Jinay Ke Liye Jo Mar Rahe Hain

جینے کے لیے جو مر رہے ہیں

جینے کے لیے جو مر رہے ہیں

آغاز حیات کر رہے ہیں

ہے حسن کا نام مفت بدنام

لوگ اپنی طلب میں مر رہے ہیں

غنچوں کی طرح کھلے تھے کچھ لوگ

کرنوں کی طرح بکھر رہے ہیں

ہے نقش قدم پہ نقش زنجیر

دیوانے جدھر گزر رہے ہیں

سنتا ہوں کہ آپ کے وفادار

انجام وفا سے ڈر رہے ہیں

ساحل کو بھی چھوڑتے نہیں لوگ

کشتی پہ بھی پاؤں دھر رہے ہیں

اب دشت میں نرم رو ہوا سے

کچھ نقش قدم نکھر رہے ہیں

روحوں میں نئی سحر کے باعث

ذہنوں کے نشے اتر رہے ہیں

ہم جیسے تمام نام لیوا

دھبا ترے نام پر رہے ہیں

خوشبو سے لدی بہار میں بھی

ہم درد سے بہرہ ور رہے ہیں

ہر دور کے فن شناس دانشؔ

ناکام حصول زر رہے ہیں

احسان دانش

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1460) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Ehsan Danish, Jinay Ke Liye Jo Mar Rahe Hain in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 66 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.7 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Ehsan Danish.