Mujhe Aik Baat Kehni Hai

مجھے اک بات کہنی ہے

مجھے اک بات کہنی ہے

زمانہ وہ بھی گزرا ہے

کبھی گھنٹوں

مجھی سے وہ مسلسل بات کرتی تھی

مجھی سے کہتی رہتی تھی

ابھی تم فون مت رکھنا

بھرا دل ہے نہیں میرا

ابھی وہ بات باقی ہے

جو لب تک آکے اکثر لوٹ جاتی ہے

دھڑکنے لگتا ہے یہ دل

گرجتے بادلوں جیسا

مگر کہنا ضروری ہے

ابھی تم فون مت رکھنا

وہ کہتی تھی سنوجاناں مجھے تم بھول مت جانا

چمک شہروں کی پا کر لوگ اکثر بھول جاتے ہیں

اُجالے کے نشے میں اِس طرح خود کو گنواتے ہیں

دئیے کی روشنی تک بھی نہیں پھر یاد رہتی ہے

خدا کے واسطے ایسا نہیں کرنا

وہ سب کچھ ذہن و دل میں نقش ہے میرے

مجھے سب یاد ہے لیکن

جسے سن کر مری آنکھوں سے موتی گرنے لگتے تھے

مرے لہجے کی لرزش سے مگر وہ بھانپ جاتی تھی

مجھے فوراًہنساتی تھی

یہ اکثر کہتی رہتی تھی

مجھے اک بات کہنی ہے

ابھی تم فون مت رکھنا

ابھی تو رات باقی ہے

ابھی تو بات باقی ہے

ابھی تو جھیل کی کشتی میں کوئی چاند سا چہرہ نہیں اُترا

ابھی تو عاشقوں کے دل میں شعلہ بھی نہیں بھڑکا

ابھی تو راہ گیروں کے مقدر میں سفر ہوگا

ابھی دل کی کوئی بھی بات کا کہنا نہیں اچھا

جسے سننے کی چاہت آئے دن پروان چڑھتی تھی

بہانے سے مگر ہر بار وہ باتوں کا ہی رخ موڑ دیتی تھی

مگر اکثر یہ کہتی تھی

مجھے اک بات کہنی ہے

مَیں فرصت کے کسی لمحے میں جب محسوس کرتی ہوں

تمہیں اُس وقت اپنے پاس اپنی باہوں میں بے باک پاتی ہوں

مجھے تم زندگی کی انتہا معلوم ہوتے ہو

مگر اِس انتہا کی اصل میں بنیاد ہی کیا ہے

مجھے اک بات کہنی تھی

مجھے اک بات کہنی ہے

مگر حالات نے موسم دلوں کے ہیں بدل ڈالے

کیا اُس دن بھی اُس نے فون اپنے وقت پر لیکن

نہ تھی وہ بات پہلی سی

نہ تھا انداز پہلا سا

نہ تو وہ بانکپن ہی تھا

ہوا محسوس مجھ کویہ

مسلسل روئی ہے وہ پھر

سبب جب پوچھنا چاہا

مگر کچھ بھی نہ وہ بولی

خموشی نے سُنا ڈالی کہانی سب

جسے سوچا نہ تھا مَیں نے

اُجڑتی دیکھ کر دنیا

بکھرنے لگ گیا تھا مَیں

بہت مایوس تھا اُس دن

کہا مَیں نے

کہو وہ بات مجھ سے تم

مجھے وہ بات سننی ہے

کہا اُس نے

نہیں ہے فائدہ کوئی

کوئی مطلب نہیں ہے اب

خیال سدا رکھنا

ہمیشہ وقت پر اُٹھنا

ہمیشہ وقت پر کھانا

کسی بھی اجنبی لڑکی سے ملتے ہی

اُسے تم دل نہ دے دینا

کوئی بھی فیصلہ کرنا

بہت ہی سوچ کر کرنا

وفا کا ذکر سننا تومجھے تم بے وفا کہنا

کبھی تم فون مت کرنا

خدا کے واسطے تم فون مت کرنا

ڈاکٹر آفتاب عرشی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(706) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Dr. AFTAB ARSHI, Mujhe Aik Baat Kehni Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Islamic, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 15 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.7 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Islamic, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Dr. AFTAB ARSHI.