مشہور شاعر ڈاکٹر سید بسمل جلالوی کی شاعری ۔ نظمیں اور غزلیں

زہر کو ہم دوا نہیں کہیتے

ڈاکٹر سید بسمل جلالوی

تمہارے پیار کو دل سے اگر جدا کرتے

ڈاکٹر سید بسمل جلالوی

طوفان حادثات کو اپنا رہا ہوں میں

ڈاکٹر سید بسمل جلالوی

تدبیر کے جلوے پہنے ہیں تقدیر کا دامن چھوڑ دیا

ڈاکٹر سید بسمل جلالوی

صلہ جو پیار کا نفرت ہے کوئی بات نہیں

ڈاکٹر سید بسمل جلالوی

شراب فراق نہ ٹلتی تو کب سحر ہوتی

ڈاکٹر سید بسمل جلالوی

شہر طلب بھی جل گیا آہ جو بے شمار کی

ڈاکٹر سید بسمل جلالوی

پیکان غم جو دل میں در آیا تو روپڑا

ڈاکٹر سید بسمل جلالوی

نت نئے رنگ مقدر کو دکھاتے دیکھوں

ڈاکٹر سید بسمل جلالوی

مجھ سے بچھڑ کے وہ مجھے تنہائی دے گیا

ڈاکٹر سید بسمل جلالوی

محفل سے ان کی درد لیا کیا برا کیا

ڈاکٹر سید بسمل جلالوی

لوگوں میں رہ گئی ہے وفا کم بہت ہی کم

ڈاکٹر سید بسمل جلالوی

کیوں پوچھتے ہو ہم سے کہ کیوں دربدر گئے

ڈاکٹر سید بسمل جلالوی

کسی سے ذکر محبت کیا نہیں کرتے

ڈاکٹر سید بسمل جلالوی

خوبی حسن سوالات نے دل توڑ دیا

ڈاکٹر سید بسمل جلالوی

جلوہ یار میں کیا شان پذیرائی ہے

ڈاکٹر سید بسمل جلالوی

برائے نام بھی مرگ طلب کا نام نہ لے

ڈاکٹر سید بسمل جلالوی

آپ کا کس کو انتطار نہیں

ڈاکٹر سید بسمل جلالوی

آگ لگی ہے دل میں وہ جس کو نہ ہم بجھا سکے

ڈاکٹر سید بسمل جلالوی