

بہزاد لکھنوی

کیا یہ بھی میں بتلا دوں تو کون ہے میں کیا ہوں

بہزاد لکھنوی

ہونا ہی کیا ضرور تھے یہ دو جہاں ہیں کیوں

بہزاد لکھنوی

دیوانہ بنانا ہے

بہزاد لکھنوی

تمہارے حسن کی تسخیر عام ہوتی ہے

بہزاد لکھنوی

تم یاد مجھے آ جاتے ہو

بہزاد لکھنوی

تم سے شکایت کیا کروں

بہزاد لکھنوی

لب پہ ہے فریاد اشکوں کی روانی ہو چکی

بہزاد لکھنوی

دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے

بہزاد لکھنوی

ترے عشق میں زندگانی لٹا دی

بہزاد لکھنوی

ان کو بت سمجھا تھا یا ان کو خدا سمجھا تھا میں

بہزاد لکھنوی

محبت مستقل کیف آفریں معلوم ہوتی ہے

بہزاد لکھنوی

فریاد ہے اب لب پر جب اشک فشانی تھی

بہزاد لکھنوی

خوشی محسوس کرتا ہوں نہ غم محسوس کرتا ہوں

بہزاد لکھنوی

خدا کو ڈھونڈ رہا تھا کہیں خدا نہ ملا

بہزاد لکھنوی

چشم حسیں میں ہے نہ رخ فتنہ گر میں ہے

بہزاد لکھنوی

تجھ پر مری محبت قربان ہو نہ جائے

بہزاد لکھنوی

اک بے وفا کو درد کا درماں بنا لیا

بہزاد لکھنوی

اک بے وفا کو پیار کیا، ہائے کیا کیا

بہزاد لکھنوی

مدینے کو جائیں یہ جی چاہتا ہے

بہزاد لکھنوی

ہم مدینے سے اللہ کیوں آگئے قلب حیراں کی تسکیں وہیں رہ گئی

بہزاد لکھنوی

درخیر الوری کی آرزو ہے

بہزاد لکھنوی