Kashish Har Aik Ko Har Aik Ko Talism Diya

کشش ہر ایک کو ہر ایک کو طلسم دیا

کشش ہر ایک کو ہر ایک کو طلسم دیا

جہا ں کو اسم تو آب و ہوا کو جسم دیا

تو کیا اسے بھی اندھیرے سے خوف آتا تھا

مہیب شب نے سحر کی دعا کو جسم دیا

عجیب لمحے تھے جب میں سمے سے باہر تھا

خموشی ایسی تھی جس نے صدا کو جسم دیا

مجھے تو یوں لگا جیسے کہ ہو بہو تو ہے

تصورات نے جب بھی حیا کو جسم دیا

نجانے پیشِ نظر کون سی تمنا تھی

دعا کو پر دیے میں نے خلا کو جسم دیا

جب اس کو توڑ دیا خود بھی ٹوٹ ٹوٹ گیا

شکستگی کے لیے کیوں انا کو جسم دیا

نفس کو جیسے ہوا اور ہوا کو جیسے نفس

دیئے کو جسم ضیا تو ضیا کو جسم دیا

طریرؔ ذہن نے کی بارہا نفی لیکن

مرے خیال نے اکثر خدا کو جسم دیا

دانیال طریر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(307) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Daniyal Tareer, Kashish Har Aik Ko Har Aik Ko Talism Diya in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Hope Urdu Poetry. Also there are 56 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.2 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Daniyal Tareer.