Ankh Main Khawab Zamane Se Alag Rakha Hai

آنکھ میں خواب زمانے سے الگ رکھا ہے

آنکھ میں خواب زمانے سے الگ رکھا ہے

عکس کو آئنہ خانے سے الگ رکھا ہے

گھر میں گلدان سجائے ہیں تری آمد پر

اور اک پھول بہانے سے الگ رکھا ہے

کچھ ہوا میں بھی چلانے کے لئے رکھا جائے

اس لیے تیر نشانے سے الگ رکھا ہے

اس کے ہونٹوں کو نہیں آنکھ کو دی ہے ترجیح

پیاس کو پیاس بجھانے سے الگ رکھا ہے

غیر ممکن ہے کسی اور کے ہاتھ آ جائے

وہ خزانہ جو خزانے سے الگ رکھا ہے

اک ہوا سی کہیں باندھی ہے چھپانے کے لئے

اک تماشا سا لگانے سے الگ رکھا ہے

خواب ہی خواب میں تعمیر کیا ہے آزرؔ

گھر کو بنیاد اٹھانے سے الگ رکھا ہے

دلاور علی آذر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1942) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Dilawar Ali Aazar, Ankh Main Khawab Zamane Se Alag Rakha Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa Urdu Poetry. Also there are 33 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.5 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Dilawar Ali Aazar.