Parda Daar Hasti Thi Zaat Ke Samandar Mein

پردہ دار ہستی تھی ذات کے سمندر میں

پردہ دار ہستی تھی ذات کے سمندر میں

حسن خوب کھل کھیلا اس صفت کے منظر میں

حسن عشق میں ہے یا عشق حسن میں مضمر

جوہر آئنے میں یا آئینہ ہے جوہر میں

عشق محشر آرا کی طور پر گری بجلی

حسن لن ترانی کہ رہ سکا نہ چادر میں

دیکھ اے تماشائی گل ہے رنگ و بو بالکل

امتیاز نا ممکن ہے عرض سے جوہر میں

گل میں اور بلبل میں کون جانے کیا گزری

چشم پوش مستی تھی اس برہنہ منظر میں

اپچی بناتے ہیں حسن کو سخن گو کیوں

کاٹ ان اداؤں کا کب ہے تیغ و خنجر میں

فرط سوز الفت میں دیکھ کر سکوں دل کا

بجلیاں مچلتی ہیں بادلوں کے محشر میں

چارہ گر کو حیرت ہے ارتقائے وحشت سے

پاؤں میں جو چکر تھا آ رہا ہے وہ سر میں

حسرت آرمان کی ہو کہنا سے گنجائش

ہے وہی مرے دل میں ہے وہی مرے سر میں

ہوں وہ رند یا صوفی مست اس کی دھن میں ہیں

جانے کتنے مے خانے بھر دیے ہیں کوثر میں

چرخ کیا اتر آیا آج فرش گیتی پر

رند بھی ہیں چکر میں مے کدہ بھی چکر میں

مے وہ ہوش پر افگن اور نظر وہ صہبا پاش

مست کیوں نہ ہو کیفیؔ ایک دو ہی ساغر میں

دتاتریہ کیفی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(330) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Dattatriya Kaifi, Parda Daar Hasti Thi Zaat Ke Samandar Mein in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 60 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.2 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Dattatriya Kaifi.