مشہور شاعر اعجاز رحمانی کی شاعری ۔ نظمیں اور غزلیں

ہنسی لبوں پہ سجائے اداس رہتا ہے

اعجاز رحمانی

نقش بر آب ہو گیا ہوں میں

اعجاز رحمانی

ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں

اعجاز رحمانی

مٹ گیا غم ترے تکلم سے

اعجاز رحمانی

کتنے باہوش ہو گئے ہم لوگ

اعجاز رحمانی

ظالم سے مصطفیِ کا عمل چاہتے ہیں لوگ

اعجاز رحمانی

سائے میں آبلوں کی جلن اور بڑھ گئی

اعجاز رحمانی

رنگ موسم کے ساتھ لائے ہیں

اعجاز رحمانی

خشک دریا پڑا ہے خواہش کا

اعجاز رحمانی

اسے یہ حق ہے کہ وہ مجھ سے اختلاف کرے

اعجاز رحمانی

اب کرب کے طوفاں سے گزرنا ہی پڑے گا

اعجاز رحمانی