Ranai Konain Se Be-zar Hamin Thay

رعنائی کونین سے بے زار ہمیں تھے

رعنائی کونین سے بے زار ہمیں تھے

ہم تھے ترے جلووں کے طلب گار ہمیں تھے

ہے فرق طلب گار و پرستار میں اے دوست

دنیا تھی طلب گار پرستار ہمیں تھے

اس بندہ نوازی کے تصدق سر محشر

گویا تری رحمت کے سزاوار ہمیں تھے

دے دے کے نگاہوں کو تصور کا سہارا

راتوں کو ترے واسطے بیدار ہمیں تھے

بازار ازل یوں تو بہت گرم تھا لیکن

لے دے کے محبت کے خریدار ہمیں تھے

کھٹکے ہیں ترے سارے گلستاں کی نظر میں

سب اپنی جگہ پھول تھے اک خار ہمیں تھے

ہاں آپ کو دیکھا تھا محبت سے ہمیں نے

جی سارے زمانے کے گنہ گار ہمیں تھے

ہے آج وہ صورت کہ بنائے نہیں بنتی

کل نقش دو عالم کے قلم کار ہمیں تھے

پچھتاؤگے دیکھو ہمیں بیگانہ سمجھ کر

مانوگے کسی وقت کہ غم خوار ہمیں تھے

ارباب وطن خوش ہیں ہمیں دل سے بھلا کر

جیسے نگہ و دل پہ بس اک بار ہمیں تھے

احسانؔ ہے بے سود گلہ ان کی جفا کا

چاہا تھا انہیں ہم نے خطاوار ہمیں تھے

احسان دانش

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1168) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Ehsan Danish, Ranai Konain Se Be-zar Hamin Thay in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 66 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 5 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Ehsan Danish.