Mujh Sa Nah Day Zamane Ko Parvar-digaar Dil

مجھ سا نہ دے زمانے کو پروردگار دل

مجھ سا نہ دے زمانے کو پروردگار دل

آشفتہ دل فریفتہ دل بے قرار دل

ہر بار مانگتی ہیں نیا چشم یار دل

اک دل کے کس طرح سے بناؤں ہزار دل

مشہور ہو گئی ہے زیارت شہید کی

خوں کشتہ آرزو کا بنا ہے مزار دل

یہ صید گاہ عشق ہے ٹھہرائیے نگاہ

صیاد مضطرب سے نہ ہوگا شکار دل

طوفان نوح بھی ہو تو مل جائے خاک میں

اللہ رے غبار ترا پر غبار دل

پوچھا جو اس نے طالب روز جزا ہے کون

نکلا مری زبان سے بے اختیار دل

کرتے ہو عہد وصل تو اتنا رہے خیال

پیمان سے زیادہ ہے ناپائیدار دل

تاثیر عشق یہ ہے ترے عہد حسن میں

مٹی کا بھی بنائیں تو ہو بے قرار دل

اس کی تلاش ہے کہ نظر آئے آرزو

ظالم نے روز چاک کئے ہیں ہزار دل

عالم ہوا تمام رہا اس کو شوق حور

برسائے آسمان سے پروردگار دل

پہلے پہل کی چاہ کا کیجے نہ امتحاں

آنا تو سیکھ لے ابھی دو چار بار دل

نکلے مری بغل سے وہ ایسے تڑپ کے ساتھ

یاد آ گیا مجھے وہیں بے اختیار دل

اے عندلیب تجھ کو لگے کب ہوائے عشق

کلیوں کی طرح تجھ میں نہ پھوٹے ہزار دل

عاشق ہوئے وہ جیسے عدو پر یہ حال ہے

رکھ کہہ کے ہاتھ دیکھتے ہیں بار بار دل

اس نے کہا ہے صبر پڑے گا رقیب کا

لے اور بے قرار ہوا بے قرار دل

بیتاب ہو کے بزم سے اس کی اٹھا دیا

غافل میں ہوں مگر ہے بہت ہشیار دل

مشہور ہیں سکندر و جم کی نشانیاں

اے داغؔ چھوڑ جائیں گے ہم یادگار دل

داغؔ دہلوی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(320) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of DAGH DEHLVI, Mujh Sa Nah Day Zamane Ko Parvar-digaar Dil in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 125 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.1 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of DAGH DEHLVI.