Mujh Ko Yeh Fikar Kab Hai Ke Saya Kahan Gaya

مجھ کو یہ فکر کب ہے کہ سایہ کہاں گیا

مجھ کو یہ فکر کب ہے کہ سایہ کہاں گیا

سورج کو رو رہا ہوں خدایا کہاں گیا

پھر آئنے میں خون دکھائی دیا مجھے

آنکھوں میں آ گیا تو چھپایا کہاں گیا

آواز دے رہا تھا کوئی مجھ کو خواب میں

لیکن خبر نہیں کہ بلایا کہاں گیا

کتنے چراغ گھر میں جلائے گئے نہ پوچھ

گھر آپ جل گیا ہے جلایا کہاں گیا

یہ بھی خبر نہیں ہے کہ ہم راہ کون ہے

پوچھا کہاں گیا ہے بتایا کہاں گیا

وہ بھی بدل گیا ہے مجھے چھوڑنے کے بعد

مجھ سے بھی اپنے آپ میں آیا کہاں گیا

تجھ کو گنوا دیا ہے مگر اپنے آپ کو

برباد کر دیا ہے گنوایا کہاں گیا

فیصل عجمی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(666) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Faisal Ajami, Mujh Ko Yeh Fikar Kab Hai Ke Saya Kahan Gaya in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love Urdu Poetry. Also there are 52 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.7 out of 5 stars. Read the Love poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Faisal Ajami.