Mere Samne Khari Thi Mujhe Dekhne Lagi Thi

مِرے سامنے کھڑی تھی، مجھے دیکھنے لگی تھی

مِرے سامنے کھڑی تھی، مجھے دیکھنے لگی تھی

وہ شبیہِ غم کہ جس میں مِری ذات دِکھ رہی تھی

نہ وہ ہو سکا شناسا، نہ رہی وہ اجنبیت

نہ بُلا سکے غموں میں، نہ خوشی میں کچھ خوشی تھی

مَیں رفیقِ غم نہیں ہوں، مَیں فریقِ غم نہیں ہوں

مِرا تجھ سے ربطِ باہم مری اپنی بے کلی تھی

جو لٹے تو قافلے میں کئی لوگ رو پڑے تھے

مَیں ہنسا کہ اس میں کیا تھا، مجھے غم سے آگہی تھی

مَیں جدا تھا اپنے غم سے، شبِ غم کے زیر و بم سے

مجھے صاف دِکھ رہا تھا مری ذات بٹ گئی تھی

بھلا خوف کس لیے اب کہ یہ پہلے طے ہوا تھا

یہی غم تو راستہ تھا، یہی غم تو راستی تھی

جو مناسکِ محبت ہی ادا نہ کر سکے تو

بے وجہ سفر کیا تھا بے وجوہ سعی کی تھی

مجھے خود پہ ترس آیا تو اسے نجات دے دی

مجھے کرب دے رہی تھی، یہ عجیب دوستی تھی

مَیں بھلا شریکِ غم کو یہ کہوں کہ دل نہ کھولے

مجھے خوف آ رہا تھا، مری سانس رک رہی تھی

جو شعور سے ملا تھا اسے تج کے چل پڑا تھا

جو مجھے چلا رہی تھی وہ تو میری بے خودی تھی

جو عماد رو دیا ہے تو ٹھٹھک گئے ہو تم سب

جو ہنسا تھا کھلکھلا کے، تمہیں تب خبر ہوئی تھی؟

عماد احمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(627) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Emad Ahmad, Mere Samne Khari Thi Mujhe Dekhne Lagi Thi in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 22 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 5 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Emad Ahmad.